طالبان سے براہ راست مذاکرات ۔ امکانات اور خدشات

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان میں شاید ہی کسی اور طبقے سے متعلق اتنی غلط فہمیاں پائی جاتی ہوں جتنی کہ طالبان سے سے متعلق پائی جاتی ہیں۔ شاید ہی کسی اور ایشو سے متعلق اس قدر کنفیوژن موجود ہو‘ جس قدر کہ طالبانائزیشن سے متعلق ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں والا معاملہ ہے۔ اسی طرح ان کے مطالبات اور خواہشات سے متعلق بھی طرح طرح کے مغالطے پائے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ان کا منتہائے مقصود جمہوریت کا خاتمہ اور ان کی فہم کے مطابق شریعت کا نفاذ ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ امریکہ کی جنگ سے پاکستان کی لاتعلقی چاہتے ہیں۔ کوئی الزام عائد کر رہا ہے کہ وہ غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں تو کسی کا خیال ہے کہ وہ طاقت اور پیسے کے لئے لڑرہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایک ہمہ پہلو مسئلہ ہے لیکن عموماً اس کے کسی ایک پہلو کو اٹھا کر تبصرے اور تجزئیے کئے جاتے ہیں۔

دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ جو طالبان کی حقیقت کو جانتے ہیں وہ خاموش ہیں یا پھر سچ نہیں بولتے اور جو نہیں جانتے وہ زیادہ بولتے بلکہ فضول بولتے ہیں۔ ان سے متعلق ظاہر کی جانے والی کم وبیش ہر رائے خوف‘ سیاسی مصلحتوں اور طبقاتی مفادات کے پردوں میں لپٹی ہوتی ہے۔ قومی مذہبی رہنمائوں کی رائے حقائق پر مبنی ہوتی ہے اور نہ سیاسی رہنمائوں کی۔ رہے سابق فوجی افسران اور دفاعی تجزیہ نگار تو ان کے ارشادات پرتو بس صرف سرہی پیٹا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومتی نمائندوں اور طالبان کے براہ راست مذاکرات کا ایک بڑا فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ طالبان اور ان کے مطالبات سے متعلق بہت ساری افواہوں اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہوجائے گا۔ پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ طالبان اور حکومت کے مستند نمائندے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ رہے ہیں۔ طالبان کے نمائندے پوری تحریک طالبان کے نمائندے ہیں جبکہ حکومتی نمائندے حکومت اور اس کے اداروں کے نمائندے ہیں۔ اس عمل کی تکمیل سے پتہ چل جائے کہ حکومت کیا چاہتی ہے ‘ کیا دے سکتی ہے اور کیا نہیں دے سکتی اور طالبان سے متعلق بھی بات بڑی حد تک صاف ہو جائے گی کہ وہ کون ہیں ‘ کیا چاہتے ہیں اور کیسے چاہتے ہیں؟ میری دانست کے مطابق طالبانائزیشن کے پانچ بنیادی پہلو ہیں۔ (1) نظریاتی(2) تزویراتی(3) سیاسی(4) معاشی (5) معاشرتی۔ طالبان سے وابستہ لوگوں کو ہم اس بنیاد پر تقسیم کر سکتے ہیں کہ کسی نے پہلے عامل کی وجہ سے بندوق اٹھا رکھی ہے‘ کسی نے دوسرے‘ کسی نے تیسرے‘ کسی نے چوتھے اور کسی نے پانچویں۔ لیکن بنیادی طور پر وسیع تناظر میں وہ ایک ہیں۔

مثال کے طور پر تحریک انصاف میں اس وقت کئی طرح کے لوگ شامل ہیں۔ شوکت یوسف زئی وغیرہ یہ وہ لوگ ہیں جو نظرئیے کی وجہ سے شروع دن سے عمران خان کے ساتھ تھے۔ ایک دوسرا طبقہ وہ ہے جس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پیسے کے زور پر سیاست کرتا ہے۔ جیسے جہانگیر ترین اور اعظم سواتی ہیں جو روایتی بلکہ اچھی سیاست نہ کرنے والے ہیں اور جو اس وقت تحریک انصاف کے حقیقی وارث بن چکے ہیں۔ تیسری قسم میں شیرین مزاری جیسے لوگ ہیں جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جنہیں خفیہ ایجنسیوں نے یہاں مخصوص مقاصد کے لئے داخل کرایا تھا۔ کچھ لوگ علاقائی اور مقامی ضرورتوں کے تحت تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تحریک انصاف میں کئی گروپ ہیں بلکہ ایک تحریک انصاف ہے جس میں مختلف ایجنڈوں کے حامل ‘ مختلف پس منظر والے لوگ شامل ہیں۔ اسی طرح تحریک طالبان کے اندر بھی مختلف لہریں ہیں اور مختلف پس منظر کے لوگ مختلف وجوہات کی وجہ سے اس سے وابستہ ہیں لیکن بنیادی طور پر طالبان کا ہدف ‘ دشمن اور دوست ایک ہیں۔ اس قضیے کا دائمی حل تو اس وقت نکلے گا جب اس کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے والا فارمولا سامنے آئے اور پھر ریاست کے تمام ادارے مل کر اس فارمولے پر یکسوئی کے ساتھ عمل کرنے لگ جائیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے موجود حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو ان تمام پہلووں کا شعور ہے اور نہ وہ ان تمام کا احاطہ کرنے والا کوئی فارمولا سامنے لا سکے ہیں ۔ اس لئے مذاکراتی عمل سے یہ توقع کرنا بھی درست نہیں کہ اس کی وجہ سے یہ قضیہ مکمل اور دائمی طور پر حل ہو جائے گااور اس حل کے آغاز کے لئے پہلی فرصت میں تزویراتی پہلو پر توجہ دینی ہو گی تاکہ اس خطے میں جاری خفیہ ایجنسیوں اور ان کے پراکسیز کے اس گندے کھیل کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ اس کے بعد ہی دیگر پہلووں کے حل کے نکلنے کی راہ ہموار ہو گی تاہم اس کے باوجود اگر مذاکرات کے عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے‘ اس میں بیوروکریٹک طریقوں اور تاخیری حربوں سے کام نہ لیا جائے اور اس کے ذریعے سیاست اور صحافت کو چمکانے سے گریز کیا جائے تو کسی حد تک بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ ابھی تو دونوں فریقوں کے بنیادی مطالبات زیربحث ہی نہیں آئے ہیں۔ ابھی تو صرف اعتماد سازی کے معاملات پر بات ہوئی ہے اور بدقسمتی سے ان مجوزہ اقدامات کو اٹھانے میں بھی بہت ساری مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔

طالبان کے بنیادی مطالبات شریعت کا نفاذ‘ آئین میں تبدیلی‘ امریکی جنگ سے نکلنا اور انہیں پرامن زندگی گزارنے کے مواقع دینے کی یقین دہانی ہے۔ اسی طرح ریاست پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہتھیار پھینکنا اور ریاستی رٹ کو تسلیم کرنا ہے۔ ابھی تو مذاکرات میں ان ایشوز پر بات ہی نہیں ہوئی اور یقینا یہ مشکل مرحلہ ہو گا۔ ان حوالوں سے حکومت اور طالبان کو ایک مشترکہ نکتے پر لانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ پھر وہاں اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے کسی مطالبے کو تسلیم کرنا چاہے بھی تو اس پر اس کے لئے عمل درآمد بہت مشکل ہو گا ۔ مثلاً اگر حکومت طالبان کو عام معافی دینا چاہے تو پیپلز پارٹی‘ اے این پی ‘ ایم کیو ایم اور اسی طرح کی دیگر جماعتوں کی طرف سے مزاحمت ہو گی۔ اسی طرح قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر فوج اور عدلیہ کے ادارے رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان اگر حکومت کے ساتھ کوئی کمٹمنٹ کرلیں تو ضروری نہیں کہ القاعدہ اور افغان طالبان بھی اس کو تسلیم کر لیں۔ طالبان کی صفوں میں شامل احرار الہند اور انصارالمجاہدین جیسے عناصر بھی طالبان کی طرف سے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں ۔

اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکراتی عمل کو جلدازجلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ یہ روایتی طریقے کہ ایک روز ملاقات کے بعد پھر میڈیا کی چمک دمک ہو‘ پھر دوسری کمیٹی کے ساتھ میٹنگ ہو‘ پھر ہیلی کاپٹروں میں آنا جانا ہو‘ اس سے گریز کرنا چاہئے۔ اعتماد سازی پر مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے اب اصل مطالبات کی طرف آنا چاہئے۔ طالبان کی طرف سے دیگر موثر قوتوں جیسے افغان طالبان کی بھی مدد لی جائے اور حکومتی طرف سے اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ حکومت کی طرف سے ہونے والی کمٹمنٹ پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ ہو۔ مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع سے تزویراتی پہلو پر بھی توجہ دی جائے تاکہ مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں آسانی ہو۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں