سعودی عرب کا سیاحتی شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے کراچی میں روڈ شو کا اہتمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فروغ سیاحت کے لیے دو طرفہ تعاون بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں باہمی اشتراک سے ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ روڈ شو سعودی ٹورزم اتھارٹی کی کوششوں کے سبب ممکن ہوا ہے۔

یہ فورم مملکت کے ویژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس روڈ شو کا مقصد سعودی عرب میں عالمی سطح پر سیاحت میں نمایاں کردار کی نشاندہی کرنا تھا کہ مملکت اس وقت عالمی سطح پر سیاحوں کی دلچسپی کا اہم گہوارہ ہے۔ اس روڈ شو میں سعودی عرب کے مقاصد میں یہ بھی شامل تھا تاکہ پاکستان سے سعودی عرب جانے والے شہریوں کو ٹریول گائیڈ مل سکے۔

ویژن 2030 کے مطابق سعودی عرب دنیا بھر سے آنے والے عازمین حج کے لیے ایک مرکز ہے۔

لیکن اب سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس کی شناخت مذہبی شناخت کے علاوہ تعیش اور ثقافت کے حوالے سے بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سیاحت کا ایک اہم حوالہ بن جائے۔ اس مقصد کے لیے مملکت نے عظیم الشان منصوبوں کا آغاز کیا ہے جو نیوم سٹی سے متعلق ہے۔ بحیرہ احمر میں ریزورٹس قائم کیے ہیں جہاں انٹرٹینمنٹ کا بھی کارپوریٹ سیکٹر کے لیے غیر معمولی اہتمام ہے۔

پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب سفر کے حوالے سے اہم ترین مرکز ہے۔ یہ بات سعودی ٹورازم اتھارٹی کی کنٹری مینیجر صوفیا الخاور نے کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف مذہبی سیاحت پر سعودی عرب توجہ نہیں دیتا بلکہ پرتعیش سیر و تفریح، کاروبار اور سیاحتی تقریبات کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے شہریوں کے لیے ایک ابھرتا ہوا سیاحتی مرکز ہے۔ جو صرف مذہبی خیالات اور لوگوں کے لیے نہیں بلکہ باقی سب کے لیے بھی ہے۔

سعودی عرب کا سیاحت سے متعلق ایک اہم وفد اگلے ماہ پاکستان آئے گا۔ جو پاکستان سے سیاحت کے لیے آنے والوں کے لیے ایک خصوصی ہفتہ کا اعلان کرے گا جس میں انہیں بونس اورانعامات دیے جائیں گے۔ نیز رعایتی سفر کی سہولت دی جائے گی تاکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ اس طرف ہو سکے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فروغ سیاحت کے لیے دو طرفہ تعاون بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں باہمی اشتراک سے ایک روڈ شو کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ روڈ شو سعودی ٹورزم اتھارٹی کی کوششوں کے سبب ممکن ہوا ہے۔

یہ فورم مملکت کے ویژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس روڈ شو کا مقصد سعودی عرب میں عالمی سطح پر سیاحت میں نمایاں کردار کی نشاندہی کرنا تھا کہ مملکت اس وقت عالمی سطح پر سیاحوں کی دلچسپی کا اہم گہوارہ ہے۔ اس روڈ شو میں سعودی عرب کے مقاصد میں یہ بھی شامل تھا تاکہ پاکستان سے سعودی عرب جانے والے شہریوں کو ٹریول گائیڈ مل سکے۔

ویژن 2030 کے مطابق سعودی عرب دنیا بھر سے آنے والے عازمین حج کے لیے ایک مرکز ہے۔

لیکن اب سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس کی شناخت مذہبی شناخت کے علاوہ تعیش اور ثقافت کے حوالے سے بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سیاحت کا ایک اہم حوالہ بن جائے۔ اس مقصد کے لیے مملکت نے عظیم الشان منصوبوں کا آغاز کیا ہے جو نیوم سٹی سے متعلق ہے۔ بحیرہ احمر میں ریزورٹس قائم کیے ہیں جہاں انٹرٹینمنٹ کا بھی کارپوریٹ سیکٹر کے لیے غیر معمولی اہتمام ہے۔

پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب سفر کے حوالے سے اہم ترین مرکز ہے۔ یہ بات سعودی ٹورازم اتھارٹی کی کنٹری مینیجر صوفیا الخاور نے کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف مذہبی سیاحت پر سعودی عرب توجہ نہیں دیتا بلکہ پرتعیش سیر و تفریح، کاروبار اور سیاحتی تقریبات کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے شہریوں کے لیے ایک ابھرتا ہوا سیاحتی مرکز ہے۔ جو صرف مذہبی خیالات اور لوگوں کے لیے نہیں بلکہ باقی سب کے لیے بھی ہے۔

سعودی عرب کا سیاحت سے متعلق ایک اہم وفد اگلے ماہ پاکستان آئے گا۔ جو پاکستان سے سیاحت کے لیے آنے والوں کے لیے ایک خصوصی ہفتہ کا اعلان کرے گا جس میں انہیں بونس اورانعامات دیے جائیں گے۔ نیز رعایتی سفر کی سہولت دی جائے گی تاکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ اس طرف ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں