ایرانی سلطنت کس قدر بچ سکی؟
آج ایران عرب دنیا میں اپنے کچھ جیو پولیٹیکل مفادات کے بچاؤ کے لیے ایک چیز سے چمت کر رہ گیا ہے۔ وہ چیز یہ ہے کہ جنگی شکست وریخت کے بعد کسی طرح مذاکرات کی میز پر کامیاب ہو جائے۔ اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح عراق اور لبنانی حزب اللہ کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جائے جیسا کہ اس سے قبل شام کے حوالے سے نقصان کا سامنا کر چکا ہے اور یمنی حوثی اس کے ہاتھ سے نکلنے کے قریب ہیں۔ اس صورت حال میں ایران کو واحد امید امریکی انتظامیہ سے ہے کہ وہ اس کی 'بچی کھچی' طاقت اور سیاست کو بچانے میں اس کی مذاکرات کی میز پر مدد کرے گی۔
لیکن عرب دنیا میں کوئی بھی ریاست اپنی وسیع تر بالادستی اور تسلط کو قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ خواہ اس نے اپنی سخت اور نرم دونوں طرح کی طاقت استعمال کی ہو۔ جیسا کہ تین دہائیوں سے تہران اس کوشش میں رہا اور 7 اکتوبر 2023 تک اس کوشش میں رہا یہاں تک حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔
ایران کی مدد سے نصیریت کی فکر اور عسکری اثرات خطے میں مختلف جگہوں پر پھیلتے رہے۔ اس کے باوجود پراکسیوں کو مسلط کرنے اور اپنی من مرضی کی حکومتیں بنانے یا علاقے میں جغرافیائی و سیاسی اثرات بڑھانے میں ناکام رہا اور حتیٰ کہ اتحاد کے نام پر قاہرہ کے شام میں اثرات بڑھانے کا سلسلہ بھی 3 سال سے زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور یہ پہلی ہی بغاوت میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ تاہم ایرانی اثر رسوخ کچھ عرصہ زیادہ چلا کہ اسے فوج کی پشت پناہی حاصل تھی۔ برطانوی سلطنت کے زوال کے بعد سے شام میں ایرانی اثرات موجود رہے۔
تہران کی یہ پیش قدمی اپنی توسیع پسندی کے لیے تھی تاکہ ترکیہ کی سرحدوں اور بحر متوسط کے پانیوں تک پہنچ سکے اور بحیرہ احمر تک اپنے اثرات بڑھا سکے۔
حالیہ مذاکرات میں اس نے اپنی حاصل کردہ توسیع سے زیادہ کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ دنوں کے واقعات کی صورت میں 7 اکتوبر کے فلسطینی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ یہ قیمت شام میں بشار الاسد رجیم کے خاتمے کی شکل میں بھی سامنے آئی کہ بشار الاسد رجیم کے خاتمے کے بعد ایران کے پاس اب لبنان میں حزب اللہ تک پہنچنے کے لیے محفوظ راہداری موجود نہ رہی۔ ایران کا ترکیہ کے ساتھ تزویراتی توازن بھی کمزور ہوا اور اسے دو محاذوں پر نقصان ہوا۔ جن کے توسط سے وہ اس سے قبل اسرائیل کو دیکھ سکتا تھا۔ ان میں جنوبی لبنان اور مغربی شام دونوں شامل ہیں۔
تہران کی سلطنت پراپیگنڈے اور ہتھیاروں پر کھڑی تھی۔ جس نے عربوں کی ایک نسل کی بھی تربیت کرتے ہوئے انہیں یہ باور کرا دیا کہ ایرانی انقلاب کا تشخص مغرب اور صیہونیت کے خلاف مزاحمت کا تشخص ہے۔ لیکن جیسا کہ المتنبی نے کہا تلوار کتابوں کے مقابلے میں زیادہ سچائی ظاہر کرتی ہے اور جیسا کہ نصیریت کی توسیع کے ساتھ ہوا ہے۔ جس نے اپنے آپ کو شام میں شمال تک اور جنوب میں یمن تک پھیلانے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ مشرق میں کویت اور مغرب میں لیبیا تک پھیلانا چاہا۔ لیکن اسرائیلی طاقت نے ایرانی دشمن کی طاقت کو کچل کر رکھ دیا اور علاقائی سطح پر اسرائیل اسے مسلسل پیچھے دھکیلنے میں لگا ہوا ہے۔
ایران کی یہ توسیع پسندی اسرائیل کے ساتھ بھی تصادم کی راہ لیے ہوئے تھی۔ جسے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے نے تیز کر دیا۔ نیز تمام تجاویز کو ایک مشکل میں ڈال دیا۔ ایران ایک کاغذی شیر نہیں تھا۔ لیکن پاسداران انقلاب کی فوجی قوت کے زیر نگیں رہا۔ جسے ایران کے آیت اللہ چلاتے تھے۔ تاہم پاسداران انقلاب کی یہ قوت اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کے مقابلے کی نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس کی فوجی لچک متوقع سے زیادہ رہی۔ ہزاروں میزائل اور ڈرون طیاروں کے ذریعے اس نے اپنے دشمن اسرائیل پر حملے کیے۔ لیکن اسرائیل کے خلاف بڑے اہداف حاصل نہ کیے جا سکے۔
ایران نے فوجی حملوں کے حوالے سے جو کامیابی حاصل نہیں کی ہے، اس کے حکمت کاروں نے اب ایسا منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اس ناکامی کا ازالہ کر سکیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا کارڈ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہرمز کا یہ معاملہ حیران کن نہیں تھا جبکہ خلیجی ملکوں کے خلاف وسیع حملے حیران کن تھے جن کا مقصد ایران کے پیش نظر ان ریاستوں کو یرغمال بنانا تھا۔ ان خلیجی ریاستوں نے بڑی مہارت کے ساتھ اپنے آپ کو جنگ کی نظر ہونے سے دور رکھا اور خود کو میدان جنگ نہ بننے دیا۔ البتہ جنگ سے بچنے کے لیے کچھ نقصانات برداشت کر لیے۔ انہیں احساس تھا کہ بعض امور ان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ جنگ سے بچنے کی کوشش کرے۔
حزب اللہ جو ایک زمانے میں علاقے کے لیے خطرہ تھی اب وہ اپنی بقا کے لیے لڑ رہی ہے۔ اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی سٹریٹیجی اور امن مذاکرات کی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہے۔ اس لیے اس نے جنوبی لبنان کے محاذ پر اپنی گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے اور حزب اللہ کے تمام مضبوط مراکز کو جام کر کے رکھ دیا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل نے لبنان کے دریائے لیطانی کو بھی پیش قدمی کرتے ہوئے عبور کر لیا ہے اور اب وہ صور کی طرف پیش قدمی کی دھمکی دیے ہوئے ہے اور شاید وہ لبنانی دارالحکومت بیروت کی طرف بھی پیش قدمی کا ارادہ رکھتا ہے۔
جنگ شروع ہوئے ایک سو سے زیادہ دن گزر چکے ہیں۔ جبکہ جنگ بندی کو بھی دو ماہ ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں ایران اپنی زیادہ تر آپشنز کو استعمال کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کو ہر روز ہونے والی اس آمدن سے محروم کر دیا ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے تیل اور بندرگاہوں کی وجہ سے فراہم ہوتی تھی۔
جنگ اور اس کے بعد کے حالات سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایران اب جنگ کو جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ حتیٰ کہ اسی ہفتے چند گھنٹوں میں شمالی اسرائیل پر داغے گئے اس کے 10 میزائلوں کا پروپیگنڈا بھی اسی بات کو تقویت دیتا ہے۔
ایرانی رجیم گرد و پیش کے لیے اپنی ایک ایسی تصویر بنانا چاہتی ہے کہ ایران علاقے کی ایک ناقابل تسخیر قوت ہے۔ اب اس کی امید ہے کہ مذاکرات کی میز پر امریکہ سے وہ کچھ حاصل کر لے گا جو اس نے جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا۔
اس کا یہ تاثر دینا کہ وہ نقصان برداشت کر سکتا ہے اور اس نے اپنے علاقوں اور اہداف کا دفاع کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر حالیہ حملے محض اپنی قوت کا ڈرامائی اظہار کرنے کے لیے ہے۔ جو چیز ہر ایک کو پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ایرانی جال میں پھنس سکتی ہے اور ایرانی فریب میں آ کر 24 ارب ڈالر سے زائد کی رقم اسے واپس کر سکتی ہے۔ نیز مذاکرات کے ذریعے امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایرانی بیلیسٹک میزائلوں اور ایرانی پراکسیز کو بھی فی الحال نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ جنگیں تقریباً یقینی ہوں گی۔