پاکستانی فوج کی تحقیر کے لئے مودی کا 350 ملین کا فنڈ

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پچھلے ہفتے دفاع پاکستان کی گولڈن جوبلی کے ایک اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی فوج کی تحقیر کے لئے 350 ملین کا فنڈ مختص کیا ہے۔

بھارت کی کوشش ہو گی کہ وہ ا یک تو پینسٹھ میں اپنی برتری اور فتح کا ڈنکا بجائے اور پاکستانی فوج کو اس جنگ میں جارح اور شکست خوردہ ظاہر کرے۔اس میں اسے اس حد تک کامیابی ہو گئی ہے کہ پاکستانی تجزیہ کاروںکے پاس معاہدہ تاشقند میں اگست کی پوزیشنوں پر واپسی کی شق کا کوئی جواب نہیں ہے، بلکہ ہر ٹاک شو میں ہم خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پہل تو پاک فوج نے کی تھی، وہ کشمیر کی سیز فائرلائن پر ہو یا عالمی سرحد پر۔ دوسرے ہمارے تجزیہ کار یہ بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ بھارت کی فتح یہ تھی کہ اس نے کشمیر میں پاکستان کی برق رفتار پیش قدمی روک دی۔تیسرے عالمی سرحد پر کھیم کرن کے کھیتوں میںپاکستان کے بکتر بند ڈویژن کو نہر کا پانی توڑ کو ڈبو دیا تھا۔

ابھی ہم نے بھارت کی ہاںمیں ملاتے ہوئے یہ کہنا شروع نہیں کیاکہ بھارتی فوجیں لاہور کی انارکلی میں مٹ گشت کر رہی تھیں، ہم نے بھارت کا یہ پروپیگنڈہ بھی قبول کر لیا ہے کہ لاہور کے محاذ پر پاکستان کے جرنیل کئی دن تک بے خبر سوئے رہے، انہیں بھارتی جارحیت کی نہ پیشگی خبر ہوئی، نہ بی آر بی نہرکے مشرقی کنارے پر پہنچنے تک پاکستان اپنی دفاعی فوج چھاﺅنیوں سے روانہ کر سکا۔پاکستانی رائے عامہ حمودالرحمن کمیشن کی اس رپورٹ پر بھی آنکھیںبند کر کے یقین کرتی ہے جو پاکستان نے تو شائع نہیں کی بلکہ اسے نئی دہلی سے شائع کیا گیا اور جس میںپاک فوج کے افسروں پر مجرمانہ غفلت کے الزمات عائد کئے گئے ہیں۔ہمارے انتہائی ثقہ اور پی ایچ ڈی قسم کے اسکالر بھی یہ کہتے نہیں جھجکتے کہ میجر شفقت بلوچ یہ روناروتے رہے کہ چار دن تک پیچھے سے تازہ دم فوج کی کمک ان تک نہیں پہنچی اور وہ بھوکے پیاسے لڑنے پر مجبور تھے۔

نریندرمودی کا مختص کردہ 350 ملین کا فنڈ ضائع نہیں گیا، یہ اپنا کام دکھا رہا ہے۔ہمارے منہ سے بول رہا ہے۔
اور ہم لوگ جب کبھی فوج کی مقبولیت بڑھتے دیکھتے ہیں تو فوج کی طرف سے حکومت کو تلپٹ کرنے کی مہم شروع کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس سب سے بڑا الزام یہ ہوتا ہے کہ یہی فوج ہے جس نے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے مگر اسلام آباد پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ اس مقصد کے لئے انتہائی غلیظ نعرہ لگاتے ہیں ، اسے میں یہاں ضرور نقل کروں گا تاکہ قارئین کو پتہ چل سکے کہ بھارتی پیسہ کس قدر موثر ثابت ہو اہے، ہم نے مشرف کے خلاف عدلیہ تحریک چلائی تو اس میں نعرہ تھا کہ ڈھاکے دی کھوتی ، اسلام آباد آن کھلوتی۔ میں یہاں خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق اور میاں نواز شریف کے وہ سنہری اقوال نقل کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا جو انہوں نے وقت بے وقت پاک فوج اور اسکی قیادت کے بارے میں دیئے مگر سوشل میڈیا پر ان دنوں نواز شریف کی ایک تقریر گشت کر رہی ہے جوانہوں نے امتیاز عالم کے سیفما کے اجلاس میں کی اور جس میں انہوں نے واجپائی کا یہ گلہ بیان کیا کہ پاک فوج نے کارگل کر کے واجپائی کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا۔

ابھی تین دن پہلے نواز شریف نے بطور وزیر اعظم یہ تقریر فرمائی کہ پاکستان میں جب بھی جنگ لڑی گئی ، وہ فوج کی حکومت کے دوران لڑی گئی ، جبکہ جمہوری حکومت کے دور میں ایٹمی تجربہ کیا گیا اور ملکی خوشحالی کے منصوبے پروان چڑھائے گئے۔
ابھی بھارت میں پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب پر وہ اعتراضات نہیں اٹھائے گئے جو ہمارے ہاں گرج برس کر کئے جا رہے ہیں ، کوئی کہتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب جن دہشت گردوں کے خلاف ہو رہا ہے ، انہیں پروان کس نے چڑھایا ، یہ خورشید شاہ نے پھلجھڑی چھوڑی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ضرب عضب کی تو تحسین کرتے ہیں مگر کرپشن کے خاتمے کا ایجنڈہ پاک فوج اور رینجرز نے ہاتھ میں کیوں لے لیا۔ وزیر اعظم تو اس انتہا پر چلے گئے کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی کوشش ہو رہی ہے، زرداری نے کہا ہے کہ طاقتور اداروں کی طرف سے دوسرے ریاستی اداروں میں مداخلت غیر آئینی ہے۔ الطاف کی کہہ مکرنیاں تو بچے بچے کو حفظ ہیں، انہوںنے تو ۔۔ را۔ سے مدد طلب کرنے کی بات کی، کبھی کہا کہ بھارت واپس جانے کی اجازت دے تو پاکستان چھوڑ جائیں۔

میں پھر کہتا ہوں کہ بھارت کو آپریشن ضرب عضب پر بظاہربے حد خوشی ا ور اطمینان ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے میں جانیں تو پاک فوج کی جا رہی ہیں، امریکہ تک مطمئن ہیں کہ ضرب عضب سے دنیا کو سکون اور چین نصیب ہو گیا ہے۔
مگر جو بات بھارت خود نہیںکرنا چاہتا، وہ پاکستانیوں کے منہ سے نکل رہی ہے، بھارت کو اور کیا چاہیئے۔ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا ہو۔بھارت کا پیسہ بولتا ہے۔ یہ تو 350 ملین کا فنڈ نیا نیاہے ، کیا پتہ کہ وہ اس وقت تک پاک فوج کی تحقیر اور تذلیل کے لئے کتنے ارب کھرب جھونک چکا ہے۔ اس کا نیا پروپیگنڈہ یہ ہے کہ پاک فوج کا سپاہی ہو اور بھارت کا افسر ، تو دنیا میں ایک ناقابل تسخیر فوج کھڑی کی جا سکتی ہے۔

بھارتی پروپیگنڈہ مہم کا اصل ٹارگٹ یہ ہے کہ پاک فوج کے سپاہی کا اعتماد ہائی کمان کے اوپر سے اٹھ جائے اور وہ اپنے افسر کا حکم ماننے سے انکار کر دے۔ دنیا کی کوئی فوج چین آف کمانڈ کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔ اسی لئے پاکستانی فوجی ہائی کمان کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ عروج پر ہے کہ وہ عوامی مقبولیت کے جتنے کام کر رہی ہے، اصل میں وہ مارشل لا کے لئے راہ ہموار کر رہی ہے۔
میں نہیں جانتا کہ پاکستان کے بیشتر اخبارات ہر روز آرمی چیف کی دو کالمی تصویر اور چار پانچ کالمی لیڈ یا سپر لیڈ شائع کرتے ہیں توا سکے پیچھے کیا مقصد ہے، کیا مقصد یہ ہے کہ سیاستدانوں کو خبر دار کیا جائے کہ جنرل راحیل تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ تویہ مقصد پورا ہوتا نظرآتا ہے، اس وقت سیاستدانوں کی اکثریت نے جمہوریت خطرے میں ہے کا الارم بجانا شروع کر دیا ہے، ایک زمانہ تھا جب بائیں بازو کے سوشلسٹ اور کمیونسٹ یہ پھبتی کستے تھے کہ مولویوں کو ہر وقت اسلام خطرے میں نظر آتا ہے ۔اگرا سلام خطرے میں ہے کی گردان کسی کوناگوار گزرتی تھی تو آج جمہوریت خطرے میں ہے کا راگ بھیڑیا آیا، بھڑیا آیا کی طرح جھوٹ اور بے بنیاد کیوں نہیں لگتا۔

بھارت کے پراپیگنڈے کا توڑ کون کرے گا جبکہ ہم خود اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور شاید مفت میں۔ مگر کوئی توا س ملک میں ایسابھی ہوگا جس کو پاکستان کی اہمیت اورا فادیت کا پورا پورا احساس ہو اور اس کی تجوری میں بھارت کے پروپیگنڈے کا تاثر زائل کرنے کے لئے وسائل بھی ہوں، ایسے لوگ کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے۔

کیا خدا نخواستہ ایک اور سقوط ڈھاکہ کا انتظار ہے ۔
کیا بھارت میں ملیچھ بن کر رہنا ہر کسی کومنظور ہے۔
----------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں