ٹرمپ اور ایم بی ایس کی ملاقات سے جڑے چار اہم نکات
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے پیشرو صدر جو بائیڈن پر تمام تر تنقید کے باوجود سچ یہ ہے دونوں رہنما سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے کی کوشش میں رہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ یہ تعلق بائیڈن کے تحت ہوا تو زمین پر ایک تزلزل تھا۔ مگر یہ سلسلہ اس تزلزل کے باوجود اپنے انداز سے جاری رہا۔ لیکن آخرکار حالات کا پلٹا کھانے سے یہ سلسلہ بہتر ہوا اور اپنے بہترین مراحل میں سے ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔
پہلا نکتہ: ریاض کی حکمت عملی واشنگٹن کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھنے کی ہے، چاہے امریکہ کی انتظامیہ ریپبلکن ہو یا ڈیموکریٹک۔ یہ سوچ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں بھی بیان کی۔ امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کا یہ دیرینہ تعلق ڈیموکریٹک صدر روز ویلٹ کے ساتھ شروع ہوا اور ریپبلکن صدر ریگن کے دور میں پروان چڑھا۔ آج ایک ریپبلکن صدر کے دور میں اپنے مضبوط ترین مرحلے سے آشنا ہو رہا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں وائٹ ہاؤس پھر ایک ڈیموکریٹ انتظامیہ کے پاس واپس چلا جائے۔
ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو سمجھنے کا چار نکتوں میں سے پہلا اور بنیادی نکتہ ہے کہ سرخ اور نیلے رنگوں کو تبدیل کرنے کی تلاش نہ کی جائے۔
کیونکہ یہ تعلق تذویراتی اتحاد کی صورت کئی دہائیوں سے اقتصادی اور سیاسی وجوہات کی بنیاد پر قائم چلا آ رہا ہے۔ اس کی بنیاد وقتی یا جذباتی نوعیت کی ہر گز نہیں۔
دوسرا نکتہ: یہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں سارے ملک اپنے تعلقات کی تشکیل و ترتیب میں اپنے مفادات کی ہی تلاش پیش نظر رکھتے ہیں۔
جب امریکی صدر ٹرمپ بھی معاہدوں یا سودوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو وہ امریکی عوام کی طرف دیکھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔
ان کا زیادہ ملازمتوں کی بات کرنے کا مطلب اپنے عوام میں زیادہ مقبولیت پانا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اس اسلوب تعلق سے سعودی عرب کو فائدہ ہوتا ہے۔
اس امر کا اظہار سعودی ولی عہد نے بھی اس وقت کیا جب انہوں نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاری کا مقصد صدر ٹرمپ یا امریکہ کو خوش کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے ذریعے وہ حقیقی مواقع تلاش کرنا مقصود ہوتے ہیں۔ جو سعودی عرب کی مستقبل کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کا باعث بنیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ محض سیاسی چکر اور شور ہے۔
تیسرا نکتہ: صدر ٹرمپ اور ولی عہد کی ملاقات سے اخذ کردہ تیسرے نکتے کا تعلق القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے ہدف کے بارے میں ولی عہد کے جواب سے ہے۔
اس ہدف کو اسامہ بن لادن نے امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے لیے 15 سعودی شہریوں کا انتخاب کیا تھا۔ یہ کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کا ہدف امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو تباہ کرنا تھا۔ یہی اس کا بنیادی مقصد تھا۔ کیونکہ بن لادن یہ جانتا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ ٹاورز گرانے سے امریکہ تو نہیں ٹوٹ گرے گا مگر دونوں ملکوں کے تعلقات پر کاری ضرب ہو گی۔ نیز حملے سے عالم اسلام اور یورپ کے درمیان ایک آگ بھڑک اٹھے گی۔
یہ منصوبہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ تاکہ ایک ایسی مذہبی منافرت پھیلے کہ ہر سو آگ لگ جائے۔ مگر اسامہ بن لادن کا یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کی بدولت ناکام رہا اور اس ہنگامہ خیز بحران پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔
نتیجتا القاعدہ کمزور ہوئی، بن لادن مارا گیا اور آج واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات اپنے مضبوط ترین موڑ پر آ چکے ہیں۔ کیونکہ نیکی کی قوتیں برائی کی قوتوں پر بالآخر فتح مند ہوتی ہیں۔
اب پھر انتہا پسند گروہوں، دہشت گرد تنظیموں اور فرقہ وارانہ عسکری گروپ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں رخنہ پیدا ہو جائے۔
یہ مقصد تشدد، دہشت گردانہ حملوں اور پروپیگنڈے سے حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس خاطر وہ جان بوجھ کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کمزور کرنے سے انہیں اپنا نظریاتی تسلط قائم کرنے اور اپنے نظریاتی اثر کو وسیع کرنے کا موقع مل جائے گا۔
چوتھا نکتہ: یہ نکتہ امریکہ اور سعودی عرب کے ویژن کے مطابق مستقبل سے متعلق ہے۔ اس پس منظر میں مصنوعی ذہانت اور مائیکرو چِپس میں سرمایہ کاری محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک تہذیبی ٹکراؤ کی عکاسی ہے۔
یہ سرمایہ کاری مستقبل کی صورت گری کے لیے ہے کہ آگے کیا ہو گا۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انتہا پسندانہ قوم پرستی اور مذہبی خیالات و نظریات اور فسانوی و کرشماتی طرز کے رہنماؤں کے پیچھے چلانے کے لیے لوگوں کے اذہان کو وہموں سے بھر دینا ہمارے خطے کے زوال کا مؤجب تھا۔
جیسا کہ ایشیا ہی کی مثال لی جائے دوسرے ملکوں نے اپنی معیشت و معاشرت کو ترقی دینے کا راستہ اختیار کیا۔
اسی لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو مستقبل کی تشکیل اور جائز معاشی و سائنسی دوڑ میں شامل ہونے کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اسی مقصد کے تحت فیصلے کیے ہیں۔ معاہدے کیے ہیں۔