انٹرنیٹ سروسز میں تعطل تکنیکی خرابی کی وجہ سے آیا: پی ٹی اے

ملک بھر میں انٹرنیٹ و سوشل میڈیا ایپس کی سروسز کئی گھنٹے متاثر رہنے کے بعد بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی ’’پی ٹی اے‘‘ کا کہنا ہے ملک میں تکنیکی وجوہات کے باعث انٹرنیٹ سروسز میں تعطیل آیا۔

پاکستان تحریک انصاف ’پی ٹی آئی‘ کے ورچوئل جلسے کے دوران ملک میں انٹرنیٹ سروسز میں تعطل آنے کے حوالے سے پی ٹی اے کی وضاحت سامنے آئی ہے۔

پی ٹی اے کے بیان کے مطابق عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گذشتہ روز انٹرنیٹ میں جو تعطل آیا اس کی وجہ تکنیکی خرابی تھی جسے درست کرکے انٹرنیٹ کو ملک بھر میں مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں ہفتے کی شام کو انٹرنیٹ سروسز میں اس وقت تعطیل آیا جب تحریک انصاف کے ورچوئل جلسے کا آغاز ہونا تھا۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ دسمبر میں بھی پی ٹی آئی کے آن لائن جلسے کے موقع پر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی تھیں۔

پاکستان بھر کے انٹرنیٹ و سوشل میڈیا صارفین نے 20 جنوری کی شام انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی میں رکاوٹ کی شکایات کیں۔

پاکستان میں ہفتے کو انٹرنیٹ سروسز کے تعطل کے حوالے سے انٹرنیٹ و سوشل میڈیا سروسز پر نظر رکھنے والے ادارے "نیٹ بلاکس" کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر صارفین کے پاس شام ساڑھے چھ بجے کے بعد ابتدائی طور پر سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشن کی رفتار سست اور متاثر ہونا شروع ہوئی۔

صارفین نے فیس بک سمیت ایکس(سابقہ ٹوئٹر) کے سست چلنے کی شکایات کیں، بعض افراد نے واٹس ایپ سمیت دیگر ایپلی کیشن کے بھی متاثر ہونے کی شکایات کیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے انٹرنیٹ صارفین نے اپنا انٹرنیٹ بھی بار بار متاثر ہونے کی شکایت کیں۔ انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا سروسز کے تعطل کی شکایات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ورچوئل جلسے کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔

دریں اثنا، وکیل اور معروف انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے محض ایک ماہ کے عرصے میں ملک میں تیسری مرتبہ ملک گیر انٹرنیٹ کی بندش کو شرمناک قرار دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں جبران ناصر نے کہا کہ ہماری آزادی، ہمارا آئین، ہماری معیشت یہ سب اسٹیبلشمنٹ اور اس کٹھ پتلی وفاقی حکومت کے لیے ایک مذاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بندشیں آئین کے آرٹیکل 10، 18، 19 اور 25 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پی ٹی اے کے پاس انٹرنیٹ بند کرنے یا سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں اس بندش کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے نگران وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی عمر سیف اور پی ٹی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ کیا سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کو عارضی طور پر بلاک کرنا ایک سرکاری پالیسی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ یہ کس قانون کے تحت ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کا حکم کون دے رہا ہے؟ کیا اس سے ڈیجیٹل معیشت میں مدد ملتی ہے؟۔

انٹرنیٹ کی اسی طرح کی بندش کا سامنا سات جنوری کو اس وقت بھی دیکھنے کو ملا تھا جب پی ٹی آئی نے ایک ورچوئل فنڈ ریزنگ ٹیلی تھون کا انعقاد کیا تھا۔

تاہم ان الزامات کے برعکس، پی ٹی اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہفتے کی شام کو تکنیکی وجوہات کے باعث انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز تعطل کا شکار ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں