پاکستانی دارالحکومت میں ذہنی صحت کے مریضوں کی نگہداشت کے لیے جدید ایمبولینس سروس

ذہنی مریضوں کو خصوصی نگہداشت فراہم کرنے والی منفرد ایمبریس ایمبولینس سروس کا آغاز 2021 میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسلام آباد سے صرف 30 منٹ کے فاصلے پر پنڈ بیگوال کے خوبصورت گاؤں میں واقع ایک منفرد ایمبولینس سینٹر پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اور اس کے اردگرد کے ذہنی مریضوں پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ایمبریس نامی اس سروس کو صحتِ عامہ کے ایک پیشہ ور اہلکار عبداللہ بن عباس نے کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا جبکہ گذشتہ مہینے اس کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔

یہ مرکز پاکستان کے اہم ذہنی صحت کے چیلنجوں سے نمٹتا ہے جہاں عالمی ادارۂ صحت کے 2023 کے اندازوں کے مطابق تقریباً 24 ملین لوگ متأثرہ ہیں۔

یہ سروس ذہنی مریضوں کے لیے خصوصی نقل و حمل فراہم کرتی ہے جن میں سے کئی مریض ایسے رویوں کا اظہار کرتے ہیں جو خاندانوں کے لیے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے مثلاً تنہائی یا خودکشی کے رجحانات۔

تین ایمبولینس گاڑیوں کے ساتھ یہ سروس احتیاط سے مریضوں کو مناسب نگہداشت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس طرح ملک میں ذہنی صحت کے مسائل سے منسلک بدنما داغ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مرکز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عباس نے منگل کو عرب نیوز کو بتایا، "جب سے یہ باضابطہ آغاز ہوا ہے، ہمیں عوام کی طرف سے حیرت انگیز ردِعمل ملا ہے اور ہم نے صرف گذشتہ مہینے میں 60 سے 70 کیسز نمٹائے ہیں اور یہ حجم باقاعدگی سے بڑھ رہا ہے۔"

ذہنی صحت کی ایمبولینسز کا تصور سب سے پہلے سویڈن میں آزمایا گیا تاکہ نفسیاتی پریشانی کا سامنا کرنے والوں کی مدد کی جا سکے۔ اس اختراعی نقطۂ نظر نے بنیادی مدد اور خدمات کو براہِ راست افراد کی دہلیز تک پہنچانا ممکن بنایا اور بروقت علاج اور ضرورت پڑنے پر بحالی کی سہولیات تک نقل و حمل میں معاونت فراہم کی۔

عباس نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی ذہنی صحت کی نگہداشت کا بنیادی ڈھانچہ ناکافی تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس بنا پر بھی انہیں کولمبیا یونیورسٹی سے ابتدائی فنڈنگ حاصل کرنے کے بعد ایمبولینس سروس شروع کرنے کا خیال آیا۔

انہوں نے بات جاری رکھی، "یہاں کئی بحالی مراکز اور کلینک ہیں جو انتہائی غیر اخلاقی ماحول میں چلائے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہم جو کرنا چاہتے تھے وہ عام لوگوں کو ایک ایسی خدمت فراہم کرنا تھا جو قابلِ رسائی، ارزاں اور پیشہ ورانہ اور اخلاقی انداز میں چلائی جاتی ہو۔"

انہوں نے نوٹ کیا کہ ماہرینِ نفسیات پر مشتمل ایک نگراں کمیٹی کی رہنمائی میں ایمبریس نے بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق معیارات قائم کیے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو سمجھدارانہ اور محتاط طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے بغیر کسی نشان کے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ذہنی صحت کے مریضوں کی خدمت کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس کل 15 افراد کا عملہ ہے جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں اور انہیں نفسیاتی ابتدائی طبی امداد، ہمدردانہ بات چیت اور نفسیاتی مریضوں کو کس طرح سنبھالنا ہے، ان باتوں کی وسیع پیمانے پر تربیت دی گئی ہے۔" نیز انہوں نے کہا کہ ایمبریس سروس کے سٹاف نے مختلف نفسیاتی کلینکس پر انٹرن شپ کی اور ہنگامی حالات کا جواب دینے کے طریقے سیکھے۔

اس منصوبے کو مالی طور پر قابلِ عمل بنانے کے لیے ایمبولینس کی سہولت مریض کی مالی حالت کی بنیاد پر اپنی خدمات کا معاوضہ لیتی ہے جبکہ اسے مستحق مریضوں کے لیے مفت رکھا گیا ہے۔

پہلی کال پر لبیک کہنے والی سنٹر کی ایک نرس زینب نوشین نے کہا، جب بھی ایمبولینس سروس کے لیے کال آتی ہے تو ٹیم اس بات کی تحقیقات کرتی ہے کہ آیا اس شخص کو صحت کی نگہداشت کی سہولت میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

"اگر کوئی خاتون مریض ہے تو زنانہ عملہ جا کر مریضہ کو مطلوبہ ہسپتال یا کلینک میں منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے۔" اور مزید کہا، پہلا مرحلہ مریضہ کی حالت کے بارے میں اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "پھر ہماری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مریض ہمارے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جانے پر راضی ہو جائے۔ اس کے لیے ہمارے پاس مختلف طریقے ہوتے ہیں جو ایک سے دوسرے مریض کے لیے الگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کو ساتھ آنے پر راضی کرنے کے لیے بات چیت میں 30 سے 40 منٹ لگ جاتے ہیں۔"

پہلی کال پر لبیک کہنے والے ایک اور اہلکار ارشد محمود نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ دو سالوں میں ایمبریس ایمبولینس سروس کا استعمال کرتے ہوئے 25 مریضوں کو منتقل کیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ کچھ مریضوں نے پرتشدد اور خطرناک رویئے کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے ہم نے ذاتی دفاع کی تربیت بھی حاصل کی ہوئی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایک بار جب ہم مریض کو ایمبولینس میں منتقل کر دیں تو اٹینڈنٹ فیصلہ کرتا ہے کہ انہیں کس ہسپتال میں علاج کے لیے لے جانا ہے اور ہم اس کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں