وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں، ملک سے جلد انخلا ناگزیر ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سکیورٹی حکام نے خطے کی مجموعی صورت حال، سرحدی چیلنجز اور حالیہ آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اِس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اِس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا، ملک میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پناہی ہندوستان کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کہ خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں، دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رَد کرتی ہے، جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا اعلیٰ کار ہے اور اُسے بھی اُسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر ہندوستان کی اِن پراکسیوں کے خلاف ’بنیان مرصوص ‘کی طرح متحد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت بھی کی جب کہ پشاور کے کور کمانڈر نے علاقے کی سکیورٹی صورتِ حال پر تفصیلاً بریف کیا، وزیر اعظم کا فیلڈ مارشل نے بنوں کنٹونمنٹ میں استقبال کیا۔