کروڑوں پاکستانی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں

مجموعی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی 855 نشستوں پر ملک بھر میں 17 ہزار 758 امیدوار میدان میں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان میں آج ہونے والے عام انتخابات 2024 میں آج ملک بھر میں 12 کروڑ سے زائد ووٹرز قومی اور صوبائی اسمبلی کی 855 نشستوں پر اپنا حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کے عمل کا آغاز آج صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور پولنگ کا یہ عمل بلا تعطل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے 12 کروڑ 79 لاکھ 21 ہزار 49 رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی 855 نشستوں پر ملک بھر میں 17 ہزار 758 امیدوار میدان میں ہیں جن میں ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

ان میں کئی امیدوار ایک سے زیادہ نشستوں کے لیے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اور یوں مجموعی نشستیں جن پر مقابلہ ہو رہا ہے کی تعداد 1125 بنتی ہے۔

انتخابات میں قومی اسمبلی کی 266 اور چار صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 571 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

براہ راست ووٹنگ کے ذریعے پُر ہونے والی ان نشستوں کے علاوہ قومی اسمبلی کی 70 مخصوص نشستیں (60 خواتین اور 10 غیر مسلموں کے لیے) بعدازاں نو منتخب ایوان میں ہر پارٹی کے اراکین کی تعداد کے مطابق الاٹ کی جاتی ہیں۔

شام پانچ بجے پولنگ کے اختتام کے بعد ہر پولنگ سٹیشن میں ووٹوں کی گنتی شروع ہو گی اور تقریباً اسی رات نو بجے کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔

تاہم سرکاری اور حتمی نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹنگ ڈے کے بعد 14 روز میں گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے جاری کرنے کا پابند ہے۔

الیکشن کے انتظامات

اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، جن میں تقریباً تین لاکھ پولنگ بوتھ موجود ہیں۔

اکثر حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے لیے الگ الگ پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں لیکن کچھ مشترکہ سٹیشن بھی ہیں۔ تاہم پولنگ بوتھ مرد اور خواتین کے لیے ہر جگہ الگ الگ ہیں۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ کئی دوسری پارٹیوں نے بھی آج کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

الیکشن کمیشن نے الیکشنز میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کو انتخابی نشانات جاری کیے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن سمبل الاٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث اس کے ہزاروں امیدوار الگ الگ نشانات کے ساتھ آزاد حیثیت میں انتخابی دنگل میں حصہ لے رہے ہیں۔

سکیورٹی انتظامات و خدشات

پاکستان کے نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں مسلح افواج کی مدد سے ملک میں پر امن اور شفاف الیکشن کا انعقاد کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ’نگران حکومت کو انتخابات کی ذمہ داری ملی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ الیکشن کے عمل میں کسی صورت خون خرابہ نہ ہو۔‘

وفاقی وزیر نے کہا: ’ملک بھر میں الیکشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔ سندھ اور بالخصوص کراچی میں الیکشن لڑنے والی جماعتیں کافی سالوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہیں لیکن سکیورٹی ادارے اور انتظامیہ موجود ہے اور کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھی ہمیں ان طاقتوں سے خطرہ ہے جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ وہاں سکیورٹی اور امن و امان کے لیے پولیس اور اس کے پیچھے مسلح افواج ہیں اور آرمی کے کمانڈوز بھی بلوچستان میں موجود ہوں گے۔

نگران وزیر داخلہ نے انتخابی مہم کے دوران بعض ناخوشگوار واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کراچی اور باجوڑ واقعے پر بہت تکلیف ہوئی، ہمیں ڈرانے کے لیے ساری کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

گوہر اعجاز نے بتایا کہ ’حساس پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور سکیورٹی کے تین درجوں میں انتظامات کیے ہیں۔

’29 ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، 44 ہزار پولنگ سٹیشنز کو نارمل ڈکلیئر کیا ہے جب کہ 16 ہزار 766 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمیں امید نہیں یقین ہے کہ یہ الیکشن صاف، شفاف اور پرامن طریقے سے ہوں گے، ہماری پانچ لاکھ 11 ہزار پولیس فرنٹ پر کھڑی ہے، ہر زندگی کی حفاظت کرنا ہمارا پہلا فرض ہے، جو ذمہ داری نگران سیٹ اپ کے پاس ہے وہ پوری کی جائے گی۔‘

پولنگ کے دن انٹرنیٹ کی ممکنہ بندش کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ ’اگر کسی ضلع یا صوبے کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کی درخواست کی گئی تو ہم مخصوص علاقوں میں ایسا کرنے پر غور کریں گے کیوں کہ دہشت گرد رابطوں کے لیے وٹس ایپ اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔‘

الیکشن مینیجمنٹ سسٹم

انتخابات کے عمل کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیےالیکشن کمیشن نے اپنا الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) متعارف کرایا ہے، ایک خودکار اور جدید انتظامی نظام ہے اور انتخابی نتائج کی ٹیبلیشن، ترسیل، تالیف اور ٹیبلولیشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

الیکسن کمیشن نے آج پولنگ ڈے سے تقریباً تین ہفتے قبل اس سسٹم کی فرضی مشق کی تھی۔

آج شام پولنگ اور بعدازاں ووٹوں کی گنتی ختم ہونے کے بعد ریٹرننگ افسران پریزائیڈنگ افسران سے سنیپ شاٹ لے کر اپنی ای ایم ایس موبائل ایپلیکیشن سے ہر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے کے ایک سے دو صفحات کا نتیجہ بھیجنا شروع کرنے کو کہیں گے۔

بلاتعطل رابطے کو یقینی بنانے کے لیے ای ایم ایس ایکو سسٹم کو موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کی عدم دستیابی کی صورت میں نجی محفوظ نیٹ ورک پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے

ریٹرننگ افسران ان کو مہیا کردہ فارم 45 میں ڈیٹا انٹری کی تکمیل کے بعد فارم 47 تیار کریں گے، جس کے بعد پریذائیڈنگ افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 کی دستخط شدہ کاپی فراہم کریں۔

الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ریٹرننگ افسران کو پریذائیڈنگ افسران کی طرف سے بھیجے گئے نتائج کو صبح دو بجے تک مرتب کرنا چاہیے، جس کے بعد ریٹرننت افسران کو تمام امیدواروں کی موجودگی میں نتائج حوالے کرنے اور ان پر مہر لگانے سے پہلے نتائج کے لیے فارم 47، 48 اور 49 کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ریٹرننگ افسران اس بات کے بھی پابند ہیں کہ وہ فارم کی سکین شدہ کاپیاں فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیجیں اور ساتھ ہی اصل کاپیاں بھی جلد از جلد بھیجیں۔

یہ سارا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابات کے بعد 14 روز کے اندر حتمی نتائج کی اطلاع کرے گا۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن کمیشن پولنگ ڈے کے بعد 14 روز میں سرکاری اور حتمی نتائج کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا پابند ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں