پاکستانی انسانی تنظیم کی غزہ کے 70 فلسطینی طلباء کی مدد کے لیے ماہانہ وظیفے کی پیشکش

طلباء کو یہ وطیفہ کم از کم چھے ماہ تک ملے گا: سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی ایک سرکردہ انسانی تنظیم نے غزہ کے 70 طلباء کو ماہانہ 25,000 روپے (90 ڈالر) کا وظیفہ فراہم کرنا شروع کر دیا ہے جو اس وقت مختلف مقامی تعلیمی اداروں میں داخل ہیں۔ اور تنظیم کے اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز ان کی تعلیم اور روزی برقرار رکھنے میں مدد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان سینکڑوں غیر ملکی طلباء کی میزبانی کرتا ہے جو بنیادی طور پر شرقِ اوسط سے آتے ہیں اور ملک بھر کے مختلف شہروں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ طلباء اکثر طب، انجینئرنگ اور کاروبار جیسے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے گذشتہ اکتوبر میں حالیہ فوجی مہم شروع کرنے سے پہلے بہت سے فلسطینی طلباء بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کو غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے اپنے خاندانوں سے مالی امداد حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جس میں 32,000 سے زیادہ افراد جاں بحق اور زیادہ تر رہائشی بے گھر ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں مشہور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے عرب نیوز کو بتایا، "اسرائیلی بمباری نے فلسطین بالخصوص غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے اور اس کے باشندے خوراک اور صحت کی نگہداشت جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ اس بحران کے درمیان پاکستان میں زیرِ تعلیم فلسطینی طلباء کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ان کے گھروں میں افرادِ خانہ تباہی کی وجہ سے نقلِ مکانی پر مجبور اور بے گھر ہو گئے ہیں۔ انہیں ان کے خاندان سے مالی تعاون نہیں مل رہا ہے۔"

انہوں نے بات جاری رکھی، "ان میں سے تقریباً 70 طلباء کا تعلق سب سے زیادہ متأثرہ علاقے غزہ سے ہے۔ ان کے سنگین حالات کو تسلیم کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ان 70 طلباء کو ضروری مالی امداد فراہم کرنے کے لیے پیش قدمی کی ہے جس سے وہ اپنی تعلیم اور روزی برقرار رکھ سکیں گے۔"

ایدھی نے بتایا کہ ہر طالب علم کو ابتدائی امدادی اقدام کے طور پر اگلے چھ ماہ کے لیے 25,000 روپے ماہانہ ملیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس تعاون کو مزید چھ ماہ تک بڑھایا جائے گا۔

پاکستان نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر غزہ میں جنگ بندی کا مسلسل مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی عوام میں بھی بہت زیادہ ہمدردی پائی جاتی ہے جو فلسطینی مقصد کی وسیع پیمانے پر حمایت کرتے ہیں اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں