امریکہ ایران معاہدہ: ایران کو خوش اور نیتن یاہو کو پریشان کرنے والا؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے۔ ہم وہ منظر نہیں بھول سکتے جب 11سال پہلے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف ویانا کے پیلیس چوبرگ ہوٹل کی بالکونی میں کھڑے ہو کر چھ ملکوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں کے لیے ہاتھ ہلا رہے اور مسکرا رہے تھے۔ ان کی یہ خوشی ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ المعروف'جوائنٹ کمپری ہینسو پلین آف ایکشن' پر دستخط ہونے کے باعث اپنے ملک کو ملنے والی کامیابی اور خوشی کی بدولت تھی۔

یہ ایرانی کامیابی کا ایک منظر تھا۔ اس معاہدے پر امریکہ کے صدر اوباما نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ تمام اہم یورپی ملکوں کے علاوہ چین اور روس نے بھی دستخط کیے تھے۔

لیکن ایران کو آسٹریا کے شہر ویانا میں ملنے والی یہ خوشی مختصر مدتی ثابت ہو گئی۔ ہوا یہ کہ اوباما کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت کر وائٹ ہاؤس میں براجمان ہوئے تو انہوں نے اس معاہدے کو جلدی ختم کر دیا۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک بار پھر رخنہ آ گیا۔ ایرانی بندرگاہیں بند کر دی گئیں۔ اس کے آئل ٹینکرز کا پیچھا کیا جانے لگا۔ بلکہ ایران کو ہر طرف سے اور ہر طرح سے محاصرے میں لے لیا گیا۔

ایران کے ساتھ نیا امریکی معاہدہ ایرانی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف کے درمیان مذاکرات کی شروعات سے ممکن ہوا اور بعد ازاں اس معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ نے دستخط کیے۔ یہ ایک ابتدائی معاہدہ ہے جس کے دو دوماہ کے اندر اندر حتمی تفصیلات پر مبنی معاہدہ ممکن بنائے جانے کی کوشش ہو گی۔ ٹرمپ کو ایک پراپیگنڈہ ٹائپ فتح کی تلاش ہے، تاکہ وہ آنے والے دنوں میں اپنی کامیابی کا ڈھول پیٹ سکیں۔

انہوں نے اس معاہدے کو اسی غرض سے شعوری طور پر پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کا ذریعہ بننے والے معاہدے کی بازگشت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دستخطوں کا اہتمام ورسائیلی محل میں کیا۔ اگرچہ وہ معاہدہ اپنے بعد جنگ عظیم دوم کا ذریعہ بن کر گناہ کے معاہدے کی علامت بن گیا۔

قالیباف صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم پر فتح پانے کی وجہ سے بہت خوشی منا سکتے ہیں کہ اس امریکی ٹیم کی نائب صدر جے ڈی وینس نے قیادت کی۔ جبکہ ان کے ساتھ صدر کے مشیران جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔

تاہم ابھی اس معاہدے کے فریم ورک کے اردگرد کئی ابہام موجود ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ سب سے اہم سوال آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بارے میں نہیں ہے یا ایران کے منجمد کردہ اربوں ڈالر کی واپسی پر بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی ابہام یا سوال ہے کہ ایران کو 300 ارب ڈالر اضافی رقم دی جائے گی۔ لیکن جو چیز اب بھی جاری ہے وہ اس امکان کی ہے کہ وہ ٹوٹ جائے گا۔

اس معاہدے نے ایرانی قیادت کو علاقائی طاقت کے طور پر ایک مرتبہ پھر کھڑا کر دیا ہے۔

جے ڈی وینس کی تھیوری یہ ہے کہ ایرانی رجیم اپنے اس اقتصادی بچاؤ کے ذریعے امن کی بہترین آپشن کی طرف آئے گی۔ بدقسمتی سے یہی بات اس سے پہلے صدر اوباما نے اپریل 2015 میں 'جے سی پی او اے' پر دستخط کرتے ہوئے کہی تھی کہ یہ معاہدہ ایران میں زیادہ معتدل قوتوں کو مضبوط کرنے کا باعث بنے گا۔

لیکن اوباما کی تھیوری جلد ہی غلط ثابت ہو گئی کہ ایرانی رجیم نے اپنے شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن سخت کر دیے اور ملنے والے فنڈز کو اپنی سیاسی فتح کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ قدس فورس جو اس وقت پاسداران انقلاب کور کے سربراہ قاسم سلیمانی کے زیر قیادت تھی اس نے سرحدوں سے باہر پنجے گاڑنے شروع کر دیے۔ عسکری ملیشیاؤں کے ذریعے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنے اثرات کو بڑھانے پر توجہ مبذول کر لی۔

اب بھی ایران اگلے ہفتوں میں دستیاب ہونے والے زیادہ تر وسائل کو اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ہی خرچ کرے گا۔ بجائے اس کے کہ وہ شہریوں کے حالات یا ایرانی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے خرچ کرے۔ کیونکہ ایرانی قیادت کو یہ خوف لاحق ہے کہ اس پر دوبارہ جنگ مسلط کی جا سکتی ہے اور ایرانی رجیم سمجھتی ہے کہ اس کی سیاسی ڈاکٹرائن کو بھی ایرانی فوجی طاقت ہونا چاہیے۔ تہران کی نئی قیادت بحالی کے لیے جمع تفریق کو بھی اپنے دفاعی و جنگی صلاحیتوں کے تناظر میں دیکھے گی اور اپنے منجمد شدہ فنڈز کے ساتھ ساتھ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال میں لانے کی کوشش کرے گی۔

دریں اثناء اسرائیل صورتحال کو ناراضگی سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی اس چوکسی میں بے قراری بھی ہے۔ نہیں لگتا کہ وہ علاقے میں ایران کے ایک بڑٰے علاقائی طاقت بن کر آنے کو قبول کرے گا جو اس کے لیے خطرہ ہو گی۔ اس لیے اسرائیل چاہے گا کہ ٹرمپ پر دباؤ ڈال کر مذاکرات میں چیزوں کو درست کیا جائے۔

اس معاہداتی فریم ورک کو صرف اسرائیل کی طرف سے اعتراضات کا سامنا نہیں رہے گا بلکہ بعض خلیجی ملکوں کی طرف سے بھی اعتراضات اٹھیں گے۔ حتیٰ کہ خود ٹرمپ انتظامیہ میں بھی اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار ہو گا۔

باوجود اس کے کہ اس میں بہت ساری کمزوریاں ہیں لیکن یہ پہلو مثبت ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ فریقین کے لیے جنگ سے دور ہونے میں آسانی کا ذریعہ بنا ہے۔ اس جنگ کو اندرون ملک اور بیرون ملک ہر جگہ سے رائے عامہ کی طرف سے مشکلات کا سامنا تھا۔ معاہدے کے فریم ورک نے فریقین کو یہ موقع بھی دیا ہے کہ وہ حتمی مذاکرات کی تفصیل کی طرف واپس آئیں۔ اگرچہ اس میں ابھی بہت ساری خامیاں موجود ہیں جن کو توجہ نہیں دی گئی ہے اور یہ آنے والے دنوں میں تشویش کا باعث بن سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ مذاکرات کار ایران کی سرگرمیوں اور عسکری استعداد پر قدغنیں لگانے میں کامیاب ہو جائیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بلاشبہ حالیہ دنوں میں نیتن یاہو کی توہین کی گئی ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو اور اسرائیلی رائے عامہ کو نظر انداز کر سکیں۔ ٹرمپ کو امریکی یہودیوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ ری پیبلکن پارٹی کے کاموں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کہ ری پیبلکن کانگریس میں ہونے والے تنازعات میں ان کی پشت پر کھڑے ہونے والے لوگ ہیں۔ یہ سب ہونے والے جوہری معاہدے کے بارے میں اطمینان رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب ایران کو علاقے میں غلبے کی اجازت نہیں دینا چاہیں گے۔

حتمی حاصل یہ ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کا اٹھایا جانا کہ وہ تیل فروخت کر سکے اور اسے 200 ارب ڈالر سالانہ دینا کہ وہ اپنی تعمیر نو کر سکے۔ یہ راستہ بالآخر ایران کو نصف ٹریلین ڈالر دینے کے مترادف ہو گا۔ یہ ایران کو خطے میں اس سے بھی بھاری بھرکم اور ڈراؤنی چیز بنا دے گا جس قدر وہ اس سے پہلے تھا۔

اس معاہداتی فریم ورک کے بعد ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اگر ناکام ہوئے کہ ایران اپنا راستہ بدلے تو یہی لگتا ہے کہ نیتن یاہو دوبارہ سے فوجی و جنگی منظر تخلیق کرنے کے لیے واپس آ جائیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size