اسماعیل ھنیہ ۔۔ یحیٰ السنوار کا شکار بن گئے!
اسماعیل ھنیہ آگاہ تھے کہ وہ موساد کی 'ہٹ لسٹ' پر سب سے اوپر ہیں۔ اس کے باوجود کہ اسرائیل بھی یہ بات بخوبی جانتا تھا کہ سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے سے اسماعیل ھنیہ کو کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ وہ تو یحیٰ السنوار اور حماس کی موجودہ قیادت کے ساتھ کئی برسوں سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے ھنیہ عملاً حماس کی قیادت سے اٹھا پھینکے تھے۔ ہاں ان لوگوں نے جو 2006 سے 2017 تک حماس کی قیادت پر رہ چکے تھے۔
سنوار جو بیس سال اسرائیلی جیل میں قید کاٹ کر واپس آئے۔ انہیں جلد ہی حماس کے عسکری ونگ کا غیر معمولی اعتماد حاصل ہو گیا۔ یوں سنوار نے لیڈر شپ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش میں کامیابی حاصل کر لی اور الیکشن جیت لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ھنیہ کو اور ان سے قربت والوں کو بھی ایک طرف لگا دیا۔ اس سلسلے میں اسماعیل ھنیہ پر الزام یہ لگایا گیا کہ وہ تو بزدلی کا شکار ہیں۔ سیاسی حل کے حامی ہیں اورعلاقائی دباؤ کی زد میں ہیں۔
اسماعیل ھنیہ بلا شبہ اپنے فلسطینی کاز کی تاریخ میں امن کی فاختہ کے طور پر یا امن کے وکیل بن کر سامنے نہیں رہیں گے۔ لیکن انہیں ایک عملیت پسند کے طور پر زیادہ اور مہم جو کے طور پر کم دیکھا جائے گا۔
حتیٰ کہ حالیہ مہینوں کے دوران وہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ انہوں نے اپنی سی کوشش کی مگر سنوار کے سامنے ناکام رہے۔ سنوار نے اسماعیل ھنیہ کی تمام کوششوں کو کمزور کیا اور کئی مہینوں کے دوران کی جانے والی کوششیں نتیجہ خیز نہ ہو سکیں۔
تو پھر اسرائیلیوں نے اسماعیل ھنیہ کو کیوں قتل کیا؟
اس لیے اسرائیلیوں نے ھنیہ کو قتل کیا کہ وہ بہر حال عرف عام میں حماس کے سربراہ تھے۔ غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ اگر وہ چند ماہ پہلے جنگ بندی میں کامیاب ہو جاتے، جیسا کہ مذاکرات میں کوشش جاری تھی ممکن ہے کہ وہ ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں بچا لیتے اور خود بھی بچ جاتے۔
اسماعیل ھنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے ایک طرح سے حماس کے اندر انتہا پسندوں کی مدد کی ہے۔ بلا شبہ اس قتل سے نیتن یاہو حکومت نے اپنے لوگوں کے سامنے کیا ہوا ایک وعدہ پورا کر دیا ہے کہ اس نے حماس رہنماؤں میں سے ایک اہم ترین نام کو ختم کیا۔ البتہ یہ درست ہے کہ اسرائیل سنوار کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
میری رائے میں نیتن یاہو اور سنوار نے حماس کا مستقبل تباہ کیا ہے۔ فلسطین کی تحریک اور غزہ دونوں ہی انتہا پسندانہ حساب کتاب کا شکار ہو گئے، تہران نے بھی اپنا حصہ ڈال لیا اور شامل ہو گیا۔
ایران نے گذشتہ سال کے آخر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ فلسطینی کھیل کے اصولوں کو تبدیل کرے گا۔ نیز علاقائی مفاہمت کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کرے گا۔ یہ قیمت اسرائیل اور ایران دونوں کے لیے مہنگی تھی، مگر سب سے زیادہ قیمت فلسطینیوں نے ادا کی، جن کے اب تک تقریباً چالیس ہزار جاں بحق ہو چکے افراد میں سے اسماعیل ھنیہ ایک تھے۔ تاہم ایرانی سپریم لیڈر نے تہران میں ھنیہ کی نماز جنازہ پڑھائی ہے۔
ہو سکتا ہے بعض لوگ حیران ہوں کہ آج ہم ھنیہ کا غم منا رہے ہیں اور اس سے پہلے ہم انہیں الزام دیتے تھے۔ یہ تاثر درست ہے۔ کیونکہ وہی خدشہ درست رہا جو ہم ظاہر کر رہے تھے۔ ھنیہ اور حماس کے حامی یہ لگاتار شرط لگا رہے تھے کہ ایران اور اس کا سیاسی منصوبہ یہی ہو گا کہ فلسطینی ریاست کا ہدف فوجی دباؤ کی پالیسی سے اپنے بیرون ملک پھیلے مسلح نیٹ ورک کی مدد سے حاصل کرے گا۔
یہ ایرانی سراب ایک بڑے اور خوفناک نقصان کا سب بنے گا، حتیٰ کہ اسرائیل کے لیے بھی دھچکا ثابت ہو گا۔ جیسا کہ ہم ھنیہ کو جانتے ہیں، سنوار ویسا نہیں ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ھنیہ اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر حالات کو بدل سکتے تھے، بحران کو ایک حل کے لیے استعمال کر سکتے تھے، ممکنہ طور پر ایک جنگ بندی ہو جاتی یا خود غزہ سے بھی آگے کی کوئی چیز!
مگر میں کہوں گا یہ بڑی سیاسی ناکامی کا موقع ہے۔ کامیابی کے مواقع ضائع کر دیے گئے ہیں۔ اب معصوم فلسطینیوں کی جانیں جانے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ہم اسماعیل ھنیہ کے لیے بھی دعا کر سکتے ہیں اور امید ہی کر سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کو کوئی ایسی قیادت مل جائے گی جو اسرائیلی خوفناکی سے انہیں بچا سکے گی۔ جو عرب دنیا کو افراتفری سے بچا سکے گی اور پورے خطے کو استحصال سے بچا سکے گی۔ ہم بس امید ہی کر سکتے ہیں۔