ٹرمپ اور ایرانی 'پراکسیز' : عبوری معاہدہ خطے کے لیے ہو گا
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی پاسداران انقلاب کور کو وہ کچھ دے رہے ہیں جو کچھ پاسداران انقلاب جنگ میں حاصل نہیں کر پائے۔ اس طرح ٹرمپ وہ خطرہ مول لے رہے ہیں جس سے ایرانی 'پراکسیز' کو علاقے میں سیاسی جواز فراہم ہو سکے گا۔ لبنان کی حزب اللہ سے لے کر عراق کی 'پاپولر موبلائزیشن' کے گروہ تک اور یمن کے حوثیوں سے لے کر غزہ کے حماس و اسلامی جہاد تک سب کو سند جواز میسر آنے کا خطرہ ہو گا۔
یہ سب اس لیے نہیں ہو گا کہ کوئی مذاکراتی چال ہوگی بلکہ یہ حقیقت پسندی سے دور رہتے ہوئے خطے میں ایرانی اثر رسوخ کو برقرار رکھنے کی ایک صورت گری ہوگی۔ جسے امریکہ کی پالیسی میں ایک خطرناک تبدیلی سمجھا جائے گا۔
یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض ہے۔ ریاستیں جب بھی اپنے مخالفوں کے ساتھ مذاکرات کرتی ہیں تو وہ اس وقت کی ضرورت کے تحت کرتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہوگا کہ اس طرح امریکہ ایران کے ساتھ مل کر عبوری معاہدے کے ذریعے اصل مسائل کو التوا میں رکھنے کا اہتمام کر رہا ہوگا۔
اگر ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق فائل کو التوا میں ڈال دیا جاتا ہے، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو بھی ملتوی کر دیا جاتا ہے، اسی طرح ایرانی 'پراکسی' تنظیموں کے معاملے کو طے کرنے کی بجائے التوا میں رکھا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ سمجھا جائے گا کہ امریکہ نے تہران سے کچھ رعایتیں حاصل کرنے یا باتیں منوانے کی بجائے ایران کے مؤقف اور 'پراکسیز' کو جواز فراہم کر دیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کور ابھی تک اس طرح تو تاثر دینے میں کامیاب نہیں ہے کہ اس کی واقعی کوئی جنگی جیت ہوگئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس طرح ضرور کوشاں ہے کہ جیسے اسے بہت کچھ مل گیا ہے۔ یہ صورتحال اس کی فتح کے لیے پائے جانے والے اس کے وہم کو اور بڑھا دیتی ہے اور یہ تاثر بھی بن رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ سے ہچکچاہٹ اور خوف کا شکار ہیں۔ اس وجہ سے ایران کو انتقام لینے اور اس کی فوجی و اقتصادی ناکامیوں کو سیاسی فائدے میں بدلنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
یہ ایک خطرناک خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اب پہلے کی طرح طاقتور پوزیشن میں نہیں رہا۔ اس پر عائد کی گئی پابندیوں کے نتیجے میں مہنگائی کے پھیلاؤ اور مالی مشکلات کے اضافے میں آبنائے ہرمز پر آنے والے دباؤ کی صورت مزید بڑھاوا ہو گیا ہے۔ ایران اس دباؤ کے ماحول میں سخت معاشی مخمصوں کا شکار ہے۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران کی اصل کمزوری اس کے لیے معیشت کے وہ برے حالات ہیں جنہیں پاسداران انقلاب کور کی انقلابی بیان بازی تقویت نہیں دے سکتی۔ اس صورتحال میں عبوری معاہدہ دو دھاری تلوار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس طرح کے معاہدے کی صورت میں کچھ سیاسی وقت حاصل کر سکتے ہیں اور علاقے کو نئے جنگی تصادم سے بچا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کے اس اقدام سے امریکہ کے اقتصادی دباؤ کی صلاحیت میں کمی ہوجائے گی جو ایران کو حقیقی معنوں میں تکلیف پہنچانے اور دباؤ میں لانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اگر صدر ٹرمپ ایران سے واضح اور قابل عمل وعدے لیے بغیر دباؤ میں رعایت دیتے ہیں تو بلاشبہ ایران کو سانس لینے کا موقع فراہم کریں گے۔ جو پاسداران انقلاب کے لیے ایک سہولت ہوگی کہ وہ ایرانی 'پراکسیوں' کو مالی مدد دے سکیں۔ ان کے نیٹ ورکس کو از سر نو منظم کر سکیں۔ تاکہ ایران کے علاقائی منصوبے پھر سے بروئے کار آسکیں۔
ایران کے لیے اس کی 'پراکسیز' علاقائی منصوبوں کا ضمنی حصہ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اس کا اصلی اور حقیقی جزو ہیں۔ منصوبے کا اہم ترین حصہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ جبکہ ایرانی میزائل اور ڈرون طیارے اس کے منصوبوں کے لیے ہراول دستہ ہیں۔ ایرانی 'پراکسیز' پورے علاقے میں ایران کے لیے سیاسی و سلامتی کے عزائم کو عملی شکل دیتے ہیں۔ انہی کی مدد سے ایران جب چاہے علاقے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور جب چاہے مذاکرات کے لیے موقع بنا سکتا ہے۔
لہذا صدر ٹرمپ کا ایرانی 'پراکسیز' سے متعلق فائل کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ جوہری پروگرام کی فائل کو ملتوی کرنے کی طرح ہی خوب خطرناک ہے بلکہ 'پراکسی فائل' کا التوا اس لیے اور بھی خطرناک ہوگا کہ اس کی وجہ سے براہ راست عرب ممالک کی خود مختاری ایرانی صوابدید پر ہو سکتی ہے۔ ان عرب ممالک میں خلیج کے ممالک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ لبنان، عراق اور یمن بھی شامل ہے۔
لبنان کے لیے یہ پوزیشن سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ لیکن لبنان ہرگز اکیلا نہیں ہے۔ امریکہ کے زیر پرستی لبنان و اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات مستقبل کی لبنانی ریاست کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہی مذاکرات کے توسط سے لبنان اپنی خود مختاری اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا متلاشی ہے لیکن یہ مذاکرات اس وقت تک لبنان کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں جب حزب اللہ کو لبنان میں اہم 'ایکٹر' کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ کیونکہ حزب اللہ کی موجودگی ہی ایرانی پاسداران انقلاب کو اپنا اثر رسوخ مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ ہی ایران کے لیے مذاکراتی چینل کی مارکیٹنگ کا مؤجب بنے گا۔ قطع نظر اس کے کہ یہ مارکیٹنگ براہ راست کرے یا بالواسطہ طور پر۔
حزب اللہ ہی ایران کو یہ باور کرانے میں اہم ہوگا کہ فوجی نقصان کسی بھی صورت میں سیاسی فائدے کے بغیر نہیں ہوگا۔ یوں حزب اللہ تہران کے لیے ایک بار پھر ایک نیا آلہ بننے کی صلاحیت حاصل کر کے اسی ایرانی ریاست کو دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع دے گا جسے کمزور کر دیا گیا ہے۔
عراق بھی ایک واضح ٹیسٹ کیس ہے۔ سرایا السلام کو اگرچہ مقتدا الصدر نے ریاست کے اداروں میں ضم کر دیا ہے۔ لیکن مقتدا الصدر کے اس فیصلے کے بعد دوسرے گروپوں کے لیے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں وفاداری عراقی ریاست کے ساتھ رکھنا ہے یا پاسداران انقلاب کور سے منسلک رہنا ہے۔
اس نئے سوال کے کھڑا ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ قریبی تعلق میں جڑے ہوئے گروہ اپنی فوجی اور سیاسی خود مختاری کو کم ہی توجہ دینا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہی مسئلہ ان 'پراکسیز' کو ان کی حقیقی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ عراقی ریاست ہتھیاروں پر اپنی اجارہ داری چاہتی ہے۔ مگر پاسداران انقلاب ایک مسلح اور متوازی عسکری ڈھانچے کو قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔
اس تناظر میں عراق ایرانی اثر رسوخ کے لیے ایک اہم تر ستون کا درجہ رکھتا ہے۔ جس میں پیش آنے والے واقعات سے یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ امریکہ ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری کے اصول کی حمایت کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے یا امریکی کوشش بھی یہی ہے کہ وہ فوجی قوت کو ریاستی اداروں کے باہر بھی قائم رہنے دے۔
یمن ایرانی 'پراکسی' کے اسی تصور میں ایک بحری 'ایکٹر' کی شناخت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک جنگی دباؤ اور حربے کے طور پر استعمال کیا ہے اسی طرح ایران یمنی حوثیوں کے توسط سے باب المندب کو بھی استعمال کرتا ہے۔ یمنی حوثی صرف اندرونی جنگ کے لیے بروئے کار 'ایکٹر' نہیں بلکہ ایران کے ایسے آلہ کار گروہ کی صورت موجود ہے جو دنیا کے سب سے اہم تجارتی اور توانائی کی راہداری کو اپنے خطرے کی زد میں رکھتا ہے۔
بحیرہ احمر یمنی حوثیوں کے تزویراتی جبر کے ایک اہم سٹیج میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جو ضرورت پڑنے پر ایران کی دباؤ بڑھانے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے۔ لہذا ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کافی نہیں ہوگا جس کے ذیل میں باب المندب نہ آتی ہو اور صرف آبنائے ہرمز کو پیش نظر رکھا جائے۔
امریکہ کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہوگا کہ وہ صرف تہران کو تحمل و برداشت کے لیے کہے جبکہ اس کی 'پراکسیز' اپنی جگہ کشیدگی کے اسباب پیدا کرنے اور بڑھانے کے لیے موجود ہو۔
ایران کی طرف سے کسی بھی جوابی کارروائی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تشویش قابل فہم ہے۔ ایران بالعموم خلیجی ریاستوں کو اپنی جوابی کارروائیوں کے لیے ترجیحاً نشانے پر رکھتا ہے۔ وہ امریکہ کا براہ راست مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی 'پراکسیز' کے ذریعے عربوں کے خلاف متحرک ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے جس قدر یہ یقین ہوگا کہ امریکہ تہران سے معاشی تباہی کا خدشہ محسوس کرے گا ایران اس خدشے کو اور زیادہ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ وہ تاخیری حربوں اور اپنی چالبازیوں سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے پر توجہ دے گا۔
اتفاق سے صدر ٹرمپ کی طرف سے سب سے اہم کارڈ اقتصادی منڈیوں کو یقین دلانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جو کہ امید کو کم ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقتصادی کارڈ سمندری دباؤ سے جڑا ہوا ہے۔ جس میں پاسداران انقلاب کے فنڈز کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے پابندیوں سے مدد ملتی ہے۔ امریکہ کو اپنے اس عبوری معاہدے کے بدلے میں اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے کہ ایران دوبارہ قدم جمانے کی صلاحیت پالے اور بنیادی مسائل التوا میں چلے جائیں۔
اگر صدر ٹرمپ آخر کار کسی معاہدے کی امید رکھتے ہیں جو ایران کو اپنی 'پراکسیز' ترک کرنے پر مجبور کر دے تو سوال یہ ہے کہ اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ تہران بعد ازاں اسی چیز کو قبول کر لے جس سے وہ آج انکار کر رہا ہے۔ اس امر کی بھی کیا ضمانت ہو سکتی ہے کہ پاسداران انقلاب کور اور ایران کی قدس فورس جن کی تشکیل ہی بنیادی طور پر 'پراکسی' کے استعمال کے تصور کے ساتھ ہے وقت، مالی وسائل اور قانونی جواز حاصل کر لینے کے بعد اپنے علاقائی منصوبوں کی تکمیل سے دستبردار ہوجائے۔
اس تناظر میں یہ مسئلہ ہر گز نہیں ہے کہ ایران کےساتھ صدر ٹرمپ مذاکرات کر رہے ہیں۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کور کا یہ یقین بڑھ رہا ہے کہ اسے مذاکرات سے فائدہ ہونے جا رہا ہے۔ کیونکہ صدرٹرمپ کسی فیصلہ کن کارروائی کی قیمت ادا کرنے سے ڈرتے ہیں جبکہ ایران تاخیر کو اپنے لیے مہنگا سمجھتا ہے۔
اس لیے ان مذاکرات کے نتیجے میں ایرانی 'پراکسیز' کو اداراتی شناخت مل جاتی ہے تو ایرانی پاسداران کو وہ سفارتی کامیابی مل جائے گی جو اسے جنگ سے نہیں مل سکی تھی۔ اس کے بر عکس اگر واشنگٹن یہ موقف اپناتا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ایرانی جوہری پروگرام ، میزائل پروگرام، ڈرون پروگرام، اور علاقائی 'پراکسیز' کے امور ایک ساتھ ہی طے کیے جائیں گے اور یہ معاہدے کا فوری حصہ ہوں گے تو یہ امریکہ کی مؤثر حکمت عملی کا اظہار ہو گا۔