پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس سے متعلق ادارے ' نادرا' نے پیر کے روز اپنے قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر سلور جوبلی منائی ہے۔ اس مناسبت سے ' نادرا' نے ایک نئے ڈی مٹیریلائزڈ شناختی کارڈ کا اجرا کیا ہے۔
نادرا کے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ' اس نئے شناختی کارڈ کا اجرا حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان سے متعلق ویژن کی ایک کڑی ہے۔ یہ کارڈ کے بعد مٹیرل آئی ڈی کی جگہ لے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس نئے شناختی کارڈ کی لانچنگ کی ہے۔'
بیان کے مطابق اس نئے کارڈ کے اجرا کے بعد اب پاکستان کے شہریوں کو جیبوں میں کوئی کارڈ اٹھائے پھرنے اور سنبھالنے کے بوجھ سے نجات مل جائے گی۔
' نادرا' کے جاری کردہ بیان کے مطابق عالمی بنک کی مدد سے جلد ہی ایک ' ڈیجیٹل تصدیقی نظام ' بھی لانچ کر دیا جائے گا۔' اس سلسلے میں 14 اگست 2025 تک مکمل طور پر ایک 'ڈیجیٹل شناخت' کے حامل کارڈ کا 'پائلٹ پراجیکٹ' شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے پاکستان ڈیجٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبے کے سفر میں کافی پیش رفت کر چکا ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران پاکستان نے 'موبائل براڈ بینڈ نیٹ ورکس' کے میدان میں کافی ترقی کر لی ہے۔
ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں اب تک 80 فیصد بالغ شہریوں نے موبائل براڈ بینڈٹ 3 جی اور 4 جی نیٹ ورکس استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2010 کے مقابلے میں یہ تعداد صرف 15 فیصد تھی۔