.

مسعود بارزانی کردستان میں غیرپابند آزادی ریفرینڈم کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خود مختار عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ایک مرتبہ پھر اپنے زیرنگیں علاقے میں آزادی کے سوال پر غیر پابند ریفرینڈم کے انعقاد پر زوردیا ہے۔

وہ ماضی میں بھی خود مختار کردستان میں ریفرینڈم کرانے کی بات کر چکے ہیں لیکن انھوں نے اس کے لیے کوئی نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہے۔انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''اب وقت آگیا ہے اور صورت حال بھی مناسب ہے کہ کرد عوام ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کریں''۔

ان کے بہ قول:''اس ریفرینڈم کا مقصد آزاد ریاست کا قیام نہیں ہے بلکہ اس سے کرد عوام کی آزادی کے بارے میں رائے اور منشا جاننا مقصود ہے اور اس بات کا بھی پتا چلایا جائے گا کہ آیا کرد قیادت کسی مناسب وقت اور حالات میں عوام کی منشاء کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے''۔

مسعود بارزانی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''اگر کردستان کے عوام کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو انھیں حق خود ارادیت تھالی میں ڈال کر تحفے کے طور پر دے گا تو پھر انھیں آزادی کبھی نصیب نہیں ہوگی۔یہ حق موجود ہے اور کردستان کے عوام کو اس کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہنانا چاہیے''۔

''جس طرح اسکاٹ لینڈ ،کاتالونیا اور کیوبک اور دوسری جگہوں پر لوگوں نے اپنے مستقبل کا تعیّن کرنے کے لیے حق خود ارادیت کا اظہار کیا ہے،اسی طرح کردستان کو بھی یہی حق استعمال کرنا چاہیے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا''۔ان کا مزید کہنا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران عراقی کردوں نے زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کردستان سے ترکی تک ایک پائپ لائن نصب کی ہے اور آزادانہ طور پر تیل برآمد کررہے ہیں کیونکہ ان کے بغداد حکومت کے ساتھ اختیارات اور مالی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔اس وقت خود مختار کردستان کو عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے معاشی مسائل کا سامنا ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

علاقائی قوتیں کردوں کی آزادی کے لیے امنگوں کو عملی جامہ پہنانے کی مخالفت کرتی چلی آرہی ہیں۔خاص طور پر عراق کے وہ پڑوسی ممالک اس کے حق میں نہیں ہیں جن کے ہاں کرد اقلیت میں آباد ہیں کیونکہ اس سے خود ان کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔امریکا کا بھی کہنا ہے کہ وہ کردوں کو عراق ہی کا بدستور حصہ دیکھنا چاہتا ہے۔

بعض تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزادی کا مطالبہ دراصل کردستان کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے اور مسعود بارزانی کے لیے کردوں کی حمایت حاصل کرنا ہے کیونکہ بطور صدر ان کا مینڈیٹ تو گذشتہ سال ختم ہوگیا تھا لیکن ابھی تک وہ اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔