اسرائیلی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سال 2025 کے دوران 19 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہتھیاروں کی فروخت ممکن بنائی ہے۔ ان برآمد کیے گئے ہتھیاروں میں میزائل، راکٹ اور اسرائیلی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کا یہ بیان منگل کے روز سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیل اب دنیا کے بڑے اسلحہ بیچنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ اس نے دو سال سے زائد عرصے تک غزہ میں جنگ لڑی جس کے نتیجے میں لگ بھگ 75 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان قتل کیے گئے افراد میں زیادہ تر تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔
اسرائیل ان دنوں ایران اور لبنان کو خصوصی نشانے پر رکھتے ہوئے ان کے خلاف جنگی حالت میں ہے۔ اگرچہ امریکہ نے ایک عارضی سی جنگ بندی بھی کر رکھی ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں امریکہ بھی اس کے ساتھ جنگ میں شریک ہے۔
اسرائیل کو غزہ اور ایران جنگ کی وجہ سے دنیا میں اخلاقی حمایت نہیں مل سکی مگر اس کے باوجود کئی ملکوں نے اس سے اسلحہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی وزارت دفاع کے مطابق دوسرے مسلسل سال کے دوران 2025 میں بھی زیادہ بڑی مقدار میں ہتھیار بیچے ہیں۔ یہ رقم 19.2 ارب ڈالر کےلگ بھگ ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران اپنے ہتھیاروں کی برآمد دوگنا بڑھالی ہے۔ یہ اس کے باوجود اسرائیل کی واقعی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ ایران کے ساتھ ماہ جون 2025 میں بھی اور حالیہ ایران جنگ کے دوران اس کا اپنا تیار کردہ فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائل حملوں کو تسلی بخش حد تک روکنے میں ناکام رہا ہے۔
اسرائیلی اسلحے کی فروخت مشرق وسطیٰ میں بھی ابراہم معاہدے میں بعض عرب ملکوں کے شامل ہونے کے بعد بڑھی ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق اس نے یورپی ملکوں کو اسلحہ ڈیلز کے تحت 36 فیصد اسلحہ بیچا، ایشیا پیسفک ریجن کو 32 فیصد اور شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 15 فیصد اسلحہ فروخت کرنے میں کامیاب ہوا۔
مبصرین کے لیے یہ اہم بات ہے کہ اسرائیل کو ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں امریکہ سے اضافی اسلحے اور دفاعی آلات کی ضرورت درپیش رہی ، مزید یہ کہ اسرائیل اب کی بار اکیلے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی بھی ہمت نہ کر سکا تھا ۔ اس کے باوجود اس کی اسلحے کی برآمدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔