.

تاریخ کا ادراک

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’یہ تاریخ کا ادراک نہیں رکھتے‘‘ یہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف پر مختصر لیکن جامع تبصرہ تھا، واجپائی اس تبصرے کے لیے کیوں مجبور ہوئے؟ یہ کہانی بھی کم دلچسپ نہیں، صدر مشرف 14 جولائی 2001ء کو پاک بھارت مذاکرات کے لیے آگرہ پہنچے، واجپائی اس وقت بھارت کے وزیراعظم تھے، وہ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتے تھے۔یہ اس سلسلے میں 20 فروری 1999ء کو لاہور بھی آئے، میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی، یہ معاملات آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک کارگل کا واقعہ پیش آ گیا، کشمیر پر پیش رفت رک گئی، کارگل کا محاذ ٹھنڈا ہوا تو 12 اکتوبر 1999ء ہو گیا، میاں نواز شریف فارغ ہو گئے، جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا، امریکا بھی اس دور میں کشمیر پر سنجیدہ تھا چنانچہ امریکی کوششوں سے واجپائی پاکستان سے دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے، آگرہ میں میٹنگ کا فیصلہ ہوا۔

جنرل پرویز مشرف اس وقت تک ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے، صدر کا عہدہ رفیق تارڑ کے پاس تھا، جنرل پرویز مشرف نے ان مذاکرات کو آئینی اور قانونی حیثیت دینے کے لیے رفیق تارڑ کو صدر کے عہدے سے سبکدوش کیا اور 20 جون 2001ء کو باوردی صدر بن گئے، یہ صدر کی حیثیت سے 14 جولائی 2001ء کو آگرہ گئے، بھارتی حکومت نے گرم جوشی سے استقبال کیا، یہ پاک بھارت تعلقات میں ایک بڑا بریک تھرو تھا، پاکستان اور بھارت طویل عرصے بعد اس لیول پر آئے تھے جہاں یہ باہمی مسائل کا حل تلاش کر سکتے تھے لیکن جنرل پرویز مشرف اس وقت تازہ تازہ ’’ہیڈ آف اسٹیٹ،، بنے تھے۔

وہ بھارت جاتے ہوئے 54 سالہ پرانی دشمنی کا صندوق بھی ساتھ لے گئے، وہ تین دن بھارت میں رہے، آگرہ میں ان کے وفد کی بھارتی زعماء کے ساتھ نصف درجن ملاقاتیں ہوئیں لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، آگرہ کانفرنس ناکام ہو گئی، جنرل مشرف 16 جولائی کی شام ناکام واپس آ گئے، جنرل مشرف کی واپسی کے بعد وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھیوں نے ان سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا، واجپائی مسکرائے اور پھر جواب دیا “He does not have sense of history” (یہ تاریخ کا ادراک نہیں رکھتے)۔ یہ جنرل پرویز مشرف کی شخصیت پر جامع تبصرہ تھا، ہم یقینا واجپائی کے اس تبصرے سے اتفاق نہیں کریں گے کیونکہ ہم اپنے علاقائی مسائل کو ہمیشہ اپنے مخصوص زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔

ہم اس لیڈر کو لیڈر مانتے ہیں جو بھارتی سرحدوں کی طرف منہ کرتے ہی سلطان محمود غزنوی بن جائے، جو پاکستانی سرزمین پر بھارت کو للکارے، جو سرحدوں پر کھڑا ہو کر ’’ اوئے مودی‘‘ کا نعرہ لگائے اور جو بھارتی زمین پر قدم جما کر پوری بھارتی قوم کو للکارے، یہ رویہ سیاست اور فلم کے میدان میں کامیاب ثابت ہوتا ہے، لوگ اس پر دیوانہ وار تالیاں بجاتے ہیں لیکن یہ سفارت کاری میں زہر قاتل ہوتا ہے، سفارت کاری شائستگی، نرمی اور برداشت کا کھیل ہوتی ہے، آپ اس کھیل میں آہستہ آہستہ چالیں چلتے ہیں اور صرف اور صرف اپنے ٹارگٹ پر نظر رکھتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ ہمارے تین بڑے ایشوز ہیں، ہم مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں، کشمیر ہمارا ہے اور ہمیں یہ ہر قیمت پر چاہیے، دوسرا ایشو، بھارت ہمارا ہمسایہ ہے اور کوئی شخص اور کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرتی جب تک وہ ہمسایوں سے تعلقات ٹھیک نہیں کر لیتی، بھارت اور پاکستان کے تعلقات 68 سالوں سے خراب ہیں، ہم چار جنگیں لڑ چکے ہیں، ہم دونوں ملک اسلحے کا ڈھیر لگا رہے ہیں، ہم ضد بازی میں جوہری طاقتیں تک بن چکے ہیں، دنیا کو خطرہ ہے بھارت اور پاکستان کے ایٹم بم کسی دن شدت پسندوں کے ہاتھ آ جائیں گے۔

نریندر مودی اس وقت بھارت کے وزیراعظم ہیں، یہ چالیس سال سے پاکستان اور مسلم دشمنی کی سیاست کر رہے ہیں، یہ اگر اکھڑ جائیں اور یہ جوہری دھمکی دے دیں، پاکستان کے اندر بھی ایسے لاکھوں لوگ موجود ہیں جو بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں یوں یہ معاملہ بگڑ جائے گا اور یہ پورا خطہ جہنم بن جائے گا، پاکستان اور بھارت کی غربت کی بڑی وجہ بھی یہ جنگی جنون ہے، یہ دونوں ملک اگر اچھے ہمسائے بن جائیں، یہ لڑنا بند کر دیں،یہ ترقی پر توجہ دیں تو بیس تیس برسوں میں خطے میں خوشحالی آ جائے اور تیسرا ایشو، پاکستان اور بھارت دونوں بڑی منڈیاں ہیں، پاکستان اور بھارت کی سرحدیں کھل جائیں تو دونوں ملکوں کو گاہک ملیں گے اور یہ گاہک خطے کی معیشت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ تینوں مسئلے مشترک ہیں اور ان مسئلوں کے حل کے لیے بہرحال دونوں ملکوں کی قیادت کو میز پر بیٹھنا پڑے گا۔ ’’یہ بیٹھنا‘‘ تاریخ کا سبق ہے، تاریخ بتاتی ہے انسان خواہ کتنی بڑی جنگ لڑ لے، یہ خواہ کروڑوں لوگ قتل کر دے یا قتل کروا لے اسے بہرحال میز پر ہی بیٹھنا ہو گا، یہ مسائل بہرحال مذاکرات ہی کے ذریعے حل کرے گا، تاریخ کا دوسرا سبق دشمنوں کی ملاقات کا وقت ہے، دنیا میں جب دو قومیں لڑتی ہیں تو ان کی زندگی میں بہت کم ایسے وقت آتے ہیں جب ان کے سربراہوں کے درمیان ملاقات ہوتی ہے، ملاقات کا یہ وقت بہت قیمتی ہوتا ہے کیونکہ یہ وقت قوموں کا مستقبل طے کرتا ہے، آپ اس ملاقات میں مزید جنگ یا جنگ بندی کا فیصلہ کرتے ہیں، آگرہ کی ملاقات میں یہ دونوں مواقع موجود تھے۔

پاکستانی جرنیل بھارت کی شدت پسند سیاسی جماعت بی جے پی کے ایسے وزیراعظم سے مل رہا تھا جو مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتا تھا لیکن جنرل مشرف نے تاریخ کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے یہ موقع ضایع کر دیا، یہ خالی ہاتھ واپس آ گئے اور انھیں بعد ازاں بھارتی قیادت کو دوبارہ آگرہ جیسی پوزیشن پر لانے کے لیے درجنوں پاپڑ بیلنے پڑے، ہمیں امریکا، یورپ اور چین کی مدد بھی لینا پڑی اور نیٹو کو وہ رعایتیں بھی دینی پڑیں جنہوں نے ملک کو دوزخ کے منہ تک پہنچا دیا، یہ ادراک کی وہ کمی تھی جس کا خمیازہ ملک آج تک بھگت رہا ہے۔

تاریخ کا یہ المیہ صرف جنرل پرویز مشرف تک محدود نہیں تھا بلکہ ہمارے زیادہ تر حکمران اسی صورتحال کا شکار ہیں، آپ میاں نواز شریف کی مثال لے لیجیے، میاں صاحب تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے، یہ تجربہ کار ترین سیاستدان ہیں لیکن یہ اس تجربے کے باوجود آج تک تاریخ کے ادراک سے محروم ہیں، یہ آج کے زمانے میں بھی وہ غلطیاں کر رہے ہیں جو دو تین سو سال قبل نادان بادشاہ کیا کرتے تھے، میاں صاحب آج تک تاریخ کو نہیں سمجھ سکے مثلاً آپ 25 اپریل کی مثال لیجیے، 25 اپریل 2015ء کو برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گیلی پولی کی جنگ کی سو سالہ دعائیہ تقریبات ہوئیں، برطانیہ نے سو سال قبل 25 اپریل 1915ء کو گیلی پولی کے جزیرے پر حملہ کیا، گیلی پولی ترک جزیرہ ہے۔

یہ ’’بلیک سی‘‘ کے ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے یورپ اور روس کے بحری جہاز گزرتے تھے، پہلی جنگ عظیم کا مرکز یورپ تھا، جرمنی برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دے رہا تھا، سر ونسٹن چرچل اس وقت ’’فرسٹ لارڈ آف ایڈمریلٹی‘‘ تھے، چرچل کا خیال تھا ہم اگر ایک دوسرا محاذ کھول لیں تو جرمنی کی توجہ یورپ سے ہٹ جائے گی اور یوں ہم یورپ میں جنگ جیت جائیں گے، چرچل کو گیلی پولی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں قبضہ کر کے یہ دنیا کا اہم ترین بحری روٹ اپنے ہاتھ میں لے سکتے تھے۔

چرچل کا خیال تھا برطانیہ گیلی پولی پر قبضے کے بعد استنبول پر بھی قابض ہو جائے گا، چرچل نے 25 نومبر 1914ء کو اپنا یہ منصوبہ برٹش وار کونسل میں پیش کیا، جرنیلوں کو چرچل سے اختلاف تھا لیکن چرچل ڈٹ گیا، وارکونسل نے منصوبے کی منظوری دے دی، برطانیہ نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فرانس کے فوجی جمع کیے اور 25 اپریل 1915ء کو گیلی پولی پر یلغار کر دی، برطانوی بحری جہاز گیلی پولی پہنچے اور فوجیوں نے ساحلوں پر اترنا شروع کر دیا، خلافت عثمانیہ اس وقت آخری سانسیں لے رہی تھی، خلیفہ نے گیلی پولی کی حفاظت کی ذمے داری 19 ویںڈویژن کو سونپ دی، اتاترک اس وقت ترک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل تھے، یہ گیلی پولی میں تعینات تھے، ترک فوج جزیرے میں کمزور تھی، جزیرے کا ساحل 150 میل لمبا تھا جب کہ جوان صرف 84 ہزار تھے، ان میں سے بھی لڑنے کے قابل صرف 62 ہزار تھے۔

اتاترک کی کمان میں 57 رجمنٹ تھی، اتاترک نے لڑنے کا فیصلہ کیا، انھوں نے 25 اپریل کی صبح اپنے جوان جمع کیے اور ان سے کہا ’’میں تمہیں لڑنے کا حکم نہیں دے رہا، میں تمہیں مرنے کا حکم دے رہا ہوں‘‘ جوانوں نے اپنے کمانڈر کے حکم پر سر تسلیم خم کیا اور دشمن پر جا گرے، گیلی پولی کی اس جنگ میں پوری 57 رجمنٹ ختم ہو گئی، رجمنٹ کا کوئی جوان زندہ نہ بچا، گیلی پولی کی جنگ صرف جنگ نہیں رہی، موت کا رقص بن گئی اور گیلی پولی صرف گیلی پولی نہ رہا وہ قبرستان بن گیا، ترکوں نے اتحادی فوجوں کو اڑا کر رکھ دیا، گیلی پولی کی جنگ میں برطانیہ کے 73 ہزار دو سو اور فرانس کے 27 ہزار فوجی ہلاک ہوئے، برطانوی فوجیوں کی زیادہ تعداد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے تعلق رکھتی تھی۔

ترک شہداء کی تعداد اڑھائی لاکھ تھی، ان اڑھائی لاکھ لوگوں میں 57 رجمنٹ کے تمام جوان بھی شامل تھے، گیلی پولی کی جنگ سے سیاسی اتاترک کا ظہور ہوا، اتاترک نے اس کے بعد ترکی کی آزادی کا جھنڈا اٹھایا اور یوں ایک عظیم اسلامی ملک نے جنم لیا، ہندوستان کے مسلمانوں نے گیلی پولی کی جنگ اور جنگ کے بعد اتاترک کی کوششوں کو بھرپور سپورٹ کیا، ہندوستانی مسلمان خواتین نے اپنے زیور تک اتار کر ترکی بھجوا دیے، یہ زیورات آج بھی انقرہ کے میوزیم میں موجود ہیں۔

گیلی پولی کی جنگ برطانوی سماج اور ترک نیشنل ازم کی جنگ تھی، ترک نیشنل ازم یہ جنگ جیت گیا، برطانیہ نے 25 اپریل 2015ء کو لندن میں گیلی پولی کے آنجہانی فوجیوں کے اعزاز میں دعائیہ تقریب منعقد کی، آپ ہمارے وزیراعظم کا تاریخ کا ادراک ملاحظہ کیجیے، میاں نواز شریف ترکوں کے ہاتھوں مرنے اور ترکوں کو مارنے والے فوجیوں سے اظہار عقیدت کے لیے ہار لے کر اس تقریب میں شریک ہو گئے، مجھے شک ہے میاں نواز شریف کو گیلی پولی کی تاریخ معلوم نہیں ہو گی کیونکہ یہ اگر بیک گراؤنڈ جانتے ہوتے تو یہ کبھی یہ غلطی نہ کرتے، یہ 25 اپریل کو برطانیہ کے بجائے ترکی جاتے اور ترک حکومت کی تقریب میں شریک ہوتے، ترکی نے بھی 25 اپریل کو گیلی پولی کے شہداء کے لیے سو سالہ تقریبات کا اہتمام کیا تھا، یہ کتابوں اور تاریخ سے دوری ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم اپنی قیادت کے ایسے کارناموں میں دیکھتے رہتے ہیں۔

میاں صاحب اور جنرل پرویز مشرف میں کوئی اور بات، کوئی اور چیز مشترک ہو یا نہ ہو لیکن ان دونوں میں ایک بات، ایک چیز کامن ہے، یہ دونوں ہسٹری کی سینس نہیں رکھتے اور جو حکمران تاریخ کا ادراک نہ رکھتے ہوں وہ اور ان کی قومیں دونوں آخری وقت تک بحرانوں میں رہتی ہیں، جنرل مشرف بحران کا شکار ہیں، میاں صاحب بحران کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے اور پیچھے رہ گئی قوم تو یہ بھی پیدائش سے لے کر آج تک بحرانوں میں گرفتار ہے، یہ کبھی اس سے باہر نہیں آ سکی اور شاید آ بھی نہ سکے کیونکہ آپ جب تک ماضی کا تجزیہ نہیں کرتے آپ کا حال اچھا نہیں ہو سکتا اور آپ کا حال جب تک اچھا نہ ہو آپ کا مستقبل اس وقت تک روشن نہیں ہو سکتا۔

---------------------

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.