زیادہ جذباتی نہ ہوں

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گوہر ایوب پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان کے صاحبزادے ہیں، یہ تین نسلوں سے سیاستدان ہیں، گوہر ایوب کے والد 11سال پاکستان کے صدر رہے، چچا سردار بہادر خان سیاستدان، پارلیمنٹ کے رکن اور1962ء میں اپوزیشن لیڈر رہے، گوہر ایوب خود پانچ بار قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی بھی بنے، وزیر خارجہ بھی رہے اور پانی و بجلی کے وزیر بھی بنے، آج کل ان کے صاحبزادے عمر ایوب قومی اسمبلی کے رکن ہیں، مجھے پچھلے دنوں گوہر ایوب کی کتاب ’’ایوان اقتدار کے مشاہدات‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا، گوہر ایوب نے کتاب میں چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے چند واقعات بھی تحریر کیے، یہ واقعات چینی کریکٹر کو ظاہر کرتے ہیں، ہم اگر چین کی سرمایہ کاری اور چین کے صدر شی چن پنگ کے دورے کوسمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان واقعات کا تجزیہ کرنا ہوگا، یہ تجزیہ ہمیں چین کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

گوہر ایوب 1966ء میں ایم این اے تھے ، عبدالجبار خان اس وقت قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے، اسپیکر صاحب بارہ ارکان اسمبلی کا وفد لے کر چین کے دورے پر گئے، چین میں وفد کی چیئرمین ماؤزے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی سے ملاقات ہوئی، ماؤزے تنگ سے ملاقات کے دوران گوہر ایوب نے چیئرمین سے پوچھا ’’ مغربی میڈیا آج کل چین کی شدید مخالفت کر رہا ہے‘‘ ماؤزے تنگ نے جواب دیا ’’ ہم مغربی میڈیا کی نکتہ چینی سے خوش ہوتے ہیں کیونکہ یہ اعتراضات ثابت کرتے ہیں ہماری ڈائریکشن ٹھیک ہے اور اس سے ہمارے دشمنوں کو تکلیف ہو رہی ہے‘‘ ماؤزے تنگ کا کہنا تھا ’’ مغربی میڈیا جب ہماری تعریف کرتا ہے تو میں چو این لائی سے پوچھتا ہوں۔

ہم نے کون سی ایسی غلطی کر دی جس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہماری تعریف کر رہے ہیں‘‘ ماؤزے تنگ نے پاک انڈیا جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’ ہمارے ہاتھوں میں دس انگلیاں ہیں، ہم اگر ان دس انگلیوں پر ضرب لگائیں تو ہمیں زیادہ تکلیف نہیں ہوگی لیکن اگر کوئی شخص ہماری ایک انگلی کاٹ دے تو ہم پوری زندگی یہ نقصان پورا نہیں کر سکیں گے‘‘ ماؤزے تنگ کا کہنا تھا ’’ آپ پورے بھارت پر حملہ نہ کریں، آپ اس کی کوئی ایک کمزوری تلاش کریں اور پھر اس کمزوری پر بھرپور حملہ کریں۔

بھارت یہ نقصان کبھی پورا نہیں کر سکے گا‘‘۔گوہر ایوب کو اس دورے کے دوران وزیراعظم چو این لائی نے بیگم کے ساتھ چین آنے کی دعوت دی، گوہر ایوب اس دعوت کو رسمی سمجھ کر بھول گئے لیکن یہ 1967ء میں لندن تھے تو انھیں چو این لائی کا دوبارہ پیغام ملا ، گوہر ایوب اس دعوت پر مئی 1967ء کو بیجنگ چلے گئے، یہ ائیر پورٹ پر اترے تو انھیں ایک بڑا گلدستہ پیش کیا گیا، گلدستے کے ساتھ ایک پرچی تھی، پرچی پر گوہر ایوب کے والد ایوب خان کی سالگرہ کی مبارکباد تحریر تھی، گوہر ایوب حیران رہ گئے کیونکہ 14 مئی ان کے والد کی پیدائش کا دن تھا اور گوہر ایوب کو بھی والد کی سالگرہ یاد نہیں تھی۔

چو این لائی نے گوہر ایوب کو گریٹ ہال آف پیپل میں لنچ دیا، لنچ پر دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا،گوہر ایوب نے گفتگو کے دوران وزیراعظم سے درخواست کی ’’ ہم انگریزی میں گفتگو کر سکتے ہیں‘‘ چو این لائی مسکرائے اور چینی زبان میں گفتگو جاری رکھی، گوہر ایوب نے 1971ء کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ’’ فوجی قیادت نے بھٹو صاحب کو بھارت کے خلاف امداد کے لیے چین بھجوایا، چینی قیادت نے جواب دیا، آپ صلح کے ذریعے معاملہ طے کرنے کی کوشش کریں، آپ صلح کرنا چاہیں تو ہم تعاون کے لیے تیار ہیں، پیغام بہت واضح تھا لیکن فوج نے صلح کے لیے تعاون کو فوجی تعاون سمجھ لیا چنانچہ جب بھارتی فوج ڈھاکا کی طرف بڑھی تو ہمارے فوجی زعماء اسے چینی فوج سمجھ کر استقبال کے لیے روانہ ہو گئے اور گرفتار کر لیے گئے۔

گوہر ایوب کی کتاب میں چین سے متعلق اور بھی بے شمار واقعات ہیں مگر ہم سر دست صرف ان تین واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں، یہ تین واقعات چینی کردار کو سمجھنے کے لیے کافی ہوں گے، آپ اگر تاریخ میں چالیس پچاس سال پیچھے چلے جائیں تو آپ کو چین اور مغرب ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آئیں گے، 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں دنیا کی کوئی ائیر لائین چین جاتی تھی اور نہ ہی چین کے جہازوں کو ائیر پورٹ پر اترنے کی اجازت دی جاتی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب کوئی مغربی صحافی چین کی تعریف کرتا تھا تو چینی قیادت ایک دوسرے سے پوچھتی تھی ’’ہم سے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی،، لیکن آج پچاس سال بعد یورپ اور امریکا کی 36 ہزار بڑی کمپنیاں چین میں موجود ہیں، چین دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بھی بن چکا ہے اور یہ خیال بھی اب حقیقت ہو چکا ہے ’’چین نے جس دن اپنی فیکٹریوں کا سوئچ آف کر دیا، دنیا اس دن رک جائے گی‘‘۔ سوال یہ ہے چین نے یہ کمال کیا کیسے؟ اس کا جواب ماؤزے تنگ کی مثال میں چھپا ہے، چیئرمین نے گوہر ایوب سے کہا تھا ’’آپ دشمن کی کمزوری تلاش کریں، اس کمزوری پر بھرپور حملہ کریں، دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا‘‘ چین نے 30 سال اہل مغرب کو اسٹڈی کیا اور یہ اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ’’معیشت مغرب کی کمزوری ہے۔

ہم اگر مغرب کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی اس کمزوری پر بھر پور حملہ کرنا ہوگا‘‘ چین نے اس کے بعد معیشت کو میدان جنگ بنا لیا، چینی قیادت نے اپنے لوگوں کو جدید ہنر سکھائے، فیکٹریاں قائم کیں، سستی مصنوعات تیار کرائیں، عالمی منڈیوں کا رخ کیا اور پھر دنیا کو حیران کر دیا، آج مغرب ہو، شمال ہو، جنوب ہو یا مشرق ہو پوری دنیا چین کے قبضے میں ہے۔

آپ چین کے معاشی حملے کا نتیجہ ملاحظہ کیجیے، امریکا جیسی سپر پاور اس وقت چین کی 12 کھرب ڈالر کی مقروض ہے،یہ 2010ء تک کی صورتحال تھی، چین نے 2010ء کے بعد پالیسی میں ایک اور تبدیلی کی، چین 2010ء تک براہ راست سرمایہ کاری نہیں کرتا تھا، یہ 2010ء تک دوستوں کو مچھلی دینے کے بجائے انھیں مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھاتا تھا لیکن پھر چین نے اندازہ لگایا سرمایہ کاری اس وقت دنیا کی دوسری بڑی کمزوری ہے۔

دنیا سرمایہ کاروں کو ویزے بھی دیتی ہے، شہریت بھی، قرضے بھی اور پاسپورٹ بھی، آپ کے پاس اگر دو لاکھ پاؤنڈ ہیں تو آپ انگلینڈ کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں، آپ چار پانچ لاکھ ڈالر کا بندوبست کرلیں تو آپ کینیڈا اور امریکا کی نیشنلٹی حاصل کر سکتے ہیں اور آپ پانچ لاکھ یورو جمع کر لیں تو آپ کو یورپ کے کسی بھی ملک میں شہریت مل جائے گی، چین نے دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کار ملک بننے کا فیصلہ کر لیا اور چین نے سرمایہ کاری شروع کر دی۔

چین کی سرمایہ کاری دو حصوں پر مشتمل ہے، یہ یورپ اور امریکا کو قرضے دیتا ہے، امریکا چین کا 12کھرب ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے جب کہ یورپی یونین چینی قرضوں میں دھنستی جا رہی ہے، دوسرے حصے میں اس نے غریب ممالک کے انفرا سٹرکچر میں سرمایہ کاری شروع کر دی، چین کا فوکس ہمسایہ ممالک اور افریقہ ہے، چین نے افریقہ میں1995ء میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، یہ سرمایہ کاری2010ء تک 130 بلین ڈالر تک پہنچی اور یہ 2014ء میں 200 بلین ڈالر ہو چکی ہے۔

چین کینیا سے لے کر نائیجیریا تک افریقہ کے تمام اہم ممالک کی معاشی شہ رگ اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے، افریقہ کے بعد ہمسایہ ممالک چین کا فوکس ہیں، آپ بھارت کی مثال لیجیے، بھارت کے ساتھ چین کے خوفناک تنازعے چلتے رہے، یہ دونوں ممالک 55 سال سے برسر پیکار رہے لیکن آج چین بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، چینی صدر پاکستان سے پہلے بھارت گئے، یہ تین دن بھارت رہے اور انھوں نے وہاں پاکستان سے دو گنے منصوبوں کا افتتاح کیا، چین منگولیا، تاجکستان، افغانستان، ایران، ازبکستان، قزاقستان اور آذربائیجان میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے ، پاکستان بھی اس سرمایہ کار پالیسی کا حصہ ہے۔

پاکستان سینٹرل ایشیا، گرم سمندر، بھارت اور چین کے درمیان واقع ہے، یہ چین، بھارت اور سینٹرل ایشیا تینوں کے لیے انتہائی اہم ہے چنانچہ چینی صدر نے پاکستان میں بھی 46 ارب ڈالر کے منصوبوں کا افتتاح کیا، ہم اس کامیابی پر بغلیں بجا رہے ہیں، ہم شاید اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں، یہ سرمایہ کاری صرف پاکستان کی محبت اور ہمارے 68 سال کے تعلقات کا نتیجہ ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ بھارت، منگولیا، تاجکستان اور افغانستان چین کے دوست نہیں تھے مگر چین نے ہم سے پہلے وہاں سرمایہ کاری شروع کی۔
افریقہ کا کوئی ملک چین کا دوست نہیں رہا مگر چین افریقہ کے 34 ممالک میں ہم سے کئی گنا زیادہ سرمایہ کاری کر چکا ہے، یہ حقائق ثابت کرتے ہیں یہ سرمایہ کاری چین کی پالیسی ہے اور یہ پالیسی ماؤزے تنگ کی اس پالیسی کو ظاہر کرتی ہے ’’آپ دشمن کی کمزوری پر بھرپور حملہ کریں‘‘ اور یہ حملہ بنیادی طور پر سرمایہ کاری نظام پر حملہ ہے۔گوہر ایوب کے بیان کردہ واقعات یہ بھی ثابت کرتے ہیں چین نے کبھی اپنی زبان پر کمپرومائز نہیں کیا، یہ دوستوں کے ساتھ بھی چینی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، یہ چین کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے آج پوری دنیا چینی زبان سیکھنے پر مجبور ہے۔

ہم بھی اپنے بچوں کو چائنیز سکھا رہے ہیں، یہ واقعات ثابت کرتے ہیں چینی قیادت دوستوں کی سالگرہ تک یاد رکھتی ہے، یہ لوگ ہر چیز، ہر بات کا ریکارڈ رکھتے ہیں چنانچہ آپ انھیں دھوکا نہیں دے سکتے اور آخری بات ہم 1971ء کی جنگ کے دوران غلط تھے چنانچہ چین نے دوست ہونے کے باوجود ہماری مدد نہیں کی، ہم مستقبل میں بھی جہاں غلط ہوں گے یہ ہماری جسمانی مدد نہیں کرے گا۔

پاک چین معاہدے ایک نئی اوپننگ ہیں، ہمیں اس اوپننگ کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے بین الاقوامی تعلقات کا صرف ایک اصول ہوتا ہے اور وہ اصول ’’مفادات‘‘ ہے۔ چین کو اگر ہم سے فائدہ ہوگا تو یہ ان معاہدوں کو آگے بڑھائے گا ورنہ دوسری صورت میں سرمایہ کاری واپس چلی جائے گی اور ہمارے ہاتھ میں کاغذ کے چند ٹکڑے اور چینی صدر کے ساتھ چند تصاویر رہ جائیں گی یا پھر ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی کے دعوے رہ جائیں گے۔
----------------------
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں