بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر کے مقام پر جمعے کو مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 08 افراد زخمی ہوئے جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
کوئٹہ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق یہ حادثہ جمعے کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آیا اور حادثے کا شکار ہونے والی بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے حادثے میں 40 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آٹھ مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کا شکار بس میں اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری مسافر بس کے مسافر بھی سوار تھے، جس کے باعث گاڑی میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے۔
ان کے مطابق بظاہر بس میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے تاہم متعلقہ افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تاہم مقامی حکام کے مطابق بس ایک گہری کھائی میں گری جس کی وجہ سے مسافروں تک پہنچنے اور ان کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جائے حادثے سے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
صدرِ آصف علی زرداری نے ایک بیان میں مسافر بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔
واضح رہے کہ دانہ سر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے ضلع شیرانی کا حصہ ہے جو کوئٹہ سے اندازاً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔
اس ضلع کی سرحد شمال مشرق میں خیبر پشتونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے لگتی ہے ۔
ضلع شیرانی میں دانہ سر سے شاہراہ کوئٹہ اور خیبر پشتونخوا اور کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان مختصر ترین شاہراہ ہے۔ یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں شاہراہ کے ساتھ گہری کھائیاں ہیں۔