سرطان میں مبتلا أفغان شہری کی بیدخلی انسانی بنیادوں پر موخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کی صوبائی عدالت نے سرطان کے مرض میں مبتلا ایک افغان شہری کی ملک بدری کے فیصلے کو انسانی بنیادوں پر ایک ماہ کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے حکام کو کینسر کے مرض میں مبتلا زیر علاج افغان شہری کو 30 دن کے لیے گرفتار کرنے اور جلاوطن کرنے سے روک دیا، اسکے وکیل نے سوموار کے روز بتایا کہ یہ فیصلہ انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے۔

اکہتر سالہ انار گل پاکسان کے شمال مغرب کی وادی سوات میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ دہائیوں سے رہائش پذیر ہے۔ گل ان متعدد افغان شہریوں میں سے ہے جو جنگ اور ظلم و ستم سے بچنے کے لیے 1980 میں اپنے ملک سے ہجرت کر کے پاکستان آ گیا تھا۔ وہ پاکستان میں افغان شہریوں کو اسلام آباد کی طرف سے جاری رجسٹریشن کے ثبوت کارڈ (پی او آر) شناختی کارڈ کی بنیاد پر رہ رہا تھا۔ پی او آر کارڈز افغان شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی اور عارضی قانونی رہائش کی اجازت دیتا ہے۔

پاکستان نے اکتوبر 2023 میں ملک بھر میں غیر ملکیوں کو بے دخل کرنے ایک منظم مہم شروع کی تھی اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں جن میں سے اکثریت افغان شہریوں کی تھی کو حکم دیا تھا کہ ملک چھوڑ دیں یا جلا وطنی کا سامنا کریں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق اب تک 2.4 ملین سے زیادہ افغان شہری پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

سوات میں پشاور ہائی کورٹ کی مینگورہ برانچ میں جسٹس صلاح الدین اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 22 جولائی کو گل ، اسکی بیوی اور بیٹے کی جلا وطنی کے لیے دائر درخواست کو خارج کر دیا۔ افغان شہریوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق گل بی ۔ سیل لیمفوما میں مبتلا ہے۔ اور وہ مرکزی نروس سسٹم لیمفوما کے لیے کیمو تھیراپی حاصل کر رہا ہے۔

عدالت نے حکام کو گل، اسکی بیوی اور بیٹے کی گرفتاری اور جلا وطنی سے روک دیا کیونکہ وہ کینسر کی آخری سٹیج میں مبتلا ہے اور اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ یہ بات اسکے وکیل عمران خان موسیٰ خیل نے بتائی۔

ہائی کورٹ نے تسلیم کیا کہ خاندان امیگریشن کی درست حیثیت میں نہیں ہے۔ اور کہا کہ گل پاکستان میں ایک معروف ہسپتال میں سنگین مرض میں زیر علاج ہے ۔

آرڈر میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ اس وقت درخواست گزاروں کے پاس امیگریشن کی درست حیثیت نہیں ہے۔ لیکن انکے دعوے کی بنیاد درخواست گزار نمبر 1 کی جاری اور سنگین طبی حالت پر ہے جس کے لیے وہ پاکستان کے ایک تسلیم شدہ طبی ادارے میں خصوصی علاج کروارہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ طبی بنیادوں پر خاندان کو پاکستان میں رہنے کی اجازت دینے کا کوئی بھی فیصلہ متعلقہ حکومتی حکام پر منحصر ہے۔

اس میں درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ پاکستانی حکام سے میڈیکل ویزہ کے حصول کے لیے فوری درخواست دیں یا گل کے علاج کے مکمل ہونے تک وزارت داخلہ سے ملک میں رہنے کی اجازت لیں۔

عدالت نے 22 جولائی کو جاری حکم نامہ میں کہا کہ گل اسکی بیوی اور بیٹے کو 30 دن کے لیے نا ہی گرفتار کیا جائے اور نا ہی جلا وطن۔

پاکستان نے ملک میں بڑھی ہوئی عسکریت پسندی اور خود کش حملوں میں اضافے کی وجہ سے اکتوبر 2023 میں جلاوطنی کی مہم شروع کی تھی۔ حکام نے متعدد بار کہا کہ پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث عسکریت پسندوں نے افغان سرزمین کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور یہ کہ کچھ افغان شہریوں کا سکیورٹی کے واقعات سے تعلق رہا ہے، کابل میں طالبان کی زیر قیادت حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہے۔

اسلام آباد نے امیگریشن کے نفاذ کو سخت کرنے کی ایک وجہ کے طور پر چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے معاشی بوجھ کو بھی بتایا ہے۔ پاکستان نے 1979 میں افغانستان میں ہونے والی روسی دراندازی سے اب تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی ، اسے کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک بنا دیا ہے

بیدخلی مہم کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، جس نے جبری واپسی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا۔ جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر لاگو ہوتی ہے اور یہ قومی سلامتی اور امیگریشن کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں