پاکستان کے راولپنڈی میں سحری کے وقت فوڈ سٹریٹ کی رونقیں

کرتار پورہ فوڈ اسٹریٹ میں روایتی پکوان مثلاً نہاری، پائے اور کھیر اور قلفی جیسے میٹھے کے لیے ہجوم ہوتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے فوجی مرکز والے شہر راولپنڈی میں ریستوران اور خورونوش کی دکانوں کے مالکان آدھی رات کے قریب خصوصی انتظامات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چونکہ آج کل ماہِ رمضان کے دوران لوگ روزے رکھ رہے ہیں تو ان کا ہجوم روایتی پاکستانی پکوانوں سے انصاف کرنے کے لیے شہر کی مشہور کرتار پورہ فوڈ اسٹریٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔

19 ویں صدی میں کرتار پورہ اسٹریٹ راولپنڈی کے سکھ محلے اور شہر کے اہم تجارتی علاقے کا حصہ تھی لیکن گذشتہ چند عشروں میں یہ ایک فوڈ اسٹریٹ کی شکل اختیار کر گئی ہے اور گودے والے چھوٹے یا بڑے نرم گوشت جیسے کھانے کے لیے مشہور ہو گئی ہے جو نہاری کے نام سے معروف ہے۔ اور گائے یا بکری کے سر اور ٹانگوں سے بننے والا کا ایک روایتی ناشتا سری پائے رات بھر پکایا جاتا ہے۔

کھیر، قلفی اور لسی جیسے میٹھے اور تازگی بخش انار اور آلوچے کے مشروبات پورا مہینہ آدھی رات سے لے کر صبح تک کھانے کے شوقینوں کے جمِ غفیر کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

ایک مہمان عثمان احمد نے کہا، "یہ میرا یہاں پہلا تجربہ ہے۔ میں نے کرتار پورہ کے بارے میں بہت کچھ اور کئی لوگوں سے سنا ہے کہ سحری کافی خاص ہے اور ناشتہ منفرد ہے۔"

"تو یہ میرا یہاں پہلا موقع ہے اور میرا تجربہ بہترین اور شاندار رہا ہے کیونکہ یہاں کھانے کی کافی اقسام ہیں۔ آپ کو مختلف دکانوں پر مختلف ذائقوں کے ساتھ مختلف کھانے ملتے ہیں۔"

مصروف گلیوں میں خورونوش کی کئی دکانوں کے مالکان اور دکاندار شہر کے رہائشی نہیں ہیں لیکن وہ ہر سال رمضان المبارک میں لوگوں کی زیادہ آمدورفت کی وجہ سے اپنے دکانیں لگانے کے لیے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔

حتیٰ کہ ان میں سے کچھ دکانیں ملک میں کہیں اور کام کرنے والے خورونوش کے کاروباری افراد نے بھی لگائی ہیں۔

ایک خوانچہ فروش محمد حمزہ بھٹی نے کہا، "زیادہ تر لوگ یہاں اس لیے آتے ہیں کیونکہ [یہ] فوڈ اسٹریٹ مشہور ہے۔ اور گوجرانوالہ، لاہور اور دیگر دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں رمضان میں کھانے کی دکانیں لگانے آتے ہیں۔"

"لوگ جانتے ہیں کہ یہاں ہر قسم کا کھانا دستیاب ہے اسی لیے آپ کو یہاں ہجوم نظر آتا ہے۔"

تاہم چند صارفین قیمتوں میں اضافے کی شکایت کرتے ہیں جس نے اس رمضان میں ان کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔

241 ملین سے زائد آبادی کا ملک پاکستان اس وقت مہنگائی کے اثرات سے دوچار ہے جو گذشتہ سال مئی میں 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح تک پینچ گئی تھی البتہ اس سال فروری میں یہ 23.1 فیصد تک کم ہو گئی۔ لیکن یہ بدستور مہنگی ہے جس کی بنیادی وجہ توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں ہیں۔

ایک اور گاہک محمد عدنان نے کہا، "اس سال [یہاں] کوئی خاص رش نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ٹک ٹاک پر ہیں، وڈیوز بنا رہے ہیں اور کچھ نہیں۔ دوسری صورت میں صرف مہنگائی کی وجہ سے کوئی رش نہیں ہے۔"

"مہنگائی اس حد تک بڑھ گئی ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ایک پیالہ جس کی قیمت 400 روپے (1.43 ڈالر) تھی وہ 1,600 روپے (5.74 ڈالر) سے 1,800 روپے (6.45 ڈالر) میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایک فرد کا بل 2,000 روپے (7.17 ڈالر) سے کم نہیں ہوتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں