سعودی عرب نے پاکستان کو آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ سے جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اسلام آباد نے ایک جہاز بھیج دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت پیٹرولیم کے بدھ کو ایک بیان میں بتایا گیا کہ یہ انتظام اسلام آباد کی جانب سے سعودی عرب حکام کو لکھے گئے ایک خط کے نتیجے میں کیا گیا۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ ریاض نے پاکستان کی توانائی کی ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے لیے بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ ینبع کے ذریعے خام تیل کی متبادل سپلائی روٹ کی یقین دہانی کرائی گئی۔
علی پرویز ملک کے مطابق سعودی ذرائع نے ینبع سے سپلائی کی سکیورٹی اور پاکستان کے لیے ترجیحی رسائی کی ضمانت دی ہے، جبکہ ایک جہاز کو پاکستان کے لیے خام تیل اٹھانے کے لیے روانہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔
سعودی سفیر نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کے پیشِ نظر پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رہے گا اور دونوں ممالک ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عوام کے لیے توانائی کی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، اور موجودہ حالات میں سعودی عرب جیسے برادر ممالک کی حمایت پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
پاکستان کی بندرگاہ یانبو کے ذریعے متبادل تیل سپلائی روٹ کی درخواست، سعودی عرب کی حمایت کی یقین دہانی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم کی سعودی سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات
— Media Talk (@mediatalk922) March 4, 2026
سعودی ذرائع نے بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ یانبو کے ذریعے سپلائی کی یقین دہانی کرائی، علی پرویز ملک@KSAMOFA pic.twitter.com/NYOU7oQPhu
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی جلد از جلد نگرانی اور حفاظت شروع کرے گی۔
امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد سے ردعمل کے طور پر ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے۔
اس صورت حال میں ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا: ’میں نے امریکہ کی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ نہایت مناسب قیمت پر خلیج سے گزرنے والی تمام سمندری تجارت، خصوصاً توانائی کے مالی تحفظ کے لیے سیاسی رسک انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔ یہ سہولت تمام جہاز رانی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو ریاست ہائے متحدہ کی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی جلد از جلد نگرانی اور حفاظت شروع کرے گی۔ کسی بھی صورت میں، ریاست ہائے متحدہ دنیا کو توانائی کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے گا۔‘
بقول ٹرمپ: ’امریکہ کی معاشی اور فوجی طاقت دنیا میں سب سے عظیم ہے۔ مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔‘