اقوام متحدہ میں فلسطین کو مکمل رکن کا درجہ دیا جائے: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسئلے کے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے۔

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’مشرق وسطیٰ کی صورت حال بشمول مسئلہ فلسطین‘ کے عنوان سے وزارتی سطح کی بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہا: ’دو ریاستی حل کی ناگزیریت کو یقینی بنانے کے لیے اب یہ وقت ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کیا جائے۔‘

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

منیر اکرم نے اس حوالے سے کہا: ’گذشتہ تین ماہ کے دوران دنیا نے 21 ویں صدی میں عام شہریوں کے سب سے وحشیانہ قتل عام کا مشاہدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’بے گناہوں کا یہ وحشیانہ قتل اور پوری آبادی پر مسلط اذیت نسل کشی کے مترادف ہے جیسا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے۔‘

پاکستانی مندوب نے غزہ کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی قرادادوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’یہ افسوس ناک ہے کہ سلامتی کونسل میں تقریباً متفقہ ووٹوں اور جنرل اسمبلی کی طرف سے دو قراردادوں کے مطالبے کے باوجود بین الاقوامی برادری ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والی اس نسل کشی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تشدد اور جنگ ملحقہ علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ ’جب تک اسرائیل کی جنگی مشین کو روکا نہیں جاتا اس میں مزید شدت آنے کا امکان ہے جس میں بہت سی قومیں لپیٹ میں آسکتی ہیں۔‘

اس سلسلے میں ’سلامتی کونسل پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اسرائیل کی جنگ اور غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف مظالم کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں ہونے والی بربریت کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘

بقول منیر اکرم:’ بدقسمتی سے عالمی رائے عامہ اور اپنے قریبی اتحادیوں اور اپنے بہت سے لوگوں کے مشورے کے باوجود انتہا پسند اسرائیلی قیادت وحشیانہ جنگ جاری رکھنے اور فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے امکان کو مسترد کرنے پر بضد ہے جس سے مشرق وسطیٰ کو نقصان پہنچے گا۔

’اب وقت آگیا ہے کہ سلامتی کونسل (فلسطین کے لیے) اقوام متحدہ کی پوری رکنیت کے لیے ایسے اقدامات پر غور کرے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ کونسل آخرکار ایک قرارداد منظور کر سکے گی جس میں غزہ کی محصور آبادی کے لیے انسانی امداد تک مکمل رسائی اور فلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

منیر اکرم نے تجویز دی کہ ’امن کی بحالی کا یہ عمل سلامتی کونسل کے فریم ورک کے اندر تمام متعلقہ ریاستوں اور سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اگر اسرائیلی قیادت اس سے انکار کرے تو سلامتی کونسل کی جنرل اسمبلی اور درحقیقت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو اس کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں