.

سعودی عرب اسکولوں کی نصابی کتب میں پہلی مرتبہ خواتین کی تصاویر

نئی کتب میں لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائی اسکول کی انگریزی کی نصابی کتب میں خواتین کی تصاویر شامل کی گئی ہیں۔

سعودی عرب کے 1926ء میں قیام کے بعد سے تمام اسکولوں کی نصابی کتب میں خواتین کی تصاویر شامل کرنے پر پابندی عاید رہی ہے۔ تاہم موجودہ تدریسی سال کے دوران اسکولوں میں تقسیم کی جانے والی نصابی کتب میں پہلی مرتبہ خواتین کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

البتہ خواتین کی تصاویر کی شمولیت تجرباتی مراحل سے گزر رہی ہے اور موجودہ تعلیمی سال کے اختتام پر خواتین کی تصاویر والی کتب کی مکمل طور پر اشاعت کی اجازت ہو گی۔

فی الحال صرف انگریزی کی کتب ہی میں نقاب پوش خواتین کی تصاویر کو شامل کیا گیا ہے اور اسے بھی ایک غنیمت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے نصابی کتب میں خواتین کے صرف خاکے شائع کرنے کی اجازت تھی۔

ہائی اسکول کے تیسرے سال کی انگریزی کی کتاب میں ایک نرس کی تصویر شامل کی گئی ہے۔ اس نے انجکشن لگاتے ہوئے سرپوش اور میڈیکل ماسک اوڑھ رکھا ہے۔ اس فوٹو کے ساتھ مشقی سوال میں طلبہ وطالبات سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ روایتی پیشوں میں مردوں اور عورتوں کی شرح فی صد کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔

اسکول کی کتاب میں ایک لیبارٹری میں کھڑی ایک لڑکی کی تصویر بھی شامل ہے۔ اصل تصویر میں خاتون نے نقاب نہیں اوڑھ رکھا ہے اور اس کا چہرہ ڈھانپنے کے لیے کتاب کے ساتھ اضافی حصہ شامل کیا گیا ہے۔



انگریزی کے نصاب میں صرف خواتین کی تصاویر کی شمولیت ہی پہلی بڑی تبدیلی نہیں ہے بلکہ کتاب میں لڑکیوں اور پیشہ ورانہ زندگی میں ان کے تعلیمی کردار پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔