پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات میں صرف عارضی وقفہ آیا ہے اور یہ عمل آئندہ ہفتے پیر یا منگل کو دوبارہ شروع ہو گا۔
دریں اثنا اسلام آباد کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات کے تحت تین تکنیکی ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ جن کی مشاورت کے بعد اگلے مذاکرات منگل یا بدھ کو دوبارہ شروع ہوں گے اور اس کے لیے پاکستان کی ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے۔
دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بدھ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں بڑے مذاکرات ہوئے ہیں، اور اسی سلسلے میں اکیس جون کو بات چیت کا دوسرا دور بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان اہم ترین مذاکرات میں پاکستان کی طرف سے خود وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی اور دونوں ملکوں کے درمیان صلح کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ اس لڑائی کو مستقل ختم کرنے اور اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے اب تین خاص تکنیکی ٹیمیں یعنی ورکنگ گروپس بنا دیے گئے ہیں، جن میں سے پہلی ٹیم ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو دیکھے گی، دوسری ٹیم ایران پر لگی پابندیوں اور اس کے پھنسے ہوئے پیسوں کا مسئلہ حل کرے گی، جبکہ تیسری ٹیم لبنان کے حالات اور اس سے جڑے مسائل کا جائزہ لے گی۔ ان ٹیموں کے مشوروں کے بعد ہی اگلی بیٹھک ہو گی۔
🔴LIVE: Spokesperson's Weekly Press Briefing 26-06-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/8iCRIClkno
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 24, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی خاص دعوت پر پاکستان کا ایک دن کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دوران ایرانی صدر نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے خصوصی ملاقاتیں کیں۔
طاہر اندرابی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے ہونے والی سرکاری ملاقات میں دونوں ملکوں کے بڑے رہنماؤں نے پاک ایران تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے اور آپس کا بھائی چارہ اور کاروبار بڑھانے کے پکے ارادے کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس پورے علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور لڑائی جھگڑوں کو گولی کے بجائے بات چیت سے حل کرنے کے لیے اپنی نیک نیتی کے ساتھ کوششیں جاری رکھے گا اور سب کو ساتھ لے کر چلے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ان رابطوں میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جسے دنیا بھر میں خطے کی کشیدگی کم کرنے کی طرف ایک بڑا اور اچھا قدم مانا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف ملکوں نے امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کی کھل کر تعریف کی ہے اور ہم عالمی برادری کے اس خراجِ تحسین کا دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔
ترجمان نے اس موقع پر پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قومی میڈیا نے اس حساس اور اہم سفارتی معاملے میں بڑی ذمہ داری، احتیاط اور سمجھداری دکھائی ہے جس سے امن کی ان کوششوں کو بہت طاقت ملی ہے۔
آگے کی حکمتِ عملی بتاتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اب اگلے مراحل میں پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی تاکہ ان تینوں کمیٹیوں کے کام کو آسان بنایا جا سکے۔
اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ’صومالی بحری قزاقوں کی جانب سے پاکستانی جہاز و عملے کو یرغمال بنانے کا معاملہ ہماری ترجیح ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں سفارت خانے کی تکنیکی ٹیم نے جبوتی کا دورہ کیا۔
’اس پر ہم نے بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد کیا۔ پاکستان مقامی این جی اووز، انصار برنی سمیت متعدد اداروں سے رابطے میں ہے۔‘
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
ان افراد کی بحفاظت واپسی کے سلسلے میں اہلِ خانہ کراچی میں احتجاج بھی کر چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ فعال سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں تجارت، تعلیم سمیت متعدد معاملات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے افغانستان کے دو دوروں میں زیر بحث آئے تھے۔
طاہر اندرابی کے مطابق: ’تاہم پاکستان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ فعال سفارت کاری تو جاری رکھے، تاہم اپنے شہریوں کو تحفظ نہ دے سکے۔ ہمارے ایکشن اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہیں، افغانستان کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان واضح نشاندہی شدہ سرحد موجود ہے جس کا افغانستان کو احترام کرنا ہو گا۔‘
ان کے مطابق پاکستان نے ’افغانستان سے متعلق ہر راستہ آزمایا، لیکن اکتوبر 2025 میں ایک ایسی حد عبور ہوئی جس کے بعد سفارت کاری کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔‘