.

سعودی عرب اور سلامتی کونسل کی رکنیت

سینیٹر پروفیسر ساجد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا دوہرا معیار مظلوم فلسطینی دہشت گرد اور ظالم اسرائیل امن کے علمبردار فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی داستان اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اسرائیل کے وجود کی داستان، مگر عالم انسانیت کے لیے تشویشناک بات یہ ہے کہ جوں جوں وقت بڑھتا جارہا ہے اسرائیلی سفاکیت اسی قدر سنگین رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں فلسطین کے مفلوک الحال عوام بے سروسامانی اور بےچینی کے عالم میں زندگی گزاررہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اسرائیلی درندے کسی خاندان کو تباہی سے دوچار کر کےاسکے مستقبل کو تاریک نہ کردیتے ہوں۔ بعض اوقات تو فلسطین کے نہتے و معصوم باشندوں پر اس شدت سے حملے کیے جاتے ہیں کہ آنا فانا سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ آئے دن بچشم خود اس سفاکیت کا مظاہرہ فلسطینی عوام کی زندگی کی توقعات کے تمام تر محل زمیں بوس کر دیتا ہے اور وہ مستقبل کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی بجائے موت کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے وجود میں لانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ جب بھی دنیا کے کسی حصہ میں بڑے پیمانہ پر شورش برپا ہویا دوملکوں کے درمیان تصادم و کشاکش کی صورت حال پیدا ہو تو یہ جماعت انصاف کی بنیادوں پر قیام امن کی پوری جد جہد کرے اور اگر کوئی ملک متعدد کوششوں کے باوجود بھی اپنے مظالم کو جاری رکھے تو اسکے خلاف سخت موقف اختیار کرے اور ٹھوس قدم اٹھائَ لیکن اقوام متحدہ نے اپنی اس ذمہ داری کو نہ کل نبھایا اور نہ وہ آج نبھا رہی ہے۔

پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کے پانچ ارکان نے اپنے تسلط کی وجہ سے فسطائیت کی بدترین مثال قائم کررکھی ہے اور دنیا کی گردن پر مسلط نظر آتے ہیں۔ باقی دس ارکان جودودو سالوں کیلئے منتخب ہوتے ہیں ان کا دورانیہ پورا ہونے پر انہیں برخواست کردیا جاتا ہے اور انکی جگہ نئے ارکان ممالک کا چنائو کیا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ، امریکا ، برطانیہ ، روس اور چین ہیں جبکہ اس بار جن ممالک کی مدت ختم ہوئی ہے ان میں آذربائجان ، گوئٹے مالا، موراکو، ٹوکو اور پاکستان شامل ہیں۔ انکی جگہ جن نئے پانچ ملکوں کو چنا گیا ہے ان میں چاڈ، چلی ، لتھوینیا، نائجیر یا سعودی عرب شامل ہیں۔ ان ملکوں نے جنوری 2014ء سے اپنی نشست پر براجمان ہونا ہے جبکہ گزشتہ مذکورہ ممالک اپنی نشستیں خالی کر دیں گے۔ یہ تبدیلی برائے نام ہے درحقیقت اس ادارے کے کل فیصلے انہیں ممالک کی آشیرباد کے متمنی ہوتے ہیں جو یہاں مستقل طور پر مسلط ہیں۔

سعودی عرب پہلی بار اقوام متحدہ کارکن منتخب ہوا، ایک لحاظ سے یہ اسکی خارجہ پالیسی کا روشن پہلو بھی ہے کہ عالمی ادارے کی اختیاراتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے اسے کامیابی ملی لیکن سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار یہ جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے کہ اقوام متحدہ کے مجموعی رویے کے خلاف اس رکنیت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کا یہ موقف ہے کہ اقوام متحدہ جیسا بین الاقوامی ادارہ اپنے دوہرے معیار کے باعث دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جب تک اقوام متحدہ کے اس ادارے میں عالمی امن کے قیام کی خاطر مناسب اصلاحات نہیں کی جاتیں اسوقت تک سعودی عرب اپنی اس نشست سے دستبردار رہے گا۔ سعودی سرکاری بیان میں اقوام متحدہ کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل میں ناکامی اور مشرق وسطی ہتھیاروں سے پاک کرنے میں ناکامی کو بھی دہرایا گیا ہے۔

سعودی عرب کا احتجاج اپنی جگہ درست اور ہمت افزا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دنیا کے پٹے ہوئے ممالک کو کھڑے ہونے کی دعوت دیں، تیسری دنیا کے ممالک کو ہمنوا بنا کر کھڑا کریں اور اپنی بات منوائیں۔ ہمارا یہ ہدف ہونا چاہیے کہ سلامتی کونسل میں مسلمانوں اور تیسری دنیا کے لیے ممبر ملکوں کی تعداد کے تناسب سے نشستیں طلب کی جائیں، ہمیں یہ موقف اختیار کرنا چاہیے کہ کسی بھی ممبر ملک کے پاس ویٹو پاور نہیں ہونی چاہیے، اگر ویٹو پاور کامکمل خاتمہ نہیں تو کم ازکم ویٹو کیلئے اختیار کو ہر صورت میں محدود کر دینا چاہیے ، اس کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیے تاکہ ویٹو پاور کا استعمال استحصال کا ذریعہ نہ بنے۔

موجودہ صورتحال تشویشناک ضرور ہے تاہم ہمیں ناامید بھی نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے پاس تیسرا کوئی راستہ نہیں رہا یا تو ہم ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں یا مغرب کے رنگ میں رنگے جائیں۔ اور جو وہ چاہتا ہے کرتے رہیں٫ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اللہ اور امریکا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

سعودی عرب نے بلاشبہ سلامتی کونسل کی رکنیت ٹھکرا کر جرات و غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ہم مصر کے حالیہ معاملات کے متعلق بھی سعودی قیادت کی طرف سےاسی بصیرت اور جرائت کی توقع رکھتے ہیں۔ مصر میں اخوان کی حکومت کی بعض کارروائیاں اور پالیسیاں گو محل نظر تھیں تاہم بھی فوج کی طرف سے اس کا تختہ الٹنے اور اخوان المسلمون پر ڈھائے جانے والے مظالم قابل مذمت ہیں اور اس سلسلے میں سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک کی پالیسی زمینی حقائق کو دیکھ کر وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے سامنے بھیڑ بکری بن کر رہنے والی مصری فوج کا اپنی ہی عوام کو فتح کرنا اور ان پر ظلم و ستم ڈھانا ہر حال میں قابل مذمت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'خبریں'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.