موصل آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز.. داعشیوں کی لاشیں سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق میں وفاقی پولیس کے کمانڈر رائد شوکت نے جمعرات کے روز "العربیہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موصل شہر کے مشرق میں شدت پسندوں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوئی ہیں جب کہ السلام ، الانتصار ، الوحدہ ، فلسطین اور القدس کے علاقوں میں داعش تنظیم کی دفاعی لائنوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت جمعرات کی صبح موصل آپریشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔

"العربیہ" کے نمائندے کے مطابق موصل شہر سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر کے شہر کے مشرق میں الخازر اور حسن شام کے کیمپوں کی جانب جار رہی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوسرے مرحلے میں موصل کے بائیں کنارے کے تمام علاقے شامل ہوں گے۔ ادھر دیگر باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایام کے دوران داعش تنظیم کے ارکان کی ایک بڑی تعداد دریائے دجلہ میں کشتیوں کو استعمال کرتے ہوئے شہر کے مشرقی حصے کی طرف فرار ہو گئی۔ اس سے قبل شہر میں موجود پانچوں پلوں کو اتحادی افواج کے طیاروں نے بم باری کے ذریعے ناقابل استعمال بنا دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں دائیں کنارے سے بائیں کنارے کی جانب داعش تنظیم کی سپلائی لائن منقطع ہو گئی۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق موصل آپریشن میں بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے عراقی فورسز کی معاونت میں مؤثر کردار ادا کیا۔

عراقی وفاقی پولیس کے کمانڈر رائد شوکت کے مطابق ان کی فورس نے میزائل حملوں اور بھاری گولہ باری کے بیچ موصل کے بائیں کنارے میں سومر ، الصحہ ، الانتصار ، السلام اور صنعتی علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔

اس دوران یہ خبریں بھی ہیں کہ دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد بین الاقوامی اتحاد کے طیارے شدید ضربیں لگا رہے ہیں جب کہ پہلی مرتبہ A10 طیاروں کو بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

عراقی وزارت داخلہ کے زیر انتظام Rapid Reaction Force کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ "ہماری فورسز نے پہلے دس منٹوں کے اندر ہی 500 میٹر تک پیش قدمی کر ڈالی"۔ افسر نے مزید بتایا کہ یہ فورسز الانتصار کے علاقے میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے آپریشن میں تقریبا 1 لاکھ اہل کار حصہ لے رہے ہیں جن میں عراقی فوجی ، کرد سکیورٹی فورسز کے ارکان اور پاپولرز موبیلائزیشن ملیشیا کے گروپ شامل ہیں۔

موصل آپریشن کو 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق میں سب سے بڑا زمینی آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ عراقی فورسز نے عراق میں شدت پسندوں کے آخری بڑے گڑھ موصل شہر کا ایک چوتھائی حصہ واپس لے لیا تاہم اس کی پیش قدمی سست روی کا شکار تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں