مصر اور بھارت کا تزویراتی شراکت داری اور سلامتی میں تعاون پر معاہدہ

دونوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے جامع نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت اور مصر نے دنیا کو درپیش مختلف مسلسل بحرانوں اور چیلنجوں سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے کے لیے مشترکہ مفادات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بھارت اور مصر کے وفود نے جمعرات کو مشترکہ تشویش کے معاملات ، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں صدور نے اپنے تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا جو سیاسی، سیکورٹی، دفاع، توانائی اور اقتصادی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ دونوں فریقوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا ۔ ایک ایسا نقطہ نظر جس میں نوجوانوں میں انتہا پسندی کے بیج بونے اور مذہبی مراکز کے ذریعہ دہشت گرد کیڈرز کو بھرتی کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کو روکنا بھی شامل ہے۔

دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، بین الاقوامی قانون، غیر وابستہ تحریک کی بنیادی اقدار اور تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے دو طرفہ اور کثیر الجہت شعبوں پر باقاعدہ مشاورت اور رابطہ کاری کے ذریعے ان بنیادی اصولوں کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

بھارت اور مصر نے تجارتی اشیا کے لین دین میں تنوع پیدا کر تے ہوئے اگلے پانچ سالوں میں باہمی تجارت کے حکم کو 12 بلین ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے امکان پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ مصر میں بھارتی سرمایہ کاری وسعت پا کر 3.15 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جس کا خیر مقدم کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے اپنے ہاں میں کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ دوسرے ملک میں ابھرتے ہوئے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں