مشتعل افراد کا سرگودھا میں توہین مذہب کے مشتبہ ملزم پر تشدد، متعدد گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سرگودھا میں پولیس نے بتایا کہ ہفتے کو توہین مذہب کے ایک مبینہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر قابو پا لیا گیا۔

مجاہد کالونی میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا ہے جس پر مشتعل ہجوم نے کالونی کے باہر احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ کی، پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ہجوم سے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی پی او سمیت پولیس کے اعلی افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور مشتعل ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ شہریوں نے توہین کے الزام میں مبینہ ملزم کے گھر کے باہر آگ لگا دی، اس کا گھر بھی جلانے کی کوشش کی، پولیس نے مشتعل ہجوم سے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا۔

ڈی پی او ڈاکٹر اسد اعجاز کے مطابق علاقے بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے، حالات کنٹرول میں ہیں اشتعال پھیلانے والوں کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے گرفتار کریں گے، عوام صبر کا دامن نہ چھوڑیں ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ایکس پر ایک بیان میں سرگودھا کی صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

ایچ آر سی پی نے پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر امن بحال کریں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسیحی برادری کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

اگست 2023 میں جڑانوالہ میں بھی توہین مذہب کے الزام میں اس طرح کا بد امنی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے گھروں کو آگ لگا دی تھی اور وہاں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

اس سے قبل دسمبر 2021 میں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو توہین مذہب کے الزام میں شہریوں نے تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں