جنگ بندی کے بعد ایران کدھر جا رہا ہے؟

 زيد بن كمی
زيد بن كمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اس روز پیر تھا جب 23 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔ یہ فائر بندی انتہائی شدید جنگ کے بعد فریقین کے درمیان ممکن ہوئی۔

جنگ کا عروج اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کے بعد امریکہ بھی اس میں عملی طور پر شامل ہو گیا اور امریکی افواج نے ایران کے تین حساس ترین جوہری مراکز پر اپنے طاقتور ترین بموں سے حملہ کر دیا۔

امریکی بمباری متعین جگہوں پر تھی۔ مگر اپنے اثر اور نتائج کے حوالے ہمہ گیر بھی۔ ان تینوں جوہری مراکز کو ایرانی جوہری پروگرام میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے۔

کیونکہ ایرانی حوہری پروگرام میں ان کی حیثیت فیصلہ مانی جاتی ہے۔ اس لیے ان پر امریکی حملے بھی دور رس رہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کی اس جنگ کے بارے میں تجزیوں کے جھمیلے کے درمیان امریکہ کی طرف سے اس جنگ بندی کا اعلان ایک بڑے اور اہم اعلان کے طور پر سامنے آیا۔ یہ اعلان صرف کشیدگی میں کمی کے لیے نہیں بلکہ جنگ بندی کے حوالے سے تھا۔

اس کے ساتھ ہی خطے میں پیدا شدہ انتہائی پیچیدہ صورتحال میں ایران کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے بھی اس جنگ اور بعد ازاں جنگ بندی کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

1979 میں جب سے آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انقلاب ایران میں وارد ہوا ہے اس انقلابی رجیم اور اس کے حامیوں نے خود کو مزاحمتی قوت کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں۔

انقلاب ایران نے ایک نیا سیاسی بیانیہ بھی دیا۔ جو بیرونی دباؤ کے خلاف ایک واضح مؤقف کے ساتھ خود کو پیش کرتا رہا۔

1979 کے ان انقلابیوں نے اپنی مزاحمتی شناخت کا اظہار سب سے پہلے تہران میں قائم امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر کے اور اس کے عملہ کے 52 ارکان کو یرغمال بنا کر کیا۔

سفارتخانہ کے یہ 52 ارکان 444 دنوں تک ایرانی قید میں رہے۔ گویا مراد یہ تھی کہ اس مزاحمت کا امریکی اہداف براہ راست نشانہ ہیں۔

اس موقع پر نئے نئے انقلابیوں کی طرف سے امریکہ کے لیے 'شیطان بزرگ' کے الفاظ کے ساتھ لگنے والے نعرے 'مرگ بر امریکہ' اور اس طرح کی بعض دیگر اہداف کا بھی علامتی اظہار تھے۔

مگر اس اسلوب سیاست نے ایران کو دنیا میں تصادم کی راہ پر دکھایا اور خطے میں بھی۔ نتیجتاً ایران کی تنہائی کا آغاز ہو گیا اور یوں ایران اپنے اس مزاحمتی انداز کی وجہ سے علاقائی اور عالمی گرد و پیش میں تنہائی کی طرف چلا گیا۔ ایسی تنہائی جس کی ایرانی عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

امریکی مصنف تھامس فرائیڈمین نے نیو یارک ٹائمز' میں دو دن پہلے لکھا ہے 'ایران نے شروع سے ہی ایک ایسا راستہ اختیار کیا تھا کہ جو اسے مزاحمتی محور اور تصادم کی طرف لے گیا۔ اس کے مقابلے میں علاقے کی دوسری قوتیں اپنے ملکوں اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے کوشاں رہیں۔ جبکہ تہران نے ممکنہ طور پر فوجی شعبے میں کچھ پیش رفت کر لی۔

تاہم تھامس فرائیڈمین لکھتے ہیں کہ ایران اس مزاحمتی تعارف اور فوجی صلاحیت بڑھانے کی وجہ سے معاشی، سماجی اور سفارتی کامیابیوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ جبکہ اندرونی طور پر بھی ایران کو مختلف قسم کے مسائل اور دباؤ درپیش رہے۔

پڑوس میں موجود اعتدال پسند ریاستیں معاشی پیداوار میں مضبوطی کے اشاریے ظاہر کر رہی تھیں۔ حتیٰ کہ سفارتی سطح پر بھی ترقی اور کامیابیاں حاصل کرتے کرتے اہم اقوام عالم کے درمیان اہم کھلاڑی بن گئیں۔ مگر ایران نے اس میدان میں خسارے کا سامنا کیا۔

ایران کا اصرار یہی رہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر قائم رہے گا۔ اس کی جوہری کمٹمنٹ کے حوالے سے یہ لگتا تھا کہ اس کا ہدف بڑا ہی واضح اور کلیئر ہے جسے اس نے منتخب کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ جوہری پروگرام بین الاقوامی سطح پر ایران کے لیے شکوک و شبہات پیدا کرنے اور مسائل بڑھانے کا ذریعہ ہی نہیں بنا بلکہ خود ایران کے لیے ہی خطرہ بھی بن کر رہ گیا۔

اس سے پہلے کہ ایران جوہری حوالے سے اپنے ہمسایوں کے لیے کوئی خطرہ پیدا کر سکتا ایرانی جوہری پروگرام اس کے اپنے عوام اور ریاست کے لیے ہی خطرہ بن گیا۔

آج کی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایران کے اس جوہری پروگرام کو اس کے دفاع اور اس کی ستائش کی نگاہ سے بالکل نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اس پروگرام نے ایران کے لیے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کیا۔ خاص طور پر جب ایرانی جوہری صلاحیت کا خواب اس کے کمزور سیاسی نظریے اور کشیدہ علاقائی تعلقات کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔

ایک ایسا ملک بین الاقوامی برادری کا اعتماد کس طرح حاصل کر سکتا ہے جب وہ مسلسل اور ساتھ ہی ساتھ اسی بین الاقوامی برادری کے لیے خطرے کے گراف کو مسلسل بڑھا رہا ہو۔ کیسے کوئی ایسی قوم کے بارے میں اطمینان رکھ سکتا ہے۔ جس کے حکمرانوں نے تباہی کے آلات کو ہی اپنے بچاؤ کی ضمانت و علامت کے طور پر سمجھ رکھا ہو۔

سچ یہ ہے کہ اصل معاملہ جوہری پروگرام سے متعلق سوچ کا ہے کہ جوہری پروگرام کو لے کر چلنے والوں کے ذہنوں میں ترقی کی کوشش کے بجائے طاقت کے حصول پر توجہ مرکوز ہے۔ وہ ڈیٹرنس کی تلاش میں زیادہ رہے اور مخالفین سے زیادہ اپنے ہی لوگ اس سے خوفزدہ رہیں۔

اس ذہنیت کے بدلنے تک حقیقی معنوں میں تبدیلی نہیں آئے گی کہ ایک جنگ کے خاتمے کے بعد دوسری جنگ کے آغاز میں بہت کم وقفہ ہو گا اور اس کی وجہ مزاحمتی سیاسی سوچ کے محور کا بدستور قائم رہنا ہو گا۔

آج کی دنیا میں ترقی کسی دوسری آپشن کے طور پر نہیں ہے۔ اس کے ذریعے قوموں کی ترقی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو دیکھا جاتا یے۔

ایران کے پاس علاقائی اقتصادی قوت کے طور پر سامنے آنے کے لیے وسائل موجود ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر ایران اس راستے کا انتخاب کرتا تو ترقی س کی رہ میں ہوتی۔ تاہم اس کے لیے 'طاقت' کی نئی تعریف ضروری ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ کسی فریق کی جیت نہیں بلکہ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

تہران چاہے تو باطنی تبدیلی کے آغاز کے طور پر اس کو لے سکتا ہے یا دوسری صورت میں اندرونی و بیرونی معاملات میں پسپائی اور شکوک و شبہات کے چکر میں پھنسا رہ سکتا ہے۔

قوموں کو بیلسٹک میزائلوں کی تعداد سے نہیں ان کے ویژن و اہداف اور امید کے فروغ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی انقلاب کو 46 سال ہو چکے ہیں۔ مگر گزشتہ دو برسوں میں توسیع پسندانہ منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکے لیے برداشت کا جذبہ اب بوجھ میں بدل رہا ہے۔ انقلاب کا مطلب قوم سازی ہونا چاہیے نہ کہ مزید محاصرہ۔ دنیا میں ممالک کو اس انداز سے دیکھا جاتاہے کہ وہ اپنی عوام کو کیا دے رہے ہیں نہ کہ وہ خوف کو کتنا جنم دے رہے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size