سپاٹیفائے کا 'آئیکون' پروگرام کا آغاز؛ پاکستان کے وراثتی فنکاروں کے کام کا فروغ
عشروں کے لحاظ سے شہرت یافتہ پاکستانی موسیقاروں کی پلے لسٹس، سپاٹیفائے پر تشہیر
سپاٹیفائے پاکستان نے اس ہفتے ملک کے نوجوان سامعین کو ان کے وراثتی فنکاروں مثلاً نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین اور نازیہ حسن سے منسلک کرنے کے لیے اپنا "آئیکون" پروگرام شروع کیا جس سے ماضی کی لازوال موسیقی کے ذریعے نسلوں کے درمیان خلیج کو پُر کرنے کی امید ہے۔
سپاٹیفائے آئیکون 1950 سے 2000 کے عشرے تک کے مشہور موسیقاروں اور گلوکاروں کی مشہور موسیقی اور نغمات کو ڈیجیٹل کے شوقین پاکستانی سامعین تک لائے گا۔ سٹریمنگ سروس نے کہا، یہ پروگرام 1950 سے 2000 کے عشرے تک پاکستان کے اعلیٰ پائے کے موسیقاروں کے مخصوس نغمات پر مبنی پلے لسٹ کے امتزاج کو فروغ دینے، پلیٹ فارم پر تشہیر اور ان کی آف لائن ایکٹیویشن پر توجہ مرکوز کرے گا۔
پروگرام کا آغاز ہفتہ 21 ستمبر کو کراچی میں ٹی ڈی ایف گھر کے مقام پر ستاروں سے مزین ایک خوبصورت تقریب میں کیا گیا۔ پروگرام کے پہلے فنکار استاد نصرف فتح علی خان کی کچھ موسیقی تقریب میں چلائی گئی۔
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لیے پلیٹ فارم کے سینئر آرٹسٹ اور لیبل پارٹنرشپ مینیجر خان ایف ایم نے کہا، "سپاٹیفئے پاکستان کی طرف سے آئیکون پروگرام وراثتی فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ سپاٹیفائے پر ہم نے مختلف عشروں سے ان کئی فنکاروں کے لئے سال بہ سال ترقی دیکھی ہے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ لیجنڈ پاکستانی غزل گائیک مہدی حسن نے گذشتہ سالوں میں ڈیجیٹل سٹریمز میں "سال بہ سال تقریباً 144 فیصد اضافہ" دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا، "واقعی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ترقی نئی نسل یعنی جنریشن زی کے ذریعے پیدا ہو رہی ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ یہ بہت مناسب ہو گا کہ ہمارے پاس وراثتی فنکاروں کے لیے ایک پروگرام ہو۔"
انہوں نے کہا، پلے لسٹ میں ہر عشرے کی موسیقی پیش کی جائے گی جس میں 1950 سے لے کر 2000 کے اوائل تک کے فنکار مثلاً استاد نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، غلام علی، نیرہ نور، عابدہ پروین، نازیہ اور زوہیب حسن اور مقبول پاکستانی بینڈ جنون نمایاں ہوں گے۔
سپاٹیفائے کے اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نوعیت کا پروگرام دنیا کے طول و عرض میں کسی بھی آڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم کی مارکیٹوں میں شروع کیا گیا۔
ایف ایم خان نے کہا، "یہ کسی اور [سپاٹیفائے] مارکیٹ میں نہیں کیا گیا ہے۔ "راڈار اور ایکوئل عالمی پروگرام ہیں۔ آئیکون خالصتاً پاکستان سے پیدا ہوا ہے۔"
سپاٹیفائے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق لیجنڈ پاکستانی گلوکارہ ملکۂ ترنم میڈم نور جہاں نے گذشتہ برسوں کے دوران فعال سامعین کی تعداد میں 66 فیصد سالانہ کا بڑا اضافہ دیکھا ہے۔ ان میں سے 50 فیصد 18-27 سال کی عمر کے ہیں۔
دریں اثناء اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاپ گلوکار سجاد علی اور حدیقہ کیانی نے سامعین میں سال بہ سال سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جو 75 فیصد ہے۔
پلیٹ فارم نے کہا کہ پاکستان کے مشہور غزل گائیک استاد غلام علی خان کی سالانہ سلسلہ بندی میں 82 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں سے 49 فیصد جنریشن زی کے سامعین ہیں۔
یوٹیوبر عرفان جونیجو نے عرب نیوز کو بتایا، "مجھے اب بھی بخوبی یاد ہے کہ [سپاٹیفائے آئیکون کی] پلے لسٹ میں شامل فنکاروں کو میں نے اپنی زندگی میں کیسٹ، سی ڈیز کے ساتھ ساتھ جب میرے فون میں تھوڑا بیلنس ہوتا تھا تو ایک ریڈیو شو میں فرمائشی پیغامات بھیج کر بھی سنا ہے۔"
انہوں نے کہا، "اب ایک بٹن کے کلک پر ان کے نغمات چلائے جاسکتے ہیں جو میرے لیے قدرے جادوئی سا ہے۔ میں بچپن سے نصرت فتح علی خان کو سنتا آیا ہوں۔ اب نئی نسل انہیں سن رہی ہے۔ اور ہر کوئی اپنی عمر سے قطع نظر ان سے تعلق اور ربط قائم کرنے کے قابل ہے۔
ایک تجربہ کار پاکستانی گلوکار اور موسیقار ارشد محمود نے زور دیا، نوجوان نسل کو اس "یادگار کام" کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے جو ملک کے موسیقاروں نے کیے ہیں۔
محمود نے وضاحت کی، "موسیقی کو محفوظ کرنا اور نئی نسل کا اس سے تعارف ایک بہت اہم اقدام ہے۔ اس کا ان پر بہت اچھا اثر ہو گا۔ کم از کم وہ جانتے ہوں گے کہ انہیں کیا وراثت مل رہی ہے۔"