رمضان المبارک کے دوران غزہ میں جنگ بندی کی جائے: پاکستان

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا تدارک کرکے مسئلہ کشمیر حل کرے تو بات چیت شروع کی جا سکتی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان نے غزہ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں رمضان المبارک کے دوران جنگ بندی کی جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

ممتاز زہرا کا مزید کہنا تھا کہ رمضان کی آمد پر فلسطینیوں پر پابندیوں کے خاتمے کے حامی ہیں، فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جدہ میں وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ اس اجلاس میں فلسطین میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا: ’کل دنیا میں خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر ہم کشمیر کی ان مضبوط خواتین کو یاد کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے غیر قانونی طور پر انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انڈین مظالم برادشت کیے۔‘

بقول ترجمان دفتر خارجہ: ’انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی برداشت کی ہے اور رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے جو ضروریات زندگی تک ان کی رسائی اور باوقار زندگی گزارنے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ ہیں۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’انڈین فورسز کی جانب سے اکثر جعلی مقابلوں کی وجہ سے بیوہ ہونے والی کشمیری خواتین کو اپنے شوہروں اور والد کے لیے سوگ منانے کا بھی وقت نہیں ملتا اور وہ اپنے اہل خانہ کی واحد کفیل بننے پر مجبور ہیں۔

’گھرانوں کے سربراہ خواتین کو معاشرے میں اضافی مشکلات اور باعزت ملازمتوں کی تلاش میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

اس موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت پر مظالم بند کئے جائیں۔

حریت رہنما آسیہ اندرابی، نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت انڈین جیلوں میں قید خواتین کارکنوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’کشمیری خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، جس میں پر امن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق بھی شامل ہے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں