ٹرمپ: پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرے
"تین امریکی جہازوں پر ایرانی حملے کے باوجود ایران سے جنگ بندی برقرار ہے"
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں فریقوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی جنگ بندی مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرے۔
ٹرمپ نے کہا کہ تین امریکی حملہ آور جہازوں پر ایرانی حملے کے باوجود ایران سے جنگ بندی برقرار ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس نے جواب میں ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے حالانکہ تہران کا الزام تھا کہ واشنگٹن نے ہی فائرنگ کا تبادلہ شروع کیا تھا۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات "بخوبی جاری ہیں" اور یہ کہ "مجھ سے کہیں زیادہ" تہران امن معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے تنازع میں پاکستانی سویلین اور فوجی رہنماؤں کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔
"جیسا کہ آپ جانتے ہیں پاکستان اس دوران لاجواب رہا ہے۔ اور ان کے لیڈرز فیلڈ مارشل اور وزیرِ اعظم لاجواب رہے ہیں اور انہوں نے ہمیں مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی نہ کرنے کو کہا ہے۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم ایسا کریں گے۔" امریکی صدر نے کہا جب ان سے آبنائے ہرز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کے 'پروجیکٹ فریڈم' کو معطل کرنے کی وجہ پوچھی گئی۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جہازرانی پر ایرانی حملوں کے جواب میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے چار مئی کو پراجیکٹ فریڈم نامی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا لیکن جلد ہی اسے معطل کر دیا۔
جمعرات کو تہران نے کہا، ہم جنگ کے خاتمے کے لیے تازہ ترین امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کے پیغامات کا جائزہ لے رہا ہے لیکن ہم "تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے اور امریکہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔"
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، "ہم انہیں جوہری ہتھیار رکھنے کا حق نہیں دیں گے۔ اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وہ یہ جانتے ہیں۔ اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔"
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ اس کے علاوہ پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر بات کی۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، "ہم جلد از جلد معاہدہ طے ہو جانے کی توقع کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ فریقین ایک پرامن اور پائیدار حل پر متفق ہو جائیں گے جو نہ صرف ہمارے خطے میں بلکہ بین الاقوامی امن میں بھی مدد دے گا۔"
انہوں نے کوئی مخصوص وقت نہیں دیا۔
اس کے علاوہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سنگاپوری ہم منصب سے بات کی کہ سنگاپور کے پانیوں کے قریب امریکی حکام کے ضبط کردہ بحری جہازوں پر سوار 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے ایکس پر کہا، "ہم سنگاپور کے تعاون اور حمایت کو سراہتے ہیں۔ پاکستان بھی ایرانی شہریوں کی براستہ پاکستان محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔"