.

امریکا کی عراق پر مسلط کردہ جنگ کے نوزائیدہ بچوں پر خوفناک اثرات

سرطان کے مریضوں میں اضافہ،عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکا کی مسلط کردہ جنگ کے دوران اتحادی فوج نے تباہ کن ،مہلک اور خوفناک ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور ان کے اثرات اب نوزائیدہ بچوں کی معذوریوں کے ساتھ یا عجیب الخلقت پیدائش کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف منگل کو جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔جرمن روزنامے ڈیراسپیگل نے بعض عراقی شہریوں کے انٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی شہر بصرہ میں بڑی تعداد میں بچے مردہ حالت میں یا معذوریوں کے ساتھ پیدا ہوئے یا ہو رہے ہیں۔ان میں بعض پیدائشی طور پر سرطان میں بھی مبتلا تھے۔

عراق کے ایک قبرستان کے متولی نے بتایا کہ ''ان کے پاس تدفین کے لیے لائے جانے والے مردہ بچوں میں سے بعض کی صرف ایک آنکھ تھی اوربعض کے دو سر تھے۔ان میں سے ایک بچے کی میمنے کی طرح کی دم تھی۔ایک بالکل معمولی بچہ تھا لیکن اس کا چہرہ بندر جیسا تھا۔ایک لڑکی کی دونوں ٹانگیں جڑی ہوئی تھیں۔وہ آدھی مچھلی اور آدھی انسان لگ رہی تھی''۔

جرمن اخبار نے جرمنی ہی میں ستمبر میں ''بلیٹن آف انوائرمینٹل کانٹیمینیشن اینڈ ٹاکیسکولوجی'' میں شائع شدہ ایک مطالعے کا حوالہ دیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق جنوبی شہر بصرہ میں 1994ء اور 2003ء کے درمیان ناقص الاعضاء یا عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش میں سات گنا اضافہ ہوا تھا اور ہر ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے تئیس عجیب الخلقت تھے۔مغربی شہر فلوجہ میں بھی یہی صورت حال تھی اور وہاں بھی ناقص الاعضاء یا معذوریوں کا شکار بچوں کی پیدائش میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

گلوبل ریسرچ کی رپورٹ کےمطابق :''فلوجہ میں جنگ کے دوران بھاری دھاتوں اور تباہ کن ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی آلودگی میں اضافہ ہوا۔امریکی فوج اپنے ہتھیاروں اور ٹینکوں میں ڈپلیٹڈ یورینیم استعمال کرتی رہی۔دجلہ کے قریب واقع دریائے دجلہ کے ذریعے ان تباہ کن ہتھیاروں کے اثرات زیرزمین پانی تک پہنچ گئے اور علاقے کی فضا بھی آلودہ ہوگئی''۔

امریکی فوج کے استعمال شدہ تباہ کن ہتھیاروں سے کثیف ماحول میں پیدا ہونے والے بچوں کے دماغوں میں پانی کی موجودگی کے کیس بھی سامنے آئے ہیں۔بچوں کے حرام مغز میں ابنارمیلٹی اور کمزور پیدا ہونے والے بچوں کے دودھ کے دانتوں میں جست کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں عراق میں جنگ کے دوران یورینیم کے استعمال کے نتیجے میں مابعد کینسر کے مریضوں میں اضافے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔عراق سے تعلق رکھنے والے ماہرامراض سرطان جواد العلی کا کہنا ہے کہ ''کینسر کا شکار مریضوں کی تعداد میں دگنا ، تین گنا تک اضافہ ہوا ہے اور ایک ہی فرد کے دو،دو اعضاء میں ٹیومرکی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے''۔

انھوں نے جرمن اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''تابکاری (ریڈی ایشن) اور کینسر کے مابین ایک تعلق ہے۔بعض اوقات تابکاری کے اثرات ظاہر ہونے میں دس یا بیس سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اب صرف یہی نہیں ہوا کہ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ ہمارے پاس ایسے مریض بھی لائے گئے ہیں جو بیک وقت گردے اور معدے کے کینسر میں مبتلا تھے اور بعض خاندانوں کے تو تمام افراد ہی اس مہلک مرض کا شکار ہوچکے تھے''۔