.

روسی ملکہ حسن کو اس کے دوست نے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی ایک سابق ملکہ حسن 'اولگا شلیامینا' کو اس کے دوست نے غیرت کےنام پر بے دردی کے ساتھ قتل کرنے کے بعد اس کی لاش نوفوڈ فینک کے جنگل میں برف میں پھینک دی۔ دو بچوں کی ماں مقتولہ شلیا مینا کے قاتل کے ساتھ کئی سال سے گہرے مراسم تھے۔ خاتون کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے اس کےدوست کو گرفتار کرلیا ہے جس نے پولیس کی تفتیش کےدوران سابقہ ملکہ حسن کا سر قلم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس واقعے کے منظر عام پرآنے کے بعد روسی عوام میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق روسی ملکہ حسن کے قاتل کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دوست کی کامیابیوں کی وجہ سے اس کے ساتھ حسد کرنے لگا تھا۔ اسے ایسے لگ رہا تھا کہ ملکہ حسن بننے کے بعد وہ دوسرے مردوں کے ساتھ بھی راہ و رسم بڑھائے گی جس پراس نے اسے موت کے گھاٹ اتاردیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق 33 سالہ سابق ملکہ حسن دو بچوں کی ماں ہیں۔ اس کی لاش شہر کے شمال مغرب میں ایک جنگ میں برف سے برآمد ہوئی۔
چالیس سالہ ملزم فیاچیسلاف نے کہا ہے کہ اس نے شلیامینا کو ایک ضرب لگائی تھی جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

گذشتہ کچھ عرصے سے شلیامینا اور اس کے دوست کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔ اولگا نے پہلے دو شادیاں کیں جوکہ ناکامی سے دوچار ہوئی تھیں۔