پاک فوج نے بلوچستان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بھیجے گئے چار ڈرون کامیابی سے تباہ کر دیے جبکہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا فوری، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 30 جون کو افغان طالبان نے بلوچستان کی سرحدی سمت چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجے جنہیں پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے بروقت شناخت کر لیا۔
سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے چاروں ڈرون فضا ہی میں تباہ کر دیے جس کے باعث دشمن کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ کارروائی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کے تسلسل کا حصہ تھی تاہم پاکستان کی دفاعی تیاری اور بروقت ردعمل نے کسی بھی ممکنہ نقصان کو ہونے سے روک دیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان کی یہ کارروائیاں اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہیں، جبکہ افغان عوام پہلے ہی طالبان حکومت کی پالیسیوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے اپنے علاقے میں داعش کی موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان ڈرون حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق طالبان فورسز کے پاس مکمل فعال فضائیہ موجود نہیں، تاہم وہ سرحدی علاقوں میں چھوٹے ڈرونز استعمال کرتی رہی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی فروری میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔
کراچی میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد پاکستان نے مشرقی افغانستان میں فضائی حملے کیے تھے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری بھی متاثر ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں 28 شہری مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ پاکستان نے شہری اموات پر تبصرہ نہیں کیا، البتہ کہا ہے کہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں 29 عسکریت پسند مارے گئے۔
کئی ماہ سے جاری اس تنازعے میں سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کو پناہ دے رہی ہے، جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔