اہل شام کے مجروح جذبات اور زخم زخم نفسیات

ممدوح المہينی
ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

اس ڈوبنے والے شامی بچے ایلان کردی کی تصویر نے ایک بار پھر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ منظر اور کیفیت آپ کو اس وقت اور زیادہ اذیت دینے کا باعث بن جاتے ہیں جب آپ کسی کو ڈوبتے، زخموں سے تڑپتے اور بے بسی سے مرتے دیکھتے ہیں۔ لیکن آپ اس کی کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ہیں۔

تاہم یہ ضرور سوچتے اور پوچھتے ہیں کہ اس معصوم بچے کو موت نے کیوں نگل لیا؟ ایسا کیوں ہوا کہ یہ معصوم بچہ سمندر کی ٹھنڈی ریت میں دب کر مرنے پر مجبور ہو گیا؟

پھر ایک شامی بچے کی تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ عمران کی تصویر ہے۔ جسے بمباری سے پیدا خوف کی فضا نے ایسا خوفزدہ کیا کہ اس خوف سے اس کی نہ صرف خون کی گردش رک گئی بلکہ خون گویا جم کر رہ گیا۔ گرم گرم تازہ نوجوان لہو یخ بستہ ہو گیا۔ اس کے چہرے پر بھی اس جمے ہوئے خون نے ایک دلوں کو دہلا دینے والی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ کہ اس بچے کا چہرہ پہلے خون سے لتھڑا اور پھر یہ خون جیسے جم کر ایک خوفناکی کی نئی تصویر بن گیا ہو۔

یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کے سامنے زندگی کے معانی و منطق کے حوالے سے بھی سوالات ابھرتے ہیں۔ پھر انصاف بھی اللہ کی مشیت کے تحت اپنی راہ لیتا ہے اور ظلم کے خاتمے کے اسباب فراہم ہونے لگتے ہیں۔

یہ اسی انصاف کی فطری عمل کاری کا نتیجہ ہے کہ جن بچوں کو شام کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تھا اب وہ بچے واپس اپنے علاقوں میں واپس پہنچنا شروع ہو چکے ہیں جبکہ انہیں بے وطن کرنے والا بشار الاسد جلا وطنی پر مجبور ہو چکا ہے۔ اگرچہ وہ ایک پر تعیش اپارٹمنٹ میں مقیم ہے لیکن ایک تھکا دینے والی تنہائی میں الگ تھلگ پڑا ہے۔

اسد کا تختہ الٹے جانے پر ان بے بس کر دیے گئے شامی بچوں نے بھی جشن منایا تھ اور اسی جشن کے ماحول میں اپنے بے گھری اور بے وطنی کی کہانیاں سنائیں۔ ان بچوں کی کہانیوں کی درد ناکی نے بہت سوں کو آبدیدہ کر دیا۔ اس درد کے احساس کو میں نے بھی محسوس کیا کہ یہ درد شامیوں کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اور زخموں کی وجہ سے تھی۔

طویل عرصے پر پھیلی پولیس و دیگر سکیورٹی فورسز کی جبری کارروائیاں ان اہل شام کو نفسیاتی اور جذباتی اعتبار سے کچوکے لگانے کا باعث بنتی رہیں۔ ان زخموں اور کچوکوں کے اثرات سے نکلنے کے لیے ایک لمبا عرصہ چاہیے ہو گا۔ کیونکہ بشارالاسد کی حکومت کی پولیس ہو یا دیگر سکیورٹی فورسز اس طرح کی ساری پولیس ریاستیں انسانوں اور ان کے وقار کو کچل ڈالنے کو اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری باقی عرب ریاستیں انسانی آزادیوں کی پناہ گاہیں ہیں۔

وہ ریاستیں جو لوگوں کو غربت زدہ رکھتی ہیں۔ ان پر تشدد کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ اس ناطے وہ انصاف، بنیادی انسانی اقدار و اخلاقیات کے بنیادی درجے کے معیارات سے بھی محروم ہوتی ہیں۔

ایسی ریاستوں کی بد امنی ضرورت بھی ہوتی ہے اور ہتھیار بھی۔ وہ انتشار کو مسلط رکھتی ہیں تاکہ اپنے عوام اور مخالفین کو سیاسی بلیک میلنگ کا نشانہ بناتی رہیں۔ لیکن وہ ریاستیں جو ان ہتھکنڈوں کے بجائے استحکام و ترقی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں وہ خود بھی فائدے میں رہتی ہیں اور ان کے عوام کے مفادات بھی محفوظ رہتے ہیں۔

شام کے نئے صدر احمد الشرع کو آج شام میں جس تاریخی اہمیت کی ذمہ داری کا سامنا ہے یہ اہم بھی ہے اور مشکل بھی۔ جب روتے بلکتے اور غمزدہ و خوفزدہ بچے ان سے لپٹتے ہیں تو ان بچوں کو لگتا ہے کہ انہیں ایک ایسا سربراہ مل گیا ہے جو انہیں دور ظلمت کے دوران ملنے والے گہرے دردوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک مخلص، بےلوث اور دیانتدار سیاستدان ہی شامی عوام اور ان کے بچوں کے لیے شام میں مسلط رہنے والے تاریخ کے سیاہ دور کو ختم کر سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے صدر احمد الشرع کو اپنی حکومتی رٹ کو ثابت کرنا ہوگا۔ اپنے ملکی اتحاد کو بحال رکھنا ہو گا اور ان لوگوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جو ملکی استحکام و یگانگت کو پارہ پارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ شام کی از سر نو تعمیر ان کی ذمہ داری بھی ہے اور اہل شام۔ کی ضرورت بھی۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہیں دوہرے کردار کے حامل افراد اور بد عنوانوں کے خلاف لڑتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ اس کے لیے انہیں اپنی اہلیت و صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔ تاکہ پریشانیوں میں گھرے عوام کو سہارا ملے، وہ کسی پر بھروسہ کرنے کی حالت کو پہنچ سکیں۔ ان کا خوف ختم ہو اور وہ اکٹھے ہو کر آگے بڑھنے کی سوچ کا ساتھ دے سکیں۔

صدر احمد الشرع کو تخریب کے ان سارے عناصر اور قوتوں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ عوام کے ان گہرے زخموں کو بھرنے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔ مگر یہ کام نازک بھی ہے اور مشکل بھی۔ کیونکہ خود کو کمزور رکھنے کے نتیجے میں برائی کے علمبردار حملہ آور ہونے کی بہتر پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کمزوری ایسے تخریب پسندوں کے لیے بجائے خود حملے کی ایک دعوت ہوتی ہے۔ یہی معاملہ طاقت کی زیادتی کا بھی ہے وہ زخموں کو مندمل کرنے کے بعد پھر سے ہرا کرنے کا بھی باعث بن جاتی ہے۔

اس لیے ایک سیاستدان کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ قومی سلامتی کو یقینی بنائے۔ ملک و قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے خلاف پوری قوت و استقامت سے کھڑا ہو جائے اور قومی سالمیت کا داعی بن کے کھڑا رہے۔

ایک کامیاب ریاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تمام نسلی، مذہبی اور ثقافتی شناختوں کو ایک قومی شناخت دینے کی کوشش کرے اور ملک کو سب کے لیے مواقع کے علاوہ تحفظ و سلامتی کا ذریعہ بنا دے۔

ہمیں یاد ہے کہ امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے اپنے دور صدارت کا بڑا دورانیہ خانہ جنگی سے نمٹتے ہوئے گزارا۔ انہوں نے خانہ جنگی کا خوب مقابلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کو ٹوٹ بکھرنے کے راستے پر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ابراہم لنکن نے قومی شکست و ریخت کی حامی قوتوں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ اگر ابراہم لنکن ایسا نہ کرتے تو موجودہ امریکہ کو ہم کبھی نہ دکھ پاتے۔ نہ ہی آج کا امریکہ اس طرح دنیا کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں آتا۔ بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور ٹکڑوں میں بٹ کر اپنی سالمیت برقرار نہ رکھ پاتا۔

سیاست سے متعلق امور کے ماہر سیموئل ہنٹنگٹن نے ایک اہم سیاسی نظریہ پیش کیا ہے۔ یہ سیاسی نظریہ کافی منطقی محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں جمہوریت کا تعلق محض نظام کی جدت سے نہیں ہے بلکہ یہ اداروں اور ثقافتی کی ترقی و استحکام بھی متعلق ہے۔ حتیٰ کہ ایک معاشی اعتبار سے مستحکم ریاست بھی جمہوریت کی طرف سے جانے میں اس لیے ناکام ہو سکتی ہے کہ اس کے پاس ایک مضبوط سیاسی ڈھانچے اور مستحکم قومی ادارے موجود نہ ہوں۔ اس لیے اگر کوئی ریاست غربت زدہ بھی ہو اور اداروں کے استحکام کے بھی بغیر ہو تو اس کا جمہوریت کی طرف منتقل ہونا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

اگر سیموئل ہنٹنگثن کے اس سیاسی تصور کو آج کے دور میں عراق و افغانستان کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو مزید تباہ کن تجربے سامنے آتے ہیں۔ ان ملکوں میں جمہوریت کو اوپر سے مسلط کرنے کی ایک مصنوعی سی کوشش کی گئی۔ اس لیے اس معاشرے میں جمہوریت کی جڑیں کیونکر طاقت پکڑنے والی ہو سکتی تھیں۔ ان دونوں ملکوں میں جمہوریت کو عوامی مزاج کے مطابق نیچے سے بتدریج نہیں اٹھایا گیا تھا۔ یوں جمہوریت بھی ایک مسلط کردہ نظام کی شکل میں رہی اور نتیجہ یہ رہا کہ یہ محض ایک رسمی اور غیر حقیقی سی صورت ہی پا سکی ہے۔

ایک مضبوط ریاست اداروں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی، احتساب و جوابدہی کے موثر نظام اور تحمل و ارتقاء کے امتزاج سے ممکن ہو سکتی ہے۔

اس لیے شام میں بھی اگر جمہوریت کو عراق و افغانستان کے انداز سے ہی مسلط کرنے کی کوشش ہوئی یا ایک غیر حقیقی اور بنیادوں یا جڑوں کے بغیر لانے کی کوشش کی گئی تو ایک بیمار اور لاغر و لاچار سی جمہوریت وجود میں آ سکے گی جو عوام کے لیے کچھ کر سکنے کے صلاحیت سے عاری اور محض اپنی بقاء کی جنگ میں الجھی رہنے والی جمہوریت ہو گی۔ یہ اندر سے مسحتکم ہو گی نہ باہر سے مضبوط ہو سکے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ کئی دہائیوں کے درد اور تکالیف سے گزرنے والے شام کو ابھی موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنی راہیں متعین کرے۔ بجائے اس کے اس پر فرمائشی اور غیر حقیقی جمہوریت کا بوجھ لادنے کی عاجلانہ کوشش کی جائے۔ شام کسی نئی الجھن اور مصیبت میں الجھنے کی ابھی ہرگز پوزیشن میں نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size