پاکستانی فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں گذشتہ 72 گھنٹے کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف کاررروائیوں میں ’بھارتی حمایت یافتہ‘ 21 عسکریت پسند مارے گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ہفتے کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائیاں میران شاہ اور اس کے نواحی میں کی گئیں، جہاں ’خوارج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
یاد رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں اور انہیں افغان طالبان اور بھارت کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
شدید جھڑپوں کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ 21 مزید دہشت گرد مارے گئے جن میں چار انتہائی مطلوب کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خالد رضا عرف سالار، مفتون، موسیٰ اور عمران عرف ایان شامل ہیں۔ ان دہشت گردوں کی ہلاکت سے خطے میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کمانڈر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کے قتل سمیت متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے جو ان کی تباہی کا ثبوت ہے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے میں اب تک مجموعی طور پر 48 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ علاقے میں چھپے ہوئے دیگر خوارج کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد سکیورٹی ادارے عزم استحکام کے وژن پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ملک بھر میں غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مہم پورے عزم اور قومی تائید کے ساتھ بلا تعطل جاری رکھی جائے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے سرغنوں کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے اور قوم اپنے بہادر سپوتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔