اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام حل طلب مسائل، بشمول ایران کے جوہری مسئلے، کو پُرامن ذرائع، سفارتی روابط اور مسلسل مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق بریفنگ سے خطاب کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کے بعد پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں، کیونکہ نئی فوجی کشیدگی سے بین الاقوامی سطح پر مہینوں سے جاری اس کوشش کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر نئی فوجی کارروائی اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات پر حملوں نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے خطے کے استحکام، عالمی توانائی کی فراہمی اور جاری سفارتی کوششوں کے مستقبل پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان نے اس سال کے آغاز میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ثالثی کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران دونوں سے رابطے برقرار رکھے اور ان مذاکرات کی حمایت کی ہے جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر تنازعات کو حل کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سفارت کاری اور مکالمہ تمام متنازعہ مسائل کے حل کے لیے بنیادی اصول ہونے چاہئیں، اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے تحت ہونا چاہیے۔
سفیر نے عندیہ دیا کہ سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازعے کا پُرامن سفارتی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ اور مسلسل کوشش کر رہے ہیں، اور خاص طور پر جب حتمی مقصد قریب نظر آ رہا ہے، تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ تحمل سے کام لیں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔