حزب اللہ کا مستقبل کیا ہے؟

 زيد بن كمی
زيد بن كمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

یہ بیروت ہے جہاں کے باسی ٹکڑیوں میں تقسیم اور خوف کے ماحول میں رات کو سونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ صبح سویرے ہی بنکوں کا رخ کر کے لمبی لمبی قطاریں بنا لیتے ہیں۔ تاکہ بنکوں میں جمع شدہ پونجی اس غیر یقینی ماحول میں واپس نکلوا کر اپنے پاس رکھ سکیں۔ کہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔

اس بیروت شہر میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کی واپسی کا موضوع سب دوسرے موضوعات سے زیادہ زیر بحث ہے۔ جیسا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی زیادہ تر اسی پر بات کی جا رہی ہے اور تجزیاتی جمع تفریق جاری ہے۔

کیونکہ حزب اللہ کے بقاع میں ذخیرہ کردہ اسلحے کی اہمیت فوجی اسلحے کی نہیں بلکہ یہ اب ایک سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے ایک ایسی مساوات کی شکل اختیار چکا ہے۔ جس کی وجہ سے لبنان عرب دنیا سے باہر بھی ایک سودے بازی اور بھاؤ تاؤ کی 'چپ' کا کام کر رہا ہے۔

ایران نے حزب اللہ کی اہمیت کو 1980 کی دہائی میں محسوس کر لیا تھا کہ یہ محض مزاحمتی تحریک نہیں بلکہ بحر متوسط میں ایران کے ہراول دستے کے طور پر بروئے کار آ سکے گی۔ نیز ایران اس کی وجہ سے اسرائیل کے مقابلے میں توازن کو اپنے حق میں نہیں تو ایک بیلنس کے لیے ضرور استعمال کر سکے گا۔

اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی بندوق بعد ازاں بحر متوسط میں ایرانی سٹریٹجک منصوبوں کے آگے بڑھانے کا وسیلہ بن گئی۔ شاید ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولائتی کا تازہ بیان میں بھی اسی چیز کی وضاحت کرنے والا ہے کہ 'ایران حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی حمایت نہیں کرے گا۔'

سپریم لیڈر کے مشیر کا یہ بیان پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے اس پرانے مؤقف سے جڑا ہوا ہے کہ 'ایرانی دفاعی سرحدیں صور سے بیروت کے ساحلوں تک ہیں۔

ایران اور حزب اللہ کے اس تعلق کا ماضی کے سوویت یونین کی مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کیمونسٹ پارٹیوں سے ساتھ ایک تاریخی تناظر میں بنتا ہے۔ جنہیں سوویت یونین متعلق ملکوں میں اپنے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا تھا۔

بظاہر یہ کیمونسٹ پارٹیاں ہر جگہ مزدوروں کی آزادی کے نعرے لگاتی تھیں۔ لیکن عملاً یہ ماسکو کی سٹریٹجی کے پھیلاؤ اور اثر پذیری کی راہ ہمواری کا کام کرتی تھیں۔ جیسا کہ پراگ وارسا اور بخارسٹ ماسکو کے محور کے گرد گھومتے تھے۔ آج بیروت بھی حزب اللہ کے ان ہتھیاروں کی وجہ سے ایک اور محور کا حصہ بنا ہوا ہے۔ مگر ہوا یہ تھا کہ بعد ازاں سوویت یونین کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ وہ اپنے بوجھ تلے دب کے ڈھیر ہو گیا۔

یہی سوال لبنان کے لیے ہے کہ یہ کب تک ایک کمزور ملک کے تعارف کے ساتھ اور کئی قسم کی مذہبی تقسیم اور بٹی ہوئی وفاداریوں کے ماضی و حال کے ساتھ لبنان کب تک حزب اللہ کے ہتھیاروں کی قیمت ادا کرتا رہے گا۔ کب تک ان ہتھیاروں کے حوالے سے علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے مقابل پلڑے میں رکھنے کا الزام سہتا رہے گا۔

پچھلے ہفتے 'اکانومسٹ' نے حزب اللہ کے بارے میں شائع کردہ اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حزب اللہ پہلے کی طرح ایسی مضبوط نہیں رہی ہے کہ لبنان پر اس کی گرفت کا دعویٰ کر سکے۔ وہ پہلے کے مقابلے میں بہت کمزور ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی پچھلے سال کی جنگ کے باعث اس کا پہلے والا دم خم باقی نہیں رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی ملک کے اندر مقبولیت بھی کم ہو گئی ہے۔

نئے صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام کے زیر قیادت لبنان کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ ریاست اور اس کی رٹ بحال ہو رہی ہے۔ ایک بار پھر پرانے لبنان کے مطالبات سامنے ہیں۔

یہ بات اب سب نے واضح طور پر اختیار کر لی ہے لبنان کو مزاحمت کے ساتھ قائم نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ کہ مزاحمتی انداز لبنان کے لیے معاشی اور سکیورٹی کے اعتبار سے ایک بوجھ بلکہ وبال بن گیا ہے۔ اب حزب اللہ کے خلاف عوامی غصہ بھی شروع ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ عوامی حمایت اور ہمدردی لبنان کی فوج کے نام ہو رہی ہے۔ فوج کے پھر سے لبنانی ریاست کی شان کی علامت بننے کی امید ہے۔

امید کے اس نئے منظر نامے میں ایک وسیع سوال سامنے ہے۔ کیا حزب اللہ کے ہتھیاروں کو بھی اسی قسمت کے کھیل کا سامنا کرنا ہے جو ماضی کی کیمیونسٹ پارٹی کو کرنا پڑا تھا اور وہ سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی اپنے ہتھیاروں سمیت تحلیل ہو کر رہ گئیں۔

یا دوسری صورت ممکن ہو جائے گی کہ ایران حزب اللہ کو اپنی قومی سلامتی کے لازمی حصے کے طور پر کسی نئے ماڈل میں تبدیل کرنے کی کوشش کرسکے۔ ہر کوئی اس سوال کا جواب چاہتا ہے مگر جو اس سے پہلے ہی سب دیکھ اور سن رہے ہیں وہ یہ ہے کہ لبنان حزب اللہ کی بندوقوں کی علاقائی سطح پر اس سرحد پار کے منصوبے کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size