ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر کسی نئے بحری تجارتی راستے کے اعلان کو قبول نہیں کیا جائے گا، ایسا اقدام خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کا محفوظ گزر صرف ان بحری راستوں کے ذریعے ممکن ہے جو ایرانی حکام کی جانب سے مقرر اور منظور شدہ ہیں۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی بحری مواصلاتی چینل (چینل 16) پر ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی لازمی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جو بھی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں رائج ہدایات اور ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا، اسے ایران کی جانب سے مناسب کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے قواعد و ضوابط کی پابندی خطے میں بحری سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
عارضی بحری راہداری
ایران کی جانب سے یہ انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب سلطنتِ عمان نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند تمام بحری جہازوں کے لیے ایک عارضی بحری راہداری (میرین کوریڈور) استعمال کرنے کا اختیار فراہم کیا جا رہا ہے۔
عمانی حکومت نے کہا کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنی ذمہ داری، عالمی معیشت کے لیے اس کی اہمیت اور بین الاقوامی قانون اور قانونِ سمندر کے اصولوں سے وابستگی کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عمان نے واضح کیا کہ اس عارضی بحری راہداری کے استعمال پر کسی قسم کی راہداری فیس یا محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔
عمانی حکام کے مطابق یہ اقدام ان کوششوں اور سفارتی مساعی کے نتائج کے مطابق ہے ،جن پر امریکہ اور ایران کے درمیان اتفاقِ رائے سامنے آیا تھا۔
عمانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس عارضی بحری راستے کی تیاری بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے کی گئی ہے۔ یہ راہداری ان جغرافیائی نقاط اور رہنما اصولوں کے مطابق قائم کی گئی ہے جن کا اعلان آئی ایم او اور عمان کے متعلقہ حکام نے کیا تھا۔
عمان نے مزید کہا کہ جو بحری جہاز اس عارضی راہداری کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، انہیں سفر سے قبل بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور متعلقہ حکام کے ساتھ ضروری رابطہ اور پیشگی ہم آہنگی کرنا ہوگی، تاکہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور سمندری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران اور امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشاورت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان مذاکرات کا مقصد 60 روزہ مدت کے اندر، جس میں توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے، ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی کئی اہم معاملات پر گہرے اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا مستقبل سرفہرست ہیں۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق کئی ماہ کی بندش کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس بندش کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر راہداری فیس عائد کی جائے گی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اہم اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کا نظام جنگ سے پہلے والی صورتحال پر واپس نہیں جائے گا اور آئندہ اس کے لیے نئے ضوابط اور انتظامات نافذ کیے جائیں گے۔