غزہ کا المیہ اور فلسطین کاز کی تباہی

 زيد بن كمی
زيد بن كمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

غزہ میں اب بھوک سے ہونے والی اموات کا راج محض کوئی زبان و بیان میں زور پیدا کرنے کی چیز اور تقریری باتیں نہیں ہے۔ نہ ہی یہ بھوک اور افلاس کی روایتی تشبیہ و استعارے والی باتیں ہیں۔ بلکہ غزہ میں بھوک سے اموات اب جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔ بلکہ غزہ میں مسلط کی گئی اس بھوک اور قحط کا سیدھا سیدھا مطلب موت ہے۔ بے بس ، بے گھر اور زیر محاصرہ جنگ زدہ فلسطینیوں کی موت ۔۔۔ فلسطینی بچوں، عورتوں اور نوجوانوں اور بوڑھوں کی موت۔

اسرائیلی ریاست کی غزہ میں بائیس ماہ سے لڑی جانے والی جنگ میں غذائی قلت اور انسانی ساختہ قحط سے اموات باقاعدہ اپنے متحرک اور پھلتے پھولتے اعداد وشمار کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ بھوک، غذائی قلت اور قحط سے غزہ میں ہونے والی اموات کے لیے ہر طرح کی سائنٹفک گواہیاں بھی موجود ہے۔

یہ گواہیاں طبی ماہرین، غذائی ماہرین اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس اور دستاویزات کی شکل میں بھی دستیاب ہیں۔ نیز تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں بھی اور ہسپتالوں کے ریکارڈز اور ڈاکٹروں کے بیانات کی صورت میں بھی سامنے ہیں۔

پچھلے پیر کو صرف ایک دن میں طبی ذرائع کے مطابق پانچ بالغ شہریوں کی اموات اسی بھوک اور غذائی قلت کے باعث پیدا شدہ پیچیدگیوں سے ہونا ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اب تک غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی ریاست کے پیدا کردہ قحط کی وجہ سے مجموعی طور پر 197 فلسطینیوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ ان بھوک سے بلک بلک کر مرنے والوں میں 93 فلسطینی بچے شامل ہیں۔

یہ الگ معاملہ ہے کہ یہ فلسطینی بچے کس کی ناک کی عین نیچے اور کس کی نگاہوں کے سامنے بھوک سے مر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والی اقوام اس ساری صورت حال سے کس قدر اس کے باوجود بیگانہ ہیں کہ یہ قحط قدرتی اور عالمگیر نہیں ہے بلکہ محض غزہ کی پٹی پر مہذب دنیا کے ساتھ مل کر پیدا کیا گیا قحط ہے۔

گویا مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں نمائندہ اس ریاست کا جدید اور مہلک غیر انسانی ہتھیار۔ اصل تکلیف دہ بات بھی یہی ہے کہ اس قحط کی پیدائش نارمل نہیں ہے بلکہ مصنوعی اور انسانی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی، طے شدہ پالیسی اور بے رحمانہ سٹریٹجی کی بدولت یہ بھوک اور قحط غزہ کی طویل ناکہ بندیوں کے دوران مسلط کیا گیا ہے۔

ایسی ناکہ بندی جس میں کسی بھوک سے بلکتے بچے کی چیخیں سننے کے لیے کوئی تیار ہے نہ قحط کے سبب تڑپ تڑپ کر جان دینے والوں کے لیے نگاہ ترحم نہ دیدہ تر۔ بلکہ بے حسی ، بے رحمی اور خود غرضی و درندگی کا پورا ماحول تسلط کیے ہوئے ہے۔

اس قحط اور بھوک نے 24 لاکھ کی گنجان مگر بے خانماں غزہ کو انسانی تباہی اور المیے کا مظہر ایک سٹیج بنا دیا ہے۔ جو ہر آنے والے دن زیادہ تباہی اور زیادہ خوفناکی دکھا رہا ہے۔ ایسی تباہی جس نے صدمے اور رنج کی ساری حدوں کو عبور کر کے سب کچھ نارمل نارمل سا بنا دیا ہے۔ شاید اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اسے نارمل لیا جائے۔ صرف نارمل۔

اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کے پیش کردہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ماہ مارچ اور جون کے درمیان پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی بھوک اور قحط سے ہلاکتوں کی تعداد دو گنا ہو گئی ہے۔ اسی دوران عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی ایک اور گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ غزہ کے ہر پانچویں بچے کی بھوک اور قحط کی وجہ سے زندگی خطرے میں ہے۔ اس لیے جاری ناکہ بندی کی وجہ سے خطرہ ہے کہ غذائی قلت اور بھی بہت ساری زندگیوں کا چراغ گل کر جائے گی۔

لیکن کچھ سوال جن کی حیثیت بنیادی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ بھوک اور قحط ہمیں کیسے ملا؟ یہ سوال بھی اہم ہے قحط کو ایک ہتھیار کے طور پر کس طرح عام استعمال کیا گیا کہ یہ ہمارے لیے نارمل نارمل سا ہوگیا۔ یا ہم اسے نارمل ماننے پر مجبور ہو گئے۔ اور ہاں وہ انسانی حقوق کی شرق وغرب کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے اور طاقتیں کہاں چپ بیٹھ کر قحط اور بھوک کی یہ یلغار اور اموات کا منظر دیکھ رہی ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ ان فلسطینی بچوں کے بھوک اور قحط سے لقمہ اجل بن جانے کے بعد ان کے چہروں پر اس قدر خاموشی کا احساس نمایاں کیوں ہے۔ کیوں وہ ہمیں گونگا بہرا سمجھ کر خاموش ہو گئے کہ 'کلام نرم و نازک بے اثر' رہنا ہے تو بولنے کا فائدہ، پکارنے کا نتیجہ؟ ہاں بولتے نہیں تو سوچتے تو شاید ہوں کہ عالمی برادری یہ مہذب دنیا، یہ ترقی یافتہ انسان آخر فلسطینیوں کے اور کتنے بچوں کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر کوئی اثر لے سکیں گے۔ اس انسانی شکل کی مہذب مخلوق کو کب سمجھ آسکے گی کہ ہمارے ساتھ بھوک اور قحط کیا کر رہا ہے۔ کب انہیں غزہ کے حالات کا اندازہ ہوگا کہ اس قحط اور بھوک کے ہتھیار کو بنانے والوں کی اس 'کامیابی' کو معقولیت سے دور جان پائیں گے۔

سچائی یہ ہے کہ غزہ میں دنیا کی انسانیت سے غداری کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ قحط جسے فلسطینیوں کا مقدر بنایا گیا ہے یہ ان کے مقدر میں قدرت نے نہیں لکھا تھا۔ یہ انسانی ساختہ ہے۔ جسے طویل ترین ناکہ بندی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ گلے گھونٹنے کی منظم پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان فلسطینی شہریوں کو زندہ رہنے دینے کی کوئی صورت باقی نہ رہنے دینے کا جیسے فیصلہ کیے ہوئے ہیں۔

ایسے حالات میں جب غزہ جل رہا ہے۔ گھر مسمار کیے جا چکے ہیں۔ پوری پوری بستیاں ملبے کا ڈھیر کی جا چکی ہیں۔ وہاں بے گھر ہو کر بار بار نقل مکانی پر مجبور کیے جانے والے کی امیدوں کا ہر روز قتل عام کیا جاتا ہے۔ کئی خود بھی اپنی امیدوں کے ساتھ ہی روزانہ دفن ہو جاتے ہیں۔ قطرے قطرے اور لقمے کو ترس کر رہ جانے والوں کو عین اس وقت لقمہ اجل بنا دیا جاتا ہے جب وہ خوراک بانٹنے والا مرکز سمجھ کر موت کے ڈپو پر جا پہنچتے ہیں۔

گویا غزہ میں صرف خوراک کی قلت نہیں پیدا کی گئی بلکہ انسانی اقدار اور اخلاق کا بھی جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ یہ سب مہذب دنیا میں جاری ہے۔

نسل انسانی آج ایسے لوگوں کے خلاف جنگ لڑی جاتی دیکھ رہی ہے جن کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔ جو بے گھر کیے جا چکے ہیں۔ جن کی بے سر وسامانی کی مثال اس وقت دنیا میں کوئی اور نہیں۔ آج کی نسل صرف یہ نہیں دیکھ رہی بلکہ عالمی نظام کے ناکام ہونے کا بھی مشاہدہ کر رہی ہے۔

نئی نسل کو یہ بھی خوب سمجھ آ گئی ہے کہ امن بڑے دارالحکومتوں میں آج تخلیق کیا جاتا ہے نہ پسند کیا جاتا ہے۔ اپنی ترقی کو دوسروں کی تباہی بنانے کی دھن سوار ہے۔ گویا ترقی کا دوسرا نام تباہی رکھ دیا گیا ہے۔ آج کے المیے کی یہی پہچان ہے۔ جو دوسروں کے لیے محسوس کرنے کی صلاحیت، بھوکوں کی چیخوں اور انسانیت کے المناک چہرے سے پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی انسانی قانون واضح انداز میں بھوک کے ہتھیار کو جنگی جرم قرار دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دینے کی قراردادیں بھی منظور کر رکھی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ کسی تاریخی خلا میں موجود نہیں ہے۔

بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر اس سے پہلے افریقہ، بوسنیا اور دیگر جگہوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ اب یہ ہتھیار غزہ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی باتیں ہر ایک لیے نہیں ہر جگہ کے لیے نہیں۔ اس کے لیے بھی پیمانے الگ الگ اور معیار دوہرا ہے۔ انسانی حقوق کا معاملہ بین الاقوامی قانون کے تحت نہیں محض اپنی پسند، ناپسند کی بنیاد پر بروئے کار لایا جاتا ہے۔

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس بارے میں سعودی سفارت کاری نے انگڑائی لی ہے اور عالمی ضمیر کو بھی جگانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیش رفت ہوئی اور فرانس، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ملکوں نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو تسلیم کرنے کی طرف عملی پیش قدمی ہے۔

کیونکہ وقت آ گیا ہے کہ اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح سے حقیقی اقدام کیا جائے۔ مشرق وسطیٰ کو استحکام دلایا جائے اور امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جائے۔ یہ محض علامتی کوشش نہ تھی۔ یہ حقیقتاً فلسطین کاز کے اصل اور انسانی چہرے کو سامنے لانے کے لیے ایک کوشش تھی۔ جو تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size