نو مئی کرنے اور کروانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دینا پڑے گی: پاکستانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ نو مئی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں، اس کے شواہد عوام کے پاس بھی ہیں اور افواج پاکستان کے پاس بھی ہیں، نو مئی کو کرنے اور کرانے والوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا دینی پڑے گی۔

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلشنز [آئی ایس پی آر] میجر جنرل احمد شریف چودھری راولپنڈی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے، اس دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے جوان،بڑی تعداد میں شہری شہید ہوئے، خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار اہم رہا ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی مدد کررہا ہے، پاکستان نے افغان عبوری حکومت کی بین الاقوامی سطح پر ہر طرح سے مدد کی ہے، افغانستان کی سرزمین ٹی ٹی پی کے دہشت گرد استعمال کرکےپاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں اس کے واضح شواہد موجود ہیں ، افواج پاکستان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے ، دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پانچ لاکھ سے زائد افغان شہری واپس جا چکے ہیں لیکن لاکھوں افغان شہری اب بھی پاکستان میں موجود ہیں، افغان شہریوں سے ملکی معیشت پر بوجھ پڑ رہا تھا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی تھی جبکہ بلوچستان میں دہشت گرد امن و امان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں، افواج پاکستان دہشت گردوں کے سامنے دیوار بنی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں جوان شہید ہوئے، ناکام دہشت گرد کارروائیاں ثبوت ہے کہ سکیورٹی فورسز دشمن کے عزائم ناکام بنا رہی ہیں، داسو میں چینی انجینئرز پر حملے کی کڑیاں بھی افغانستان سے ملتی ہیں، داسو ڈیم حملے کا خود کش حملہ آور افغان تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بشام حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی، تربت میں ہونے والے دہشت گرد واقعے میں پاکستانی فوج کا ایک جوان شہید اور چار دہشت گرد ہلاک ہوئے، حالیہ حملوں میں ملوث دہشت گرد افغان شہری ہیں، دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، آرمی چیف کئی بار کہہ چکے ہیں پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

میجر جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ 23 اپریل 2024 پشین میں تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور ایک کو گرفتار کیا، پشین سے گرفتار دہشت گرد افغان شہری ہے، دہشت گردوں کے ناسور سے نمٹنے کے لیے 100 سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کیے جارہے ہیں، انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاک فوج کے جوان پاکستان کی خاطر جانوں کی لازوال قربانیاں دے رہے ہیں، دہشت گردی کی جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، ان دہشت گردوں کا ریاست پاکستان، خوشحال مستقبل اور دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان پاک فوج کاکہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر اٹھانے فیصد اور پاک ایران بارڈر پر نوے فیصد تک کام مکمل کیا جا چکا ہے، پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی روک تھام کے لیے 753 قلعے مکمل کیے جا چکے ہیں، 2024 میں مجموعی طور پر دہشت گردوں کے خلاف 13133 چھوٹے بڑے آپریشنز کیے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، بھارتی فوج ایل او سی پر نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے، ہمارا اُصولی مؤقف ہے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، بہادر کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہو گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہندوستان باقی ممالک میں ماورائے ریاست ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ہے، پاکستان میں دو شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی بھارت ملوث ہے، بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، بھارت کی منصوبہ بندی سے اعلیٰ سول اور عسکری قیادت بخوبی آگاہ ہے، اب تک متعدد مرتبہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی گئیں، پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور دیتے رہیں گے ہم اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آواز کو سلب کرنے کے لیے بھارت سرگرم ہے، طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، کشمیری عوام عالمی توجہ کے منتظر ہیں، تمام تر مشکلات کے باوجود بہادر کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہو گی۔

میجر جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر ایک مؤثر آواز بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف کی فلسطینی سفیر سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ملاقات کے دوران فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آرمی چیف نے مسئلہ فلسطین کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں