.

انسان خسارے میں ہے

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے عرض کیا ’’خواجہ صاحب سائنس نے کمال کر دیا ہے، قدرتی آفتیں اور بیماریاں انسان کے دو بڑے مسئلے ہیں، سائنس ان دونوں کے حل کے قریب پہنچ چکی ہے، اب وہ وقت دور نہیں جب انسان آفتوں اور عذابوں کے ہاتھ سے نکل آئے گا‘‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتے رہے، وہ نرم آواز میں بولے ’’مثلاً سائنس نے کیا کر دیا ہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر زلزلے، آتش فشاں، آندھیاں ٗ طوفان اور سیلاب پانچ بڑی آفتیں ہیں، سائنس نے ان آفتوں کی پیش گوئی کا سسٹم بنا لیا ہے، سائنس دانوں نے ایک ایسا کیمرہ بنایا ہے جو آتش فشاں کے پیندے میں چلا جاتا ہے اور وہاں آنے والی تبدیلیاں نوٹ کر لیتا ہے۔

ماہرین یہ تبدیلیاں دیکھ کر پیشین گوئی کر سکیں گے فلاں آتش فشاں فلاں دن اور فلاں وقت ابل پڑے گا،اس سسٹم کے بعد آتش فشاں کے قریب آباد لوگ وہاں سے بروقت نقل مکانی کر جائیں گے، یوں بے شمار لوگوں کی جانیں اور املاک بچ جائیں گی‘‘ خواجہ صاحب سکون سے سنتے رہے، میں نے عرض کیا ’’زلزلے کے ماہرین نے ایک ایسی سلاخ بنائی ہے جو زمین کی تہہ میں پچاس ساٹھ کلومیٹر نیچے چلی جائے گی، یہ زمین کے اندر موجود پلیٹوں کی حرکت نوٹ کرے گی اب جونہی کسی پلیٹ میں کسی قسم کی حرکت ہو گی ماہرین زلزلے سے کہیں پہلے زلزلے کی شدت، اس کے مرکز اور اس سے متاثر ہونے والے علاقے کا تخمینہ لگا لیں گے۔

ماہرین اس علاقے کے لوگوں کو بروقت مطلع کر دیں گے لہٰذا وہ لوگ زلزلے سے پہلے گھروں اور دفتروں سے باہر آ جائیں گے، یوں ہزاروں لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی، ماہرین نے عمارتوں کے ایسے ڈھانچے بھی بنا لیے ہیں جو ساڑھے نو درجے کی شدت سے آنے والے زلزلے میں بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے چنانچہ وہ وقت دور نہیں جب زلزلے آئیں گے لیکن لوگ اطمینان سے اپنے معمول کے کام کرتے رہیں گے ‘‘ خواجہ صاحب بڑی توجہ سے میری بات سنتے رہے، میں نے عرض کیا ’’بیماریاں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں، سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے ہمارے جینز میں ساڑھے چار ہزار بیماریاں ہوتی ہیں، ہر بیماری کا ایک الگ جین ہوتا ہے، سائنس دانوں نے اڑھائی ہزار مہلک بیماریوں کے جینز تلاش کر لیے ہیں لہٰذا اب وہ وقت دور نہیں جب سائنس دان تکلیف شروع ہونے سے پہلے کسی شخص کا معائنہ کریں گے۔

اس میں پروان چڑھنے والے جینز دیکھیں گے، ان جینز کو صحت مند جینز کے ساتھ بدل دیں گے اور مریض مرض کے حملے سے پہلے ہی صحت مند ہو جائے گا، انسانی کلوننگ کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے، اگلے دس بیس برس میں انسان مرنے سے پہلے دوبارہ جنم لینا شروع کر دے گا‘‘ خواجہ صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا، میں نے عرض کیا ’’اس طرح سائنس دانوں نے آندھیوں، طوفانوں اور سیلابوں کی پیدائش کے مراکز بھی تلاش کر لیے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے اگر ان آفتوں کے مراکز تباہ کر دیے جائیں تو یہ آفتیں پیدا نہیں ہونگی، سائنس دان ایسے آلے بنا رہے ہیں جو ان ہوائوں، ان پانیوں اور ان موجوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیں گے جو اکٹھی ہوکر آندھی، سیلاب اور طوفان بنتی ہیں چنانچہ اگلے بارہ برسوں میں انسان ان تینوں آفتوں پر بھی قابو پا لے گا لہٰذا خواجہ صاحب آنے والا وقت انسان کے لیے بڑا آئیڈیل ہو گا، دنیا میں انسان کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہو گا، لوگ مطمئن، آرام دہ اور سکھی زندگی گزاریں گے‘‘

خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور مجھے میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ کر بولے ’’تم بڑے بے وقوف ہو، یہ قدرتی آفتیں اتنی بڑی دشمن نہیں ہیں جتنا بڑا انسان، انسان کا دشمن ہے۔ آج تک انسان نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پچھلے دس ہزار سال میں قدرتی آفتیں مل کر نہیں پہنچا سکیں، تم یہ دیکھ لو 8 اکتوبر کے زلزلے میں جتنے لوگ مارے گئے تھے اس سے پانچ گنا زیادہ لوگ ہماری سڑکوں پر پچھلے ساٹھ برسوں میں حادثوں میں مارے گئے ہیں، ہر سال ہمسایوں کے ہاتھوں جتنے ہمسائے قتل ہوتے ہیں، جتنے بیٹے اپنے باپ قتل کرتے ہیں، آشنائوں کے ہاتھوں جتنے خاوند مارے جاتے ہیں، جتنے خاوند اپنی بیویوں کو قتل کرتے ہیں، ڈاکوئوں کے ہاتھوں جتنے راہگیر مارے جاتے ہیں اور جتنے دوست ہر سال دوستوں کو قتل کرتے ہیں، یہ ساری ہلاکتیں قدرتی آفتوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، بش جیسے لوگ اپنی انا کی تسکین کے لیے جتنے لوگ مار دیتے ہیں۔

دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنے لوگ مارے جاتے ہیں، کشمیر، فلسطین، افغانستان، سری لنکا، عراق اور چیچنیا میں انسانوں کے ہاتھوں جتنے انسان مارے جاتے ہیں، گورے کے ہاتھوں جتنے کالے مارے جاتے ہیں اور سرخ رو انسان جتنے پیلے انسانوں کو قتل کرتے ہیں یہ تعداد قدرتی آفتوں کا لقمہ بننے والے انسانوں سے کہیں زیادہ ہے، ناگا ساگی پر بم کس نے پھینکا تھا ،ایک انسان نے،اس کا نشانہ کون بنے دوسرے انسان ، دوسری اور پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی تھی ، ایک انسان نے ٗ اس جنگ کا لقمہ کون بنے ، دوسرے انسان ، کوریا کی جنگ کس نے چھیڑی تھی ،ویتنام پر حملہ کس نے کیا تھا ، روس افغانستان جنگ کس نے شروع کی تھی ، افغانستان اور عراق پر حملہ کس نے کیا تھا؟ انسان نے ٗ اور ان جنگوں سے کس کو نقصان پہنچا، انسان کو؟ بارہ اکتوبر کا واقعہ کس کا کمال تھا؟ انسان کا اور اس کا نقصان کس کو پہنچا؟ انسان کو؟ اس دنیا میں بھائی کے ہاتھوں بھائی اور دوست کے ہاتھوں دوست مارا جاتا ہے لہٰذا انسان کا سیلابوں ٗ طوفانوں اور بیماریوں سے مقابلہ نہیں ، انسان کا انسان سے مقابلہ ہے اور جب تک انسان کی شرست میں تبدیلی نہیں آتی، یہ دنیا دارِ امن نہیں بن سکتی، اس زمین پر تخریب کا عمل جاری رہے گا‘‘

میں خواجہ صاحب کی بات غور سے سنتا رہا، انھوں نے فرمایا ’’انسان، انسان سے خائف ہے، وہ جب بھی ذرا سا خوشحال ہوتا ہے، اسے جب بھی ذرا سا اقتدار یا اختیار ملتا ہے، وہ جب بھی ذرا سی کامیابی پاتا ہے تو وہ دوسرے انسان کو تکلیف دینا شروع کر دیتا ہے، وہ آم کھا کر گٹھلیاں ہمسائے کے گھر پھینک دے گا، وہ دو لاکھ کا کتا خریدے گا اور یہ کتا دوسرے کے دروازے پر باندھ دے گا، وہ ایٹم بم بنا کر چاہے گا ساری دنیا اس کے قدموں میں جھک جائے، وہ بادشاہ کا مصاحب بن کر چاہے گا سب لوگ اسے سلام کریں۔

سب لوگ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں، اب دوسری طرف بھی انسان ہوتا ہے، اس کے اندر بھی وہی خون، وہی انا اور وہی ہٹ دھرمی ہوتی ہے لہٰذا انسان انسان کے ساتھ ٹکرا جاتا ہے اور آخر میں دونوں فنا ہو جاتے ہیں، انسان کی انسان کے ساتھ جنگ میں پورس بھی مارا جاتا ہے اور سکندر بھی، دونوں خسارے میں رہتے ہیں، یہ اس زمین کا قانون ہے لہٰذا انسان جب تک مقدونیہ، سمرقند اور واشنگٹن کے اقتدار تک محدود نہیں رہتا، وہ جب تک دوسرے انسان پر حکمرانی کی خواہش ختم نہیں کرتا، وہ جب تک دوسرے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ بند نہیں کرتا اس وقت تک انسان کے ہاتھوں انسان مارا جاتا رہے گا، اس وقت تک اس زمین پر امن نہیں ہو گا‘‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا، انھوں نے فرمایا ’’سائنس دانوں کو قدرتی آفتوں کے بجائے انسانی شرست کا کوئی علاج دریافت کرنا چاہیے۔

انھیں کوئی ایسی دوا ایجاد کرنی چاہیے جسے کھانے کے بعد صدر بش اور صدام حسین کی انا پُر سکون ہو جائے اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرانا بند کر دیں، جسے کھانے سے صدر پرویز مشرف اور نواز شریف کے اختلافات ختم ہو جائیں اور دونوں خود کو کمزور اور چند سانسوں کے مہمان انسان سمجھ لیں، جسے کھانے سے طالبان اور امریکا ایک دوسرے کو تسلیم کر لیں، جسے کھانے سے ایران اور امریکا ایک دوسرے کی آزادی اور زندہ رہنے کا حق مان لیں، جسے کھانے سے انسان انسان کو معاف کر دے اور جسے کھانے سے انسان انسان سے ٹکرانا بند کر دے‘‘۔

میں خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا، انھوں نے فرمایا ’’یقین کرو ایک جنگل میں دو شیر سکون اور آرام سے رہ سکتے ہیں لیکن ایک چھت کے نیچے دو انسان لڑے، ٹکرائے اور مرے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے، شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا عصر کی قسم انسان خسارے میں ہے‘‘۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.