.

دمشق ائیر پورٹ کے نزدیک جھڑپوں میں 35 فوجی ہلاک

شام کے بڑے شہروں میں سرکاری فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق اور تیسرے بڑے شہر حمص میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اورباغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور دمشق کے ہوائی اڈے کے نزدیک جیش الحر کے ساتھ جھڑپوں میں پینتیس سرکاری فوجی مارے گئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق جمعرات کو حمص کے علاقے خالدیہ میں باغی جنگجوؤں اور صدر بشارالاسد کی فوج کے درمیان ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی چھڑ گئی ہے۔شامی فوج ٹینکوں کے ساتھ باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہی ہے۔حمص کے ایک اور علاقے بابا عمرو میں بھی متحارب فوجوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

آبزرویٹری نے علاقے میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ بابا عمروکالونی کی شاہراہ برازیل کے آس پاس اسدی فوج اور جیش الحر کے درمیان لڑائی ہورہی ہے اور شامی فوج اس علاقے پر بھی گولہ باری کررہی ہے۔

شامی باغیوں نے گذشتہ اتوار کو بابا عمرو کالونی پر اچانک حملے کے بعد کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان کے اس دعوے کے چند گھنٹے کے بعد ہی شامی فوج نے جنگی طیاروں سے باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی تھی۔۔حمص کے اس علاقے پرشامی فوج نے گذشتہ سال خونریز لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ کرلیا تھا اور اس کے ساتھ جھڑپوں میں سیکڑوں باغی جنگجو مارے گئے تھے۔

ادھر دارالحکومت دمشق میں شہر کو بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ملانے والی شاہراہ اور دوسرے علاقوں بیت سحم ،اقربا اور جرمانہ میں جیش الحر کے جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور ان میں پینتیس فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

باغی جنگجو گذشتہ کئی ماہ سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہر بار انھیں سرکاری فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔یہ شاہراہ دمشق حکومت کے بیرونی دنیا سے رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔اگر جیش الحر کا اس پر قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور بے گھر ہونے والے شامیوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق دس لاکھ شامی بے گھر ہو کر دوسرے ممالک میں جاچکے ہیں،لاکھوں اندرون ملک دربدر ہیں اور روزانہ ہزاروں افراد اپنا گھربار چھوڑ کر بیرون ملک جا رہے ہیں۔