پنجاب حکومت کا ہتک عزت قانون لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حکومت پنجاب کی جانب سے پیش کردہ ہتک عزت بل 2024، جو صوبائی اسمبلی سے پاس ہو چکا تھا، قائم مقام گورنر ملک احمد خان سے منظور ہوتے ہی ہفتے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

حکومت پنجاب کے مطابق اس بل کا مقصد جھوٹی خبروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کو روکنا ہے۔

ایڈووکیٹ ندیم سرور کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہتک عزت قانون کے خلاف درخواست میں وزیر اعلیٰ اور گورنر پنجاب کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہتک عزت قانون آئین اور قانون کے منافی ہے۔ ہتک عزت آرڈیننس اور ہتک عزت ایکٹ کی موجودگی میں نیا قانون نہیں بن سکتا۔ ہتک عزت قانون میں صحافیوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

عدالت عالیہ میں دائر درخواست کے مطابق ہتک عزت کا قانون جلد بازی میں صحافیوں اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ عدالت ہتک عزت کے قانون کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک ہتک عزت قانون پر عملدرآمد روکا جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ مئی میں پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے ’پرووینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016‘ میں ترمیم کی منظوری دی گئی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے ہتک عزت بل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کی منظوری کے بعد وزارت آئی ٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹگیشن اتھارٹی بنانے سے متعلق ایس ار او جاری کیا تھا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ہتک عزت ترمیمی بل 2024 میں کہا گیا ہے کہ ’جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد خبروں، پروپیگنڈے یا کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر سزائیں دی جائیں گی۔

نیز اس قانون کا اطلاق پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی ان تمام جھوٹی اور غیر حقیقی خبروں پر ہو گا جس سے کسی فرد یا ادارے کا تشخص خراب ہو۔‘

حکومتی بل کے مطابق قانون کا اطلاق ان جھوٹی خبروں کے تدارک کے لیے کیا جائے گا، جو کسی شخص کی پرائیویسی اور پبلک پوزیشن کو خراب کرنے کے لیے پھیلائی جائیں گی۔ ہتک عزت آرڈیننس 2002 اس قانون کے اطلاق کے بعد سے تبدیل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ پنجاب کے قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے صوبائی اسمبلی میں سے منظور ہونے والے ہتک عزت بل پر گذشتہ روز دستخط کردیے تھے، جس کے بعد اب یہ باقاعدہ قانون بن گیا ہے اور گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد نافذ العمل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں