ہمارے کچھ لوگ مخالفین سے رابطے میں ہیں جو پارٹی توڑنا چاہتے ہیں: عمران خان

مشرقی پاکستان کی طرح ہمارا مینڈیٹ کم کر کے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مشرقی پاکستان کی طرح ہمارا مینڈیٹ کم کر کے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں اپنے حصے کی پوری قربانی دوں گا، ہمارے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں اور پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں، وہی بشریٰ بی بی پر الزام لگا رہے ہیں۔ جس ملک میں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ ریفرنس بنانے پر چیئرمین نیب اور انعام شاہ کیخلاف کیس کروں گا، گراف جیولری سیٹ کی مالیت تین ارب ظاہر کر کے ہمیں سزا دی گئی، ہم نے گراف جیولری سیٹ کی مزید تین جگہ سے کوٹیشن لے لی ہے، کوٹیشنز کے مطابق گراف جیولری سیٹ کی قیمت ایک کروڑ 80 لاکھ روپے بنتی ہے، اگست میں جب مجھے پکڑا گیا تو پولیس میرے بیڈ روم میں داخل ہوئی، وہاں سے میرا پاسپورٹ اور چیک بک بھی لے گئے، بشریٰ بی بی نے بنی گالہ میں موجود قیمتی اشیاء کو اسی وجہ سے کہیں اور منتقل کر دیا تھا۔ انعام شاہ اور توشہ خانہ کے ایک ملازم کو آئی ایس آئی نے میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا۔

عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ میں سزا دلوانے کے لیے دبئی میں پارٹ ٹائم سیلز مین سے گراف جیولری سیٹ کی مالیت کا تخمینہ لگوایا گیا۔ اعلیٰ شخصیت نے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کو سزا دلوائی۔ فواد چودری پریس کانفرنس کر چکا تھا لیکن اس کے باوجود اسے وعدہ معاف گواہ بنانے کے لئے پکڑے رکھا، پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی آج پریس کانفرنس کر دیں تو ان کے کیسز ختم ہو جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسیٰ کو فیصل آباد کیس اور بھٹو کیس بھی یاد ہے، قاضی فائز عیسیٰ کو نظر نہیں آ رہا کہ لوگ جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ 18 مارچ کو مجھے جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔ 24 گھنٹے پہلے ہی جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک اوور کر لیا گیا تھا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس بہت سے لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے، بتایا جائے کیوں جوڈیشل کمپلیکس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی جا رہی۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ لندن پلان عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان تھا، لندن پلان کے لیے ججز کو بھی ساتھ ملایا گیا، آئی ایس آئی نے ججز کی تقرریاں کروائیں، جو ایسٹ پاکستان میں ہوا وہی آج یہاں ہو رہا ہے۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کا مینڈیٹ چوری کر کے ملک توڑا گیا۔ مجیب الرحمن کی اکثریت سے یحیی خان کی طاقت ختم ہو جاتی۔

حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجیب الرحمن الیکشن جیت گیا تھا۔مشرقی پاکستان کی طرح اب بھی ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس وقت بادشاہ پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور محسن نقوی وائسرائے بنا ہوا ہے۔شہباز شریف فیتے کاٹتا پھر رہا ہے اس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ملک کا معاشی طور پر بیڑا غرق ہونے لگا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ججز کہہ رہے ہیں کہ ایجنسیاں دھمکا رہی ہیں۔ آصف زرداری اور شریف فیملی کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں، آصف زرداری نے بیان دیا کہ ایک سیاسی جماعت فوج کا امیج خراب کر رہی ہے۔جب ہم اقتدار میں تھے تو فوج کا امیج اسمان پر تھا۔ فوج کا امیج اس دن خراب ہوا جب یہ چوروں کے ساتھ بیٹھے۔ زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا ہمیں جنرل احتشام اور جنرل باجوہ نے بتایا تھا۔ زرداری اور نواز شریف نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لی ان کا کیس کیوں نہیں سنا جا رہا۔ ساری قوم کو پتہ ہے کہ عاصم منیر ملک چلا رہا ہے۔

عمران خان نے انکشاف کیا کہ جنرل عاصم منیر کی تقرری سے پہلے عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں ہیں۔ میں نے عارف علوی کے ذریعے عاصم منیر کو ٹیلی فون کروایا تھا کہ مجھے اس کے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے۔ علی زیدی بھی رابطے میں تھا اس کے ذریعے بھی پیغام دیا تھا کہ نیوٹرل رہیں اور ملک کو چلنے دیں۔ ہمیں کہا گیا کہ فکر نہ کرو وہ نیوٹرل رہیں گے۔ میں کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا غلامی سے بہتر موت ہے۔

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو قاضی فائز عیسیٰ سے انصاف کی امید ہے ؟ جس پر عمران خان کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے کہ قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے میں اس پر کوئی رائے دینا نہیں چاہتا۔ آج ملک بدل چکا ہے اور لوگوں میں شعور آ چکا ہے۔ ہمیں غدار بنایا گیا، نو مئی میں پھنسایا گیا لیکن قوم نے اٹھ فروری کو بتا دیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔

کئی ججز، محسن نقوی، چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومت لندن پلان کا حصہ تھے۔ میں نے کبھی فوج سے لڑائی نہیں کی، جنرل باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ میں جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا لیکن نہیں کیا۔ ہم نے اس سب کے باوجود بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کے لیے کمیٹی بنائی۔صرف سپہ سالار فوج نہیں، وہ الیکشن لڑ کر نہیں آیا۔جنرل یحییٰ نے بھی اپنی طاقت کے لیے ملک کو تباہ کیا تھا۔جنرل یحیی مجیب سے بات کر لیتا تو سرنڈر نہ کرنا پڑتا۔

عمران خان نے کہا کہ آج دوبارہ الیکشن کروا لیں دوبارہ سب کو پتہ چل جائے گا۔ حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل باجوہ سے مل سکتا ہوں تو کسی سے بھی مل سکتا ہوں۔اس وقت میری ذات کا ایشو نہیں، پاکستان کا ایشو ہے، مجھے قائل کر لیں۔ موجودہ حالات میں عدلیہ بالکل بھی ازاد نہیں ہے۔

عمران خان سے پوچھا گیا کہ بشریٰ بی بی نے پہلے شہد میں کچھ ملانے کا کہا، آپ نے زہر دینے کا کہا، بشری بی بی نے دوبارہ کھانے میں ہارپک ملانے کا کہا۔

اس سوال پر عمران خان نے کہا کہ جب تک بشری بی بی کی انڈوسکوپی نہیں ہوتی کیسے کچھ پتہ چل سکتا ہے،جب کوئی چیز اندر چلی گئی تو بظاہر دیکھنے سے کچھ معلوم نہیں ہو سکتا۔

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اور بشری بی بی نے الزام آرمی چیف پر لگایا اگر کل ٹیسٹ کلیئر آیا تو کیا کہیں گے؟

اس پر عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف نے ہی میری بیوی کو ٹارگٹ کیا جس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ مجھے اور میری بیوی کو کچھ ہوتا ہے تو وہی ذمہ دار ہوں گے، جو قوم اپنی ازادی کے لیئے مرنے کے لیے تیار نہ ہو اس کو غلامی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ میں آج سیاست سے پیچھے ہو جاؤں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نون لیگ کا جنازہ نکلے گا جب قوم پر مہنگائی کی جائے گی۔

حکمران اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے۔ اس وقت امید صرف ججز سے ہے، چھ ججز جو کھڑے ہوئے انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ تمام ججز کو معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ججز ملک کے مستقبل کو بچائیں کیونکہ سرمایہ کاری صرف قانون کی بالادستی سے آ سکتی ہے۔ اس وقت قوم ججز کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ججز نے قانون کی بالادستی کو قائم کرنا ہے تو ہی ملک میں سرمایہ کاری آنی ہے۔

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پارٹی کے اندر کچھ لوگ ان پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ کیا یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر بنائی جانے والی کمیٹیوں کی تشکیل نو ہو رہی ہے؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ کمیٹیوں کی تشکیل روزمرہ کے سیاسی معاملات کے لئے ہے، حتمی فیصلے کور کمیٹی ہی کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں