.

"برقی وہیل چیئرز" حجاج ومتعمرین کی نئی خدمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے بیت اللہ کے طواف کے لیے آنے والے اللہ کے مہمانوں کی خدمت اور انہیں ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے پروگرام 'من الحرمین الشریفین' کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف توسیع حرم کے منصوبے کے ذریعے مسجد نبوی اور مطاف کو کئی گنا وسعت دے کر حج اور عمرہ کے مناسک کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے وہیں معذور اور معمر مطوفین کی سہولت کے لیے روایتی وہیل چیئرز کی جگہ خود کار برقی وہیل چیئرز کی نئی سہولت مہیا کی گئی ہے۔

روایتی وہیل چیئرز کو چلانا ایک مسئلہ تھا۔ اسے دھکیلنے والے کو بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن پرانی وہیل کرسیوں پر حجاج معتمرین کے طواف کی وجہ سے حجاج کی نقل وحرکت میں بھی اچھی خاصی رکاوٹ پیدا ہوتی تھی۔

مسجد حرام میں طواف وسعی میں حجاج ومعتمرین کی مدد کرنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین امو کے چیئرمین اور ان کے نائین کی جانب سے وہیل چیئرزکی الگ سے انتظامیہ تشکیل دی گئی ہے جو حجاج ومعتمرین کو جدید ترین سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔ برقی وہیل چیئر حکومت کے حسن انتظام اور زائرین حرم مکی کی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہاتھوں سے دھکیلی جانے والی روایتی دستی وہیل چیئر کی وجہ سے زائرین کی معمول کے مطابق آمد ورفت میں مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ روایتی پہیئے والی کرسیاں ان کو دھکیلنے والوں کے لیے ایک بوجھ تھا۔ ان کی جگہ الیکٹرک وہیل چیئرنے نہ صرف زائرین کی آمد ورفت میں سہولت پیدا کردی ہے بلکہ وہیل چیئراستعمال کرنے والوں کو بھی بڑی مشکل سے نجات دلا دی ہے۔

سعی کے دوران الیکٹرک وہیل چیئر کے استعمال کی فیس پانچ ریال مقرر کی گئی ہے جب کہ روایتی وہیل چیئر کے طواف اور سعی دونوں کی مجموعی فیس ایک سو ریال ہے۔ الیکٹرک وہیل چیئر کی رفتار روایتی وہیل کرسیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جدید وہیل چیئر ایک گھنٹے میں آٹھ کلومیٹر تک چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس پر ایک سو ساٹھ کلو گرام اضافی وزن بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کنٹرول کی جانے والی ان وہیل چیئرز کا ابتدائی تجربہ رواں ماہ صیام میں کیا گیا ہے۔ ماہ صیام کے بعد اسے باضابطہ طور پر معتمرین اورحجاج کے لیے مزید وسعت دی جائے گی۔الیکٹرک وہیل چیئر، معذور، بیمار، عمر رسیدہ اور موٹاپے کے شکار لوگوں کے لیے سعودی حکومت کی ایک مثالی تحفہ ہے۔