ذہین افراد دوسروں سے کم ملنے جلنے سے زیادہ خوش کیوں ہوتے ہیں: 10 وجوہات
لوگ جتنا زیادہ دوسروں سے ملتے جلتے اتنے ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں، یہ عام تاثر سب پر لاگو نہیں ہوتا
برٹش جرنل آف سائیکالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ آئی کیو (ذہانت) والے لوگ اس وقت زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں جب وہ دوسروں سے کم ملتے جلتے ہیں۔ وہ ایسا خاص طور پر تنہا وقت گزارنے اور متحرک کرنے والی گفتگو کو ترجیح دینے کی وجہ سے کرتے ہیں۔ وہ عام باتوں اور سطحی تعاملات سے آسانی سے متاثر نہیں ہوتے، چاہے وہ کھلے ذہن کے ہی کیوں نہ ہوں اور انہیں تحفظ اور نفسیاتی سکون محسوس کرنے کے لیے ان تعاملات کی ضرورت ہو۔ ویب سائٹ ’’ یوور ٹینگو ‘‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر ان کی تنہائی کی قدر کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان وجوہات میں یہ اہم ہیں۔
1۔ بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت
اگرچہ ذہین لوگ باہمی تعاون کے ساتھ سوچنے اور دوسروں کے خیالات اور آراء کو مدنظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کو کسی حل تک پہنچنے سے پہلے پیچیدہ موضوعات پر غور کرنے کے لیے مزید وقت اور جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہتر فیصلے کرنے کے لیے انہیں سماجی خلفشار سے دور جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ کھلے ڈیزائن والے مصروف کاروباری دفاتر میں ہوتے ہیں اور بہت سی باتوں اور آراء سے ان کی توجہ بھٹکتی ہے تو قدرتی طور پر ان کے کسی تیز حل تک پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
انہیں اس امن اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سکون ان کا تنہا وقت مسئلے کے ہر پہلو پر غور کرنے اور اچھی طرح سوچنے کے لیے فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکیلے زیادہ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
2- دوسروں کو کام سونپنے میں دشواری
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سلوان سکول آف مینجمنٹ کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ پیچیدہ مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں جب وہ چھوٹے گروپوں میں کام کرتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے لیکن یہاں تک کہ ذہین ترین لوگوں کو بھی دوسروں کو کام اور ذمہ داریاں سونپنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذہین لوگ سماجی میل جول میں کم وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی کام کو منتقل کیے بغیر منصوبے بنا سکتے ہیں اور اپنی ذاتی دلچسپیوں پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ عام طور پر مدد مانگنے کی صلاحیت کے بغیر تھکن اور کام کی کثرت کا باعث بنتا ہے لیکن وہ اس وقت زیادہ بااختیار اور کنٹرول میں محسوس کرتے ہیں جب انہیں کسی مسئلے کو حل کرنے یا کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے کسی دوسرے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
3- گہری سوچ کی صلاحیت
ذہین لوگ گہری سوچ کی صلاحیت کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایسے ذہنوں کے مالک ہوتے ہیں جو پیچیدہ مسائل کو پروسیس کرنے اور دلچسپ مکالموں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم معاصر معاشرے میں وہ شاذ و نادر ہی عام گفتگو اور ضمنی باتوں میں اس قسم کے معنی اور گہرائی پاتے ہیں۔ اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ اکیلے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
یقیناً ان کے قریبی دوست یا زندگی کا ساتھی ایسا ہوتا ہے جو ان کی سوچ کی گہرائی اور پیچیدگی کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اکثر اوقات دوسرے لوگ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتے۔ وہ دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی خاطر موضوعات اور زبان کو آسان بنانے کے دباؤ کو محسوس کرنے کے بجائے اکیلے وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
4- تھکا دینے والے تعامل سے بچاؤ
چونکہ بہت سے اعلیٰ ذہانت کے حامل لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ اکیلے وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جیسا کہ سائنٹیفک رپورٹس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں واضح کیا گیا ہے۔ انتہائی حساس لوگ سماجی تعاملات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تھکن کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ وہ غیبت اور شکایت سے وابستہ جذبات کو جذب اور تجزیہ کرنے کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں جو انہیں مزید تھکا دیتا ہے۔
وہ نفسیاتی بیماریوں بشمول بے چینی کا شکار ہونے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ حالات کے بارے میں حد سے زیادہ سوچنے اور ضرورت سے زیادہ تجزیہ کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں جو سماجی ماحول میں ان کی توانائی کو نچوڑ لیتا ہے۔ وہ دوسروں سے ملے جلے بغیر زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ ان تعاملات کا انتخاب کرنے کے اہل ہوتے ہیں جو واقعی انہیں متحرک کرتے ہیں۔ وہ اس طرح کے تعاملات سے گریز کرتے ہیں جو ان کی توانائی کو ختم کردے۔
5- آرام کے لیے وقت مختص
سلیپ ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اعلیٰ ذہانت کے حامل لوگ عام انسان کے مقابلے میں نیند کی کمی کا شکار ہونے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ اس لیے یقیناً انہیں آرام کرنے کے لیے مزید وقت اور ذاتی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر اگر وہ انٹروورٹ ہونے کی طرف مائل ہوں تاکہ جب وہ بیرونی دنیا میں نکلیں تو ذہنی تھکن، ذہنی الجھن اور توجہ کے بکھراؤ سے بچ سکیں۔ وہ دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کرنے یا ایسے منصوبوں پر رضامند ہونے کا دباؤ محسوس کیے بغیر جن میں وہ شرکت نہیں کرنا چاہتے، اپنی سرگرمی کو بحال کر سکتے ہیں اور آرام کر سکتے ہیں۔
6- بغیر کسی خلفشار کے تخلیقی صلاحیت
انٹیلیجنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ تخلیقی صلاحیت ذہانت سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ عام طور پر دماغ کے وہی حصے ان دونوں کے درمیان ثالثی کرتے ہیں۔ ایک تخلیقی شخص کو روزانہ اس چیز کے ایک حصے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی خاص طور پر اس کے ذہین ہم منصبوں کو ضرورت ہوتی ہے یعنی سستی اور تنہائی۔ خاموشی سے بیٹھنے اور کچھ نہ کرنے کا لطف اٹھانے کی جگہ کے بغیر تخلیقی لوگ جدید طریقے سے نہیں سوچ سکتے۔ ذہین لوگ مزید گہرائی میں جا کر تخلیقی حل تک نہیں پہنچ سکتے۔ یقیناً وہ اس وقت زیادہ خوش ہوتے ہیں جب وہ دوسروں سے میل جول کم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ اس قسم کی محرک سوچ کے لیے جگہ بناتے ہیں جو ان کی زندگی کو حقیقی معنی بخشتی ہے۔
7- خاموشی کی قدر
کچھ لوگ خاموشی سے دور بھاگنے والے ہو سکتے ہیں اور تنہائی سے بچنے کے لیے اپنا وقت خلفشار سے بھرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم ذہین لوگ واقعی تنہائی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سکون کی اچھی خوبیوں کی قدر کرتے ہیںچاہے انہیں ایسا کرنے کی وجہ سے اکثر مغرور ہی کیوں نہ سمجھا جائے۔ اگرچہ ان کا تنہائی کی طرف رجحان کبھی کبھار اکیلے پن کے احساس میں بدل سکتا ہے لیکن خاموشی کی ان کی قدر اکثر اوقات ان کے سوچنے کے عمل کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
8- چھوٹے سماجی نیٹ ورک کا رجحان
بہت سے ذہین لوگ کم تعداد میں لیکن زیادہ گہری اور بامنی دوستیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے قریب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں وہ منتخب کرتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کا بہترین انتخاب کرتے ہیں کہ وہ اپنا وقت اور کوشش کیسے گزاریں۔ وہ توجہ حاصل کرنے یا بہت سے تعلقات بنانے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے بلکہ وہ سنجیدگی سے ایسی دوستیوں اور تعلقات کو پروان چڑھاتے ہیں جو ان کے ذہنوں کو متحرک کرتے ہیں اور ان کی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔
9- بڑے ذاتی اہداف
ان لوگوں کے مقابلے میں جو صرف خلفشار اور بیرونی توثیق کی پرواہ کرتے ہیں۔ اعلیٰ ذہانت کے حامل لوگ بڑے اہداف، خوابوں، خیالات اور مقاصد میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ میں اپنا وقت اور توانائی لگانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بڑے اور متحرک اہداف ہوتے ہیں جنہیں حاصل کرنے کی وہ کوشش کرتے ہیں۔
10- مخصوص دلچسپیاں
بہت سے ذہین لوگ ان لوگوں کے ساتھ گہرے اور بامنی تعلقات رکھتے ہیں جو ان کے ساتھ یکساں دلچسپیاں اور مشاغل شیئر کرتے ہیں۔ لیکن وہ اکثر ان کے اپنے نجی وقت کا محور ہوتے ہیں۔ وہ شاذ و نادر ہی ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جو حقیقت میں ان جیسا ہی جذبہ رکھتے ہوں۔ اس لیے وہ اپنا وقت گھر پر گزارتے ہیں اور اکیلے ان مخصوص دلچسپیوں میں مگن رہتے ہیں۔