پاکستان کا ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے، سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ

ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت کو مجروح کرنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیں گے: قومی سلامتی کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی ختم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعہ کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں قومی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے فوری بعد نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ کابینہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کسی بھی ہمسائے سے کشیدگی نہیں چاہتا جبکہ ایران بھی کشیدہ صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایران کا غلط قدم کا جواب دیا۔ کابینہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ایران کے ساتھ تمام مسائل مل کر حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا، جبکہ اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

اس سے قبل قومی سلامتی کمیٹی نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدس ہے اور کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے مجروح کرنے کی کوشش کا ریاست کی طرف سے پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ متعدد مواصلاتی ذرائع کو علاقائی امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لئے باہمی طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔

قومی سلامتی کمیٹی پاکستان حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی فورم ہے، جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت اہم معاملات پر فیصلے کرتی ہے۔ اجلاس کے دوران شرکاء کو پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال اور خطے میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

اس فورم نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال اور غیر قانونی خلاف ورزی کے جواب میں افواج پاکستان کے پیشہ وارانہ، متعین اور متناسب ردعمل کو سراہا۔

فورم نے ’’آپریشن مرگ بر سرمچار‘‘ کا بھی جائزہ لیا جسے ایران کے اندر حکومتی عمل داری سے باہر مقامات پر مقیم پاکستانی نژاد بلوچ دہشت گردوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ سرحدوں کی تازہ ترین صورتحال اور قومی خودمختاری کی مزید خلاف ورزی کا جامع جواب دینے کے لئے ضروری مکمل تیاریوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔

فورم نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدس ہے اور کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے مجروح کرنے کی کوشش کا ریاست کی طرف سے پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

فورم نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران ایک ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہونے کے ناطے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ متعدد مواصلاتی ذرائع کو علاقائی امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لئے باہمی طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔

اجلاس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ہر قسم کی دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی اس لعنت سے کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ اچھی ہمسائیگی کے تعلقات کے عالمی اصولوں کے مطابق دونوں ممالک باہمی طور پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے معمولی مسائل پر قابو پا سکیں گے اور اپنے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔

اجلاس میں نگران وزرائے دفاع، خارجہ امور، خزانہ اور اطلاعات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف نیول سٹاف اور چیف آف ائیر سٹاف کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں